رپورٹ: حامد اقبال راؤ
لاہور کی نجی درسگاہ یونیورسٹی آف لاہور میں 5 جنوری 2026 کو پیش آنے والا افسوسناک واقعہ اب بتدریج منظرِ عام پر آ رہا ہے۔ واقعے میں 21 سالہ فارمیسی (Pharm-D) کی طالبہ فاطمہ نے مبینہ طور پر شدید ذہنی دباؤ کے زیرِ اثر یونیورسٹی کی ایک بلند عمارت سے چھلانگ لگا دی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئیں۔
عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ دن کے اوقات میں پیش آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چھلانگ لگانے سے قبل طالبہ موبائل فون پر کسی سے گفتگو کر رہی تھی۔ جیسے ہی وہ نیچے گریں، یونیورسٹی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیم نے فوری طور پر امدادی کارروائی کرتے ہوئے انہیں قریبی اسپتال منتقل کیا۔
طبی ذرائع کے مطابق طالبہ کے دونوں پاؤں میں فریکچر، جسم کے مختلف حصوں پر گہری چوٹیں اور سر میں شدید سوجن آئی ہے۔ تاہم بروقت اور مؤثر طبی امداد کے باعث ان کی جان بچ گئی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ طالبہ اس وقت زندہ ہے اور اگرچہ حالت تشویشناک رہی، مگر اب وہ خطرے سے باہر ہے۔
پولیس نے ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی کی کوشش قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ طالبہ کا موبائل فون تحویل میں لے لیا گیا ہے تاکہ کال ریکارڈز اور پیغامات کی مدد سے واقعے کے پس منظر اور ممکنہ وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔ پولیس حکام کے مطابق قانونی کارروائی طالبہ کی طبی حالت میں مزید بہتری اور والدین کے بیان کے بعد آگے بڑھائی جائے گی۔
دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعے کے بعد احتیاطی اقدامات کے طور پر کیمپس میں کلاسز معطل کر کے آن لائن تدریس کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا طالبہ کو تعلیمی دباؤ، حاضری سے متعلق مسائل، انتظامی رویّے یا کسی ذاتی مشکل کا سامنا تھا۔
یہ واقعہ اس لیے بھی گہری تشویش کا باعث بنا ہے کہ چند ہفتے قبل اسی یونیورسٹی میں ایک اور طالب علم کی خودکشی کا افسوسناک واقعہ پیش آ چکا تھا۔ ان مسلسل واقعات نے تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ذہنی صحت، نفسیاتی دباؤ اور معاونت کے مؤثر نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پولیس اور انکوائری کمیٹی کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور حتمی حقائق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔
ماہرینِ نفسیات کی رائے
ماہرینِ نفسیات کے مطابق نوجوان طلبہ میں بڑھتا ہوا تعلیمی دباؤ، مستقبل کی غیر یقینی صورتحال اور سماجی توقعات ذہنی صحت کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کونسلنگ، نفسیاتی معاونت اور سپورٹ سسٹم میسر نہ ہوں تو یہ دباؤ خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت کے مراکز، تربیت یافتہ کونسلرز اور طلبہ کے لیے محفوظ گفتگو کے پلیٹ فارمز ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
ریاست اردو نیوز کے سینیئر تجزیہ نگار /کالم نگارحامد اقبال راؤ کے مطابق لاہور یونیورسٹی کا یہ واقعہ محض ایک فرد کا المیہ نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کے لیے ایک وارننگ ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں سے طلبہ میں ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور خودکشی کی کوششوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
امتحانات کا دباؤ، حاضری کی سخت پالیسیاں، خاندانی توقعات اور کیریئر کے خدشات مل کر نوجوان ذہنوں کو نفسیاتی طور پر کمزور کر دیتے ہیں۔ اگر ادارے صرف تعلیمی کارکردگی پر توجہ دیں اور طلبہ کی ذہنی کیفیت کو نظر انداز کریں تو ایسے سانحات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ تعلیمی ادارے محض نصاب تک محدود نہ رہیں بلکہ طلبہ کی ذہنی اور جذباتی فلاح کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ بصورتِ دیگر ایسے واقعات نہ صرف تعلیمی اداروں کی ساکھ بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن سکتے ہیں۔
عوامی رائے
اس واقعے پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
کچھ صارفین نے یونیورسٹی انتظامیہ کو طلبہ پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے کا ذمہ دار قرار دیا، جبکہ دیگر نے والدین اور معاشرے کے کردار پر بھی سوال اٹھائے۔
آپ کے خیال میں طلبہ میں بڑھتے ذہنی دباؤ کی اصل وجہ کیا ہے؟
کیا تعلیمی ادارے اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں؟
👇 کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔
