Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

صحافتی تنظیمیں آج تک متحد کیوں نہ ہو سکیں؟

بہت سی صحافتی تنظیمیں دانستہ یا نادانستہ طور پر سیاسی نظریات کے زیرِ اثر نظر آتی ہیں
صحافتی تنظیمیں آج تک متحد کیوں نہ ہو سکیں؟

 

تحریر: حامد اقبال راؤ، کالم نگار
صحافتی تنظیمیں آج تک متحد کیوں نہ ہو سکیں؟

پاکستان میں صحافت صرف خبر رسانی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل جدوجہد کی علامت رہی ہے۔ اس شعبے سے وابستہ افراد نے ہر دور میں دباؤ، قدغنوں، معاشی مسائل اور جان کے خطرات کا سامنا کیا۔ اس کے باوجود آج بھی ایک تلخ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ صحافیوں کی نمائندہ تنظیمیں اب تک حقیقی اتحاد قائم کرنے میں ناکام کیوں دکھائی دیتی ہیں؟

اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ صحافتی تنظیموں کے اندر موجود انتشار اور انفرادی مفادات ہیں۔ بدقسمتی سے اکثر تنظیمیں اجتماعی سوچ کے بجائے چند شخصیات کے گرد گھومتی رہی ہیں۔ قیادت حاصل کرنے کی دوڑ نے اصولی مؤقف کو پسِ پشت ڈال دیا، جس کے باعث صحافیوں کے بنیادی مسائل ثانوی حیثیت اختیار کر گئے۔

سیاسی وابستگیاں بھی اس تقسیم کو گہرا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ بہت سی صحافتی تنظیمیں دانستہ یا نادانستہ طور پر سیاسی نظریات کے زیرِ اثر نظر آتی ہیں۔ یہی وابستگیاں اس وقت رکاوٹ بن جاتی ہیں جب کسی مشترکہ مقصد یا تحریک پر اتفاقِ رائے درکار ہوتا ہے۔ نتیجتاً اتحاد کا تصور عملی شکل اختیار نہیں کر پاتا۔

صحافیوں کو درپیش معاشی مشکلات بھی ایک بڑی مجبوری ہیں۔ بروقت تنخواہوں کی عدم ادائیگی، کنٹریکٹ ملازمتیں اور روزگار کے عدم تحفظ نے صحافی کو اجتماعی جدوجہد سے دور کر دیا ہے۔ بیشتر افراد اپنی ملازمت بچانے کی فکر میں تنظیمی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں، جس سے اتحاد کمزور پڑ جاتا ہے۔

تنظیموں کے اندر جمہوری عمل کا فقدان بھی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ جب فیصلے محدود حلقوں تک رہیں اور عام صحافی کی آواز کو نظرانداز کیا جائے تو بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ یہی بداعتمادی تنظیموں کو مزید تقسیم کا شکار بنا دیتی ہے۔

جدید دور میں میڈیا کے بدلتے ہوئے رجحانات نے بھی حالات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے پھیلاؤ نے مسابقت میں اضافہ کیا، جہاں ہر صحافی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس صورتِ حال میں اجتماعی سوچ کمزور اور انفرادی ترجیحات مضبوط ہوتی چلی گئیں۔

اگر صحافتی تنظیمیں واقعی مضبوط اور متحد ہونا چاہتی ہیں تو انہیں ذاتی، گروہی اور سیاسی وابستگیوں سے بلند ہو کر صرف صحافی کے مفاد کو مرکز بنانا ہوگا۔ ایک ایسا مشترکہ فورم ناگزیر ہے جو بلا تفریق ہر صحافی کے مسائل کی ترجمانی کر سکے۔

حقیقی اتحاد بلند و بانگ نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات، برداشت اور اصولی استقامت سے وجود میں آتا ہے۔ جب تک صحافتی تنظیمیں اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتیں، اتحاد کا خواب ادھورا ہی رہے گا اور صحافی تقسیم کے اس دائرے میں گھومتے رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں