Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

پیسوں کی پریشانی ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض کا سبب بن سکتی ہے:تحقیق

مالی دباؤ میں مبتلا افراد اکثر مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں، غیر متوازن یا جنک فوڈ کا استعمال بڑھ جاتا ہے
پیسوں کی پریشانی ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض کا سبب بن سکتی ہے:تحقیق

لاہور (رپورٹ ۔غلام مرتضی) پیسوں کی پریشانی محض ذہنی دباؤ تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ دل کی صحت پر بھی گہرے اور منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے، اور اس حقیقت کی تصدیق جدید سائنسی تحقیقات بھی کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق جب کوئی شخص طویل عرصے تک مالی مسائل اور عدمِ تحفظ کا شکار رہتا ہے تو اس کے جسم میں اسٹریس ہارمونز، خصوصاً کورٹی سول کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ یہ ہارمون بلڈ پریشر میں اضافے، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور دل کی شریانوں پر غیر معمولی دباؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

مسلسل مالی فکرمندی کے نتیجے میں ہائی بلڈ پریشر مستقل مسئلہ بن سکتا ہے، جو آگے چل کر دل کے دورے اور فالج جیسے جان لیوا امراض کی بڑی وجہ بنتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مالی دباؤ میں مبتلا افراد اکثر مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں، غیر متوازن یا جنک فوڈ کا استعمال بڑھ جاتا ہے اور ورزش جیسے صحت بخش معمولات ترک کر دیتے ہیں، جو دل کی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہیں۔

مزید یہ کہ مالی دباؤ ڈپریشن اور اینگزائٹی جیسے ذہنی مسائل کو بھی جنم دیتا ہے، اور ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ذہنی صحت کی یہ خرابیاں براہِ راست دل کی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کرتی ہیں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ مالی سکون صرف ذہنی آسودگی ہی نہیں بلکہ دل کی صحت کے لیے بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ماہرین کی رائے

ماہرِ امراضِ قلب کا کہنا ہے کہ

اکثر مریضوں میں دل کی بیماری کی کوئی واضح جسمانی وجہ سامنے نہیں آتی، لیکن جب ان کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو مسلسل مالی دباؤ ایک مشترکہ وجہ کے طور پر ابھرتا ہے

نفسیاتی ماہرین کے مطابق مسلسل مالی فکر دماغ کو مستقل ’فائٹ یا فلائٹ‘ موڈ میں رکھتی ہے، جس سے دل پر مسلسل دباؤ پڑتا ہے۔
ماہرین صحت اس بات پر متفق ہیں کہ دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ذہنی سکون اتنا ہی ضروری ہے جتنا متوازن غذا اور ورزش۔

یہ مسئلہ محض انفرادی نہیں بلکہ ایک سماجی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور غیر یقینی معاشی حالات نے لاکھوں افراد کو مستقل ذہنی دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے، جس کے اثرات خاموشی سے دل کی صحت پر پڑ رہے ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشروں میں دل کے امراض کو صرف چکنائی، شوگر یا تمباکو نوشی سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ ذہنی دباؤ اور مالی پریشانی جیسے عوامل کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر مالی مسائل کے ساتھ ذہنی صحت پر توجہ نہ دی گئی تو آنے والے برسوں میں دل کے امراض میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دل کی صحت کو جسمانی، ذہنی اور معاشی پہلوؤں کے مجموعی تناظر میں دیکھا جائے۔

 اپنی رائے

کیا آپ کے خیال میں مالی دباؤ کو دل کی بیماریوں کی بڑی وجہ کے طور پر سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے؟
یا یہ مسئلہ صرف طرزِ زندگی تک محدود ہے؟

اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں 👇

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں