Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے نظامِ زندگی مفلوج

سڑکیں بند، سیاح محصور، مختلف حادثات میں 2 افراد جاں بحق
بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے نظامِ زندگی مفلوج

ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری نے معمولاتِ زندگی درہم برہم کر دیے ہیں اور مختلف شاہراہوں کی بندش کے باعث سیاح اور مقامی آبادی محصور ہو کر رہ گئی ہے۔ متعدد حادثات میں 2 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق پہاڑی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جس کے پیشِ نظر صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

بلوچستان کے شمالی بالائی علاقوں میں شدید برفانی طوفان جاری ہے، کوئٹہ زیارت شاہراہ پر درجنوں گاڑیاں پھنس گئیں جبکہ چمن اور گردونواح میں 100 سے زائد سیاح گاڑیوں میں محصور ہیں۔ این 50 شاہراہ پر مختلف مقامات پر ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے جس سے بین الصوبائی آمدورفت منقطع ہو گئی۔

این 50 شاہراہ پر برف اور شدید پھسلن کے باعث 9 مختلف حادثات پیش آئے جن میں 27 افراد زخمی ہوئے۔ کوژک ٹاپ پر سائیبرین ہواؤں کے باعث درجہ حرارت منفی 12 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا، جس سے سردی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔

شیلاباغ کے قریب پھسلن کے باعث متعدد گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں، حادثے میں 2 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہو گئے۔ کوئٹہ میں بھی موسمِ سرما کی پہلی برفباری ریکارڈ کی گئی جس سے شہری زندگی متاثر ہوئی۔

خیبرپختونخوا کے اضلاع مانسہرہ، بالائی گلیات، شانگلہ، لوئر دیر، مہمند، کالام، اورکزئی، چترال اور خیبر میں بھی شدید برفباری ہوئی۔ ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں بارش اور برفباری کے باعث 100 کے قریب گاڑیاں پھنس گئیں جبکہ 35 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

شانگلہ میں برفباری کے بعد بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا جبکہ چترال میں متعدد رابطہ سڑکیں بند ہونے سے لوگ گھروں میں محصور ہو گئے۔ ناران میں 6 انچ اور شوگران میں ڈیڑھ انچ برف پڑ چکی ہے جہاں سیاح بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں۔

گلگت بلتستان کے ضلع استور کے بالائی علاقوں میں 2 سے 3 فٹ تک برفباری ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث زمینی رابطے منقطع ہو گئے۔ ہنزہ، نگر، چیپورسن، چلاس، بابوسر ٹاپ، نانگا پربت، بٹوگاہ، داریل اور تانگیر میں بھی شدید سردی اور برفباری سے مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں وقفے وقفے سے برفباری جاری ہے جبکہ مری میں برفباری کے باعث مری ایکسپریس وے جزوی طور پر بند کر دی گئی ہے۔

ریسکیو 1122 کی ٹیمیں وادی تیراہ سمیت مختلف علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ترجمان کے مطابق سندانہ کے مقام پر پھنسے 20 گاڑیوں میں سوار 55 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔ خیبر، پشاور، صوابی اور نوشہرہ کی ٹیمیں آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔

ریسکیو 1122 خیبر کے مطابق باڑہ بٹہ تل میں بارش کے باعث ایک مکان کا کمرہ گرنے سے 5 افراد ملبے تلے دب گئے تھے جنہیں بروقت نکال کر طبی امداد فراہم کی گئی۔

ماہرین کی رائے

ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ مغربی ہواؤں کے طاقتور سسٹم کے باعث بالائی علاقوں میں برفباری کا یہ سلسلہ مزید چند روز جاری رہ سکتا ہے۔ ان کے مطابق شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔

شدید برفباری نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں موسمی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بروقت منصوبہ بندی اور مستقل انفراسٹرکچر ناگزیر ہے۔ ہر سال سڑکوں کی بندش، سیاحوں کا محصور ہونا اور قیمتی جانوں کا ضیاع ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پیشگی الرٹس، متبادل راستوں اور ریسکیو وسائل کو مؤثر بنایا جائے تاکہ قدرتی آفات کے نقصانات کم کیے جا سکیں۔

🗣️ آخر میں: اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں