Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

کالمز

قلعے جیسے گھر سے سیف روم تک صدر مادورو کو پکڑنے کے لیے امریکی کارروائی کی کہانی

قلعے جیسے گھر سے سیف روم تک صدر مادورو کو پکڑنے کے لیے امریکی کارروائی کی کہانی

تحریر:حامد اقبال راؤ امریکہ میں ہفتے کے روز علی الصبح چار بج کر اکیس منٹ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل کے ذریعے اعلان کیا کہ ایک جرات مندانہ امریکی آپریشن کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔اس اعلان کے تقریباً سات گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے ایک تصویر شیئر کی جس میں نکولس مادورو کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی، وہ اسپورٹس لباس میں ملبوس تھے اور ان کے ہاتھ میں پانی کی بوتل نظر آ رہی تھی۔ صدر ٹرمپ…
Read More
ڈاکٹر… مظلوم یا ظالم؟

ڈاکٹر… مظلوم یا ظالم؟

تحریر :علی حسن پاکستان کے ہر شہر کے کسی نہ کسی اسپتال کے باہر دو منظر ہمیشہ ملتے ہیں ایک طرف ایمرجنسی میں بھاگ دوڑ کرتے ڈاکٹر، اور دوسری طرف غم و غصے میں جھلستے ہوئے لوگ۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہوں ۔حالانکہ دونوں ہی زندگی اور موت کی لڑائی میں شامل کردار ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر کو ظالم کس نے بنا دیا؟ کیا وہ واقعی بے حس ہے، یا پھر ہمارا معاشرہ اس پر الزام کا بوجھ لاد کر اپنی ذمہ داریوں سے بری ہو جاتا ہے؟ جذباتی معاشرے کا…
Read More
ایران کی خشک سالی پاکستان کا آئینہِ عبرت

ایران کی خشک سالی پاکستان کا آئینہِ عبرت

ایران اِن دنوں اپنی تاریخ کی بدترین خشک سالی سے گزر رہا ہے۔ تہران جیسے بڑے شہر میں پانی کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو گئے ہیں۔ دریاؤں کا بہاؤ رک گیا ہے، ڈیم خالی ہو رہے ہیں، اور لاکھوں لوگ پانی کی قلت سے دوچار ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے، کیا یہ صرف ایران کا مسئلہ ہے؟ نہیں! یہ پاکستان کے لیے ایک الارم ہے۔ پاکستان اور ایران کی آب و ہوا تقریباً ایک جیسی ہے۔ دونوں ممالک بارشوں پر انحصار کرتے ہیں، دونوں میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور دونوں کے زیرِ زمین پانی کو…
Read More
رشتے… جو نبھتے ہیں، جیتے نہیں

رشتے… جو نبھتے ہیں، جیتے نہیں

زیرِ لب – قسط چہارم تحریر: غلام مرتضی رشتے… عجیب سا لفظ ہے۔ کبھی نرم، کبھی نوکیلا۔ کبھی سینے میں اطمینان بھرتا ہے، تو کبھی سانس روک دیتا ہے۔ ایک وقت تھا جب رشتوں میں روح ہوتی تھی، آج وہ صرف جسموں اور ذمہ داریوں کا بوجھ بن گئے ہیں۔ ہم رشتے جیتے نہیں، بس نبھاتے ہیں  جیسے کوئی فرض ہو، جیسے کوئی قرض ہو، جیسے کوئی ہدایت ہو جو پوری کیے بغیر ہم گناہگار کہلائیں گے۔ ہم روز رابطے کرتے ہیں، مگر ربط نہیں بنتا۔ کالز، میسیجز، ویڈیوز، لائکس، تبصرے  سب کچھ ہے، مگر ایک سچّا تعلق کہیں گم…
Read More
جب میں، میں نہیں رہتا

جب میں، میں نہیں رہتا

✍️ زیرِ لب – قسط سوم تحریر؛غلام مرتضی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی آئینے میں خود کو دیکھتا ہے...اور پہچان نہیں پاتا۔نہ چہرہ اپنا لگتا ہے،نہ آنکھوں کی روشنی وہی ہوتی ہے،اور نہ ہی مسکراہٹ میں وہ خلوص رہتا ہے۔بس ایک خالی پن ہوتا ہے ۔جیسے کوئی اندر سے رفتہ رفتہ ختم ہو رہا ہو،مگر دنیا کی نظروں میں ابھی تک "ٹھیک" ہے۔یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنے آپ سے بچھڑ چکا ہوتا ہے۔ ہم کیا تھے، اور کیا بن گئے؟ ہم سب نے زندگی میں وہ لمحے جھیلے ہیں جہاں ہم نے خود کو بدلتے…
Read More
تھک گیا ہوں

تھک گیا ہوں

تحریر:غلام مرتضی کل رات دیر تک نیند نہیں آئی۔ایسا اکثر ہوتا ہے جب دن بھر کی مصروفیت گزرنے کے بعد انسان اپنے آپ سے ملتا ہے۔خاموشی میں، اندھیرے میں، روشنی سے دور...اور وہاں صرف ایک ہی آواز ہوتی ہے   اندر کی۔وہ جو سارا دن دبی رہتی ہے، مصروفیات کے نیچے، تعلقات کے نیچے، خبروں اور سرخیوں کے نیچے۔مگر رات کے آخری پہر میں، وہ دھیرے سے کان کے قریب آتی ہے اور پوچھتی ہے:"تو خوش ہے؟" کیا ہم خوش ہیں؟کبھی سوچا ہے؟یا خوشی بھی اب محض ایک پوسٹ ہے جس پر تبصرے آتے ہیں:"ماشاءاللّٰہ""دل خوش ہو گیا""کاش ہم بھی وہاں…
Read More
زیرِ لب

زیرِ لب

تعارفِ سیریز: "زیرِ لب" تحریر: غلام مرتضی کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو نہ کہی جاتی ہیں، نہ سنی جاتی ہیں — مگر دل میں دیر تک گونجتی ہیں۔ایسی ہی باتوں کو لفظوں کا روپ دے کر ہم پیش کر رہے ہیں "زیرِ لب" کے عنوان سے ایک سلسلہ وار کالم،جہاں باتیں ہوں گی  کہی ہوئی، ان کہی، سنی ہوئی، سہنی ہوئی۔ "زیرِ لب" صرف ایک کالم نہیں، ایک کیفیت ہے۔یہ اُن احساسات کی ترجمانی ہے جو ہمارے روزمرہ کے شور میں کہیں دب جاتے ہیں– سیاست کے تلخ لمحات،– سماج کی بدلتی سوچ،– رشتوں کے نرم کونے،– یادوں کی…
Read More