تحریر :علی حسن
پاکستان کے ہر شہر کے کسی نہ کسی اسپتال کے باہر دو منظر ہمیشہ ملتے ہیں
ایک طرف ایمرجنسی میں بھاگ دوڑ کرتے ڈاکٹر، اور دوسری طرف غم و غصے میں جھلستے ہوئے لوگ۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہوں ۔حالانکہ دونوں ہی زندگی اور موت کی لڑائی میں شامل کردار ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر کو ظالم کس نے بنا دیا؟
کیا وہ واقعی بے حس ہے، یا پھر ہمارا معاشرہ اس پر الزام کا بوجھ لاد کر اپنی ذمہ داریوں سے بری ہو جاتا ہے؟
جذباتی معاشرے کا فیصلہ
یہ قوم جذبات سے بنتی ہے، شعور سے نہیں۔
مریض کی موت پر غم تو فطری ہے، مگر اس غم کو الزام میں بدلنے کا عمل ہماری معاشرتی کمزوری ہے۔
ہم بیماری کی شدت، تاخیر اور ممکنہ پیچیدگیوں کو جاننے کے بجائے فیصلہ سناتے ہیں:
’’ڈاکٹر نے غفلت کی، ڈاکٹر نے مار دیا‘‘۔
شاید اس لیے کہ ڈاکٹر سامنے ہوتا ہے، اور سامنے موجود شخص کو الزام دینا ہمیشہ آسان ہوتا ہے۔
کمزور نظام… مگر سزائیں ڈاکٹر کے نام
پاکستان کا صحت کا ڈھانچہ ایک ایسا بوسیدہ پل ہے جس پر دوڑنے کا حکم ڈاکٹر کو بھی دیا جاتا ہے اور عوام سے بھی کہا جاتا ہے کہ اس پر بھروسہ کریں۔
سرکاری اسپتالوں میں:
ایک ڈاکٹر پر درجنوں مریض
آلات ناکافی
دوائیں کم
وارڈ بھرے ہوئے
نرسنگ اسٹاف کم
وقت کم، دباؤ زیادہ
ایسے ماحول میں غلطی نہیں، غلط فہمی جنم لیتی ہے۔
ڈاکٹر سے توقع یہ کی جاتی ہے کہ وہ بہادری دکھائے، مگر نظام اسے کام کرنے کے لائق چھوڑتا ہی نہیں۔
مگر عوام کی ناراضی—صرف ڈاکٹر کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔
نجی اسپتالوں کا کاروباری چہرہ: ’’پیسہ نہیں تو رحم بھی نہیں‘‘
یہ بھی حقیقت ہے کہ نجی اسپتالوں نے علاج کو کاروبار بنا دیا ہے۔
چند فیصد ڈاکٹر اور منتظمین نے کمییشن، غیر ضروری ٹیسٹ، مہنگے علاج اور مصنوعی خطرات کے ذریعے ایک ایسا تاثر پیدا کر دیا کہ لوگ سمجھنے لگے:
’’ڈاکٹر خوف بھی بیچتے ہیں اور علاج بھی‘‘۔
یہ چند غلط کردار پورے میڈیکل پیشے کو بدنام کر گئے،
اور نتیجہ یہ ہوا کہ جو ڈاکٹر اپنی پوری جوانی انسانوں کی خدمت پر لگا دیتا ہے،
اسے بھی شک کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔
انسانیت کی تربیت… جو نصاب سے غائب ہوگئی
یہ تلخ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ پاکستانی میڈیکل تعلیم میں اخلاقی اور جذباتی تربیت شامل ہی نہیں۔
ڈاکٹر کو جسم کے تمام اعضاء پڑھائے جاتے ہیں،
مگر انسان کے جذبات، اس کے دکھ، اس کی کیفیت، اس کا خوف یہ کچھ نہیں پڑھایا جاتا۔
اس لیے بہت سے ڈاکٹر، باوجود نیت کے صاف ہونے کے،
بات چیت میں سخت،
لہجے میں بھاری
اور رویّے میں سرد محسوس ہوتے ہیں۔
یہ بدتمیزی نہیں، تربیت کی کمی ہے۔
مگر مریض اسے ظلم سمجھ لیتا ہے۔
’’ایک ویڈیو پوری قوم پر چھا جاتی ہے‘‘
ایک ویڈیو، ایک چیخ، ایک واقعہ…
پورے پاکستان کے لاکھوں ڈاکٹر یک دم ملزم بن جاتے ہیں۔
کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ روزانہ کتنے ڈاکٹر:
چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد بھی کھڑے رہتے ہیں،
اپنی صحت قربان کر کے دوسروں کو بچاتے ہیں،
کٹی ہوئی تنخواہ میں بھی ایمرجنسی چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
مگر بدنام وہی ہوتے ہیں جن کی ویڈیو وائرل ہوتی ہے۔
عوام کی لاعلمی — بیماری کو سمجھنے کا شعور نہیں
ہمارے معاشرے میں طبی آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔
بہت سے مریض آخری اسٹیج پر اسپتال لائے جاتے ہیں،
مگر لواحقین توقع رکھتے ہیں کہ ڈاکٹر الٰہٰی معجزہ دکھائے گا۔
اور جب ایسا نہیں ہوتا تو نتیجہ ایک ہی ہوتا ہے
الزام۔
یہ لاعلمی کئی خاندانوں کو نفرت کی طرف دھکیل دیتی ہے۔
نتیجہ: ڈاکٹر ظالم نہیں… ہم سب مجرم ہیں
پاکستان میں ڈاکٹر اور مریض کے درمیان جو کشمکش ہے،
وہ دراصل ایک ٹوٹے ہوئے نظام کی پیداوار ہے۔
نظام ناکارہ
تربیت ادھوری
سوشل میڈیا بے لگام
نجی اسپتال بے رحم
عوام لاعلم
ریاست غیر ذمہ دار
ایسے میں الزام صرف ڈاکٹر پر نہیں، ہمارے پورے معاشرے پر ہے۔
ڈاکٹر ظالم نہیں
ڈاکٹر بھی اسی نظام سے زخمی ہے جس سے مریض زخمی ہے۔
جب ہم یہ سمجھ لیں گے،
تب شاید ہمارے اسپتال جنگ کا میدان نہیں،
انسانیت کا بستر بن جائیں۔
