خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ
جدید طرزِ زندگی، گھروں اور دفاتر تک محدود معمولات اور اسکرین کے بڑھتے ہوئے استعمال نے انسان کو فطرت سے دور کر دیا ہے، لیکن اب ایک نئی سائنسی تحقیق نے یہ اشارہ دیا ہے کہ روزانہ کچھ وقت دھوپ یا کھلی فضا میں گزارنا نہ صرف جسمانی بلکہ دماغی صحت کیلئے بھی انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ چین کے محققین کی حالیہ تحقیق کے مطابق روزانہ مناسب وقت گھر سے باہر گزارنے والے افراد میں ڈیمنشیا (یادداشت کمزور ہونے کی بیماری) کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔
یہ تحقیق معروف طبی جریدے Psychiatry میں شائع ہوئی، جس میں محققین نے ہزاروں افراد کے طرزِ زندگی، روزمرہ عادات اور صحت کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو افراد اوسطاً روزانہ 42 منٹ سے کم وقت گھر سے باہر گزارتے ہیں، ان میں ڈیمنشیا لاحق ہونے کا خطرہ نسبتاً زیادہ پایا گیا، جبکہ اس کے برعکس جو لوگ باقاعدگی سے زیادہ وقت کھلی فضا میں گزارتے ہیں، ان میں اس بیماری کے امکانات کم دیکھے گئے۔
تحقیق میں ایک اور دلچسپ پہلو یہ سامنے آیا کہ کھلی فضا میں وقت گزارنے کے فوائد صرف دھوپ والے دنوں تک محدود نہیں۔ محققین کے مطابق ابر آلود موسم میں بھی روزانہ باہر نکلنے کی عادت بعد کی زندگی میں ڈیمنشیا کے خطرے کو تقریباً 16 فیصد تک کم کرنے سے منسلک دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس تحقیق نے ایک اہم تعلق کی نشاندہی کی ہے، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ سورج کی روشنی یا کھلی فضا دماغی صحت پر کس مخصوص حیاتیاتی طریقہ کار کے ذریعے اثر انداز ہوتی ہے۔ بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ سورج کی روشنی جسم کی سرکیڈین ردھم یا حیاتیاتی گھڑی کو متوازن رکھتی ہے، جس سے نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے، ہارمونز متوازن رہتے ہیں اور دماغی افعال پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب کچھ ماہرین اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ ممکن ہے جو افراد پہلے سے کمزور صحت یا ابتدائی دماغی مسائل کا شکار ہوتے ہیں، وہ قدرتی طور پر کم باہر نکلتے ہوں۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ صرف زیادہ دھوپ لینے سے ڈیمنشیا سے مکمل تحفظ حاصل ہو جاتا ہے۔
تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے بھی واضح کیا ہے کہ ان کے نتائج صرف ایک تعلق (Association) کو ظاہر کرتے ہیں، نہ کہ براہِ راست وجہ اور نتیجے (Cause and Effect) کو۔ ان کے مطابق اس موضوع پر مزید تحقیقی کام کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کھلی فضا میں وقت گزارنے کا دماغی صحت پر اصل اثر کس حد تک ہوتا ہے۔
ماہرینِ اعصاب کے مطابق ڈیمنشیا دنیا بھر میں تیزی سے بڑھنے والا ایک بڑا طبی مسئلہ بن چکا ہے، خاص طور پر عمر رسیدہ افراد میں۔ اس بیماری میں یادداشت، سوچنے کی صلاحیت، فیصلے کرنے کی قوت اور روزمرہ کے کام انجام دینے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے اگر معمولی طرزِ زندگی میں تبدیلیاں بھی خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں تو یہ صحتِ عامہ کیلئے ایک اہم پیش رفت ہوگی۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جدید دور میں انسان کی زندگی موبائل فون، کمپیوٹر اور بند کمروں تک محدود ہوتی جا رہی ہے، جس کے منفی اثرات جسمانی اور ذہنی صحت دونوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر روزانہ صرف کچھ وقت قدرتی ماحول، پارک یا کھلی فضا میں گزارنے سے ذہنی صحت بہتر رہ سکتی ہے تو یہ عادت ہر عمر کے افراد کو اپنانی چاہیے۔
غلام مرتضیٰ نے مزید کہا کہ اگرچہ اس تحقیق کو حتمی علاج یا ضمانت نہیں سمجھنا چاہیے، لیکن یہ ضرور ثابت کرتی ہے کہ متوازن طرزِ زندگی، مناسب جسمانی سرگرمی، معیاری نیند اور فطرت سے قربت صحت مند زندگی کیلئے نہایت اہم عوامل ہیں۔
طبی ماہرین شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ روزانہ کچھ دیر چہل قدمی کریں، پارک یا کھلی جگہ پر وقت گزاریں، جسمانی سرگرمی کو معمول بنائیں اور سورج کی تیز شعاعوں کے اوقات میں مناسب احتیاط اختیار کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ صحت مند غذا، ورزش، ذہنی سرگرمی اور سماجی روابط بھی دماغ کو فعال رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
عوامی سوال
کیا آپ روزانہ کچھ وقت کھلی فضا یا پارک میں گزارتے ہیں؟ آپ کے خیال میں فطرت سے قربت ذہنی صحت پر مثبت اثر ڈالتی ہے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔
