Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

تاپسی پنو کا چونکا دینے والا انکشاف، فلم انڈسٹری میں منفی مہمات بے نقاب

آج کل کچھ لوگ دوسروں کی کامیابی کو برداشت نہیں کر پاتے اور اسے روکنے کے لیے منفی مہمات چلاتے ہیں
تاپسی پنو کا چونکا دینے والا انکشاف، فلم انڈسٹری میں منفی مہمات بے نقاب

اسلام آباد/ممبئی (انٹرٹینمنٹ ڈیسک – غلام مرتضیٰ) بالی ووڈ کی پسِ پردہ دنیا پر ایک بار پھر شدید تنقید سامنے آئی ہے۔ معروف اداکارہ تاپسی پنو نے ایک حالیہ انٹرویو میں انڈسٹری کے اندر چلنے والے منفی پی آر (پبلک ریلیشنز) کے کھیل کو بے نقاب کر دیا۔ 38 سالہ اداکارہ نے کھل کر بتایا کہ آج کل کچھ لوگ نہ صرف اپنی تشہیر کے لیے بلکہ دوسرے فنکاروں کو نیچا دکھانے اور ان کی ساکھ خراب کرنے کے لیے بھی بھاری رقوم خرچ کر رہے ہیں۔

تاپسی نے انٹرویو میں بتایا کہ گزشتہ چند برسوں میں انہوں نے جان بوجھ کر اپنے پروجیکٹس کی تعداد کم کی، جس سے انہیں یہ موقع ملا کہ وہ انڈسٹری کے پسِ پردہ نظام کو قریب سے دیکھ سکیں۔ ان کے مطابق ماضی میں پی آر کا بنیادی مقصد اپنی فلم یا کام کو اجاگر کرنا ہوتا تھا، مگر اب صورتحال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔

اداکارہ نے کہا کہ آج کل کچھ لوگ دوسروں کی کامیابی کو برداشت نہیں کر پاتے اور اسے روکنے کے لیے منفی مہمات چلاتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا

"آخر کیوں کسی کی کامیابی کو کسی اور کی ناکامی کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے؟”

تاپسی نے مزید کہا کہ کئی فنکار صرف خبروں میں رہنے کے لیے مصنوعی امیج بناتے ہیں، جبکہ وہ اپنے کام کی بدولت ایسی جگہ حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنی کمائی اپنے لیے اور اپنے پیاروں پر خرچ کرنا پسند کرتی ہیں، نہ کہ منفی مضامین لگوا کر دوسروں کو نقصان پہنچانے پر۔

یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا جب بالی ووڈ میں حالیہ برسوں میں منفی خبروں، ٹرولنگ اور مصنوعی تنازعات میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

تاپسی نے انٹرویو میں بتایا کہ گزشتہ ڈیڑھ سے دو سالوں میں انہوں نے جان بوجھ کر اپنے پروجیکٹس کی تعداد کم کی۔ اس وقفے نے انہیں انڈسٹری کے پسِ پردہ نظام کو قریب سے دیکھنے کا موقع دیا۔ ان کے مطابق ماضی میں پی آر کا بنیادی مقصد اپنی فلم یا کام کو اجاگر کرنا ہوتا تھا، مگر اب صورتحال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔

 تاپسی نے مزید کہا کہ کئی فنکار صرف خبروں میں رہنے کے لیے مصنوعی امیج اور شخصیت بنا رہے ہیں، جبکہ وہ اپنے اصل کام کی بدولت ایسی جگہ حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنی کمائی اپنے لیے اور اپنے پیاروں پر خرچ کرنا پسند کرتی ہیں، نہ کہ منفی مضامین لگوا کر دوسروں کو نقصان پہنچانے پر۔ تاپسی کا یہ بیان انٹرویو میں زوم اور ٹائمز ناؤ نیوز سمیت متعدد ذرائع میں شائع ہوا ہے۔

تاپسی پنو کی فلموں کا جائزہ

تاپسی پنو (پیدائش: یکم اگست 1987) بالی ووڈ کی اُن نمایاں اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے اپنی ورسٹائل اداکاری، مضبوط اسکرپٹ کے انتخاب اور سماجی شعور پر مبنی کرداروں کے ذریعے الگ پہچان بنائی۔ جنوبی بھارتی فلم انڈسٹری سے آغاز کرنے والی تاپسی نے بتدریج بالی ووڈ میں اپنی جگہ مستحکم کی اور آج انہیں انڈسٹری کی کامیاب اور بااثر اداکاراؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ اب تک دو فلمی ایوارڈز اور ایک او ٹی ٹی ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔

تاپسی نے اپنے کیریئر کا آغاز ماڈلنگ سے کیا اور 2010 میں تیلگو فلم جھمنڈی نادم کے ذریعے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا۔ 2011 میں تامل فلم آدوکالام میں ان کی کارکردگی کو خاص طور پر سراہا گیا، جس کے بعد انہوں نے تیلگو، تامل اور ملیالم فلموں میں متعدد اہم کردار ادا کیے۔ مسٹر پرفیکٹ، ویرا اور ڈبلز جیسی فلموں نے انہیں جنوبی فلم انڈسٹری میں ایک مضبوط مقام دلایا۔

بالی ووڈ میں ان کی انٹری 2013 میں ڈیوڈ دھون کی فلم چشمے بددور سے ہوئی، جو باکس آفس پر کامیاب رہی، تاہم اصل بریک تھرو 2015 میں فلم بیبی کے سپورٹنگ کردار سے ملا۔ 2016 میں فلم پنک نے انہیں شہرت کی نئی بلندیوں تک پہنچایا، جہاں ایک حساس سماجی مسئلے پر مبنی کہانی میں ان کی اداکاری کو تنقید نگاروں اور ناظرین دونوں نے بے حد سراہا۔

بعد ازاں تاپسی نے ایک کے بعد ایک مضبوط اور متنوع کردار نبھائے۔ 2019 میں فلم بدلا میں امیتابھ بچن کے ساتھ ان کی تھرلر پرفارمنس خاصی مقبول رہی۔ 2020 میں ریلیز ہونے والی فلم ٹھپڑ نے نہ صرف سماجی سطح پر بحث کو جنم دیا بلکہ تاپسی کی اداکاری کو ایوارڈز کی صورت میں بھی بھرپور پذیرائی ملی۔ ساہو میں انہوں نے ایک کمرشل ایکشن فلم کا تجربہ کیا جبکہ راشمی راکٹ میں ایک ایتھلیٹ کے کردار کے لیے ان کی جسمانی اور جذباتی تیاری نمایاں رہی۔

او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر بھی تاپسی نے اپنی موجودگی مضبوط رکھی۔ نیٹ فلکس کی فلم حسین دلربا اور اس کے سیکوئل پھر آئی حسین دلربا میں ان کی اداکاری کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی۔ 2023 میں راجکمار ہیرانی کی فلم ڈنکی میں شاہ رخ خان کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر کمرشل سنیما میں اپنی گرفت ثابت کی، جبکہ 2024 میں ریلیز ہونے والی فلم کھیل کھیل میں ایک ہلکی پھلکی کامیڈی کے طور پر سامنے آئی۔

آنے والے برسوں میں تاپسی کی سب سے اہم فلم گندھاری متوقع ہے، جو 2025 یا 2026 میں ریلیز ہونے کا امکان رکھتی ہے۔ یہ ایک انتقامی ڈرامہ ہے جس میں تاپسی ایک نئے اور طاقتور انداز میں نظر آئیں گی، اور اسے خواتین پر مبنی مضبوط پروجیکٹس میں شمار کیا جا رہا ہے۔

یہ معاملہ صرف تاپسی تک محدود نہیں، بلکہ کئی سینئر اداکار اور ہدایت کار بھی وقتاً فوقتاً اسی طرح کی شکایات کر چکے ہیں۔ جب تک صنعت میں منفی مہمات چلانے والے پی آر ایجنسیوں اور ان کے کلائنٹس پر سخت کنٹرول نہیں کیا جائے گا، تب تک بالی ووڈ کی ساکھ کو مسلسل نقصان پہنچتا رہے گا۔

تاپسی جیسے فنکار جو اپنے کام پر بھروسہ کرتے ہیں اور منفی کھیل سے دور رہتے ہیں، ان کے لیے یہ بیان ایک بہادر قدم ہے۔ یہ انڈسٹری کو خود احتسابی کی طرف لے جا سکتا ہے، بشرطیکہ باقی فنکار بھی اس آواز میں آواز ملائیں۔

آپ کو تاپسی پنو کا یہ انکشاف کیسا لگا؟ کیا بالی ووڈ میں منفی پی آر کا یہ کھیل واقعی اتنا خطرناک ہو چکا ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں