Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

آخر مچھر کچھ لوگوں کو ہی زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ سائنس نے حیران کن راز سے پردہ اٹھا دیا

آخر مچھر کچھ لوگوں کو ہی زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ سائنس نے حیران کن راز سے پردہ اٹھا دیا

خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ

گرمیوں کا موسم آتے ہی مچھروں کی بھرمار شروع ہو جاتی ہے، اور اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ آخر مچھر کچھ افراد کو ہی زیادہ کیوں کاٹتے ہیں جبکہ ان کے ساتھ بیٹھے دوسرے لوگ نسبتاً محفوظ رہتے ہیں؟ اس حوالے سے مختلف گھریلو ٹوٹکے بھی عام ہیں، جن میں لہسن کھانا، وٹامن بی کا استعمال، کیلے سے پرہیز اور سٹرونیلا موم بتیاں جلانا شامل ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے بیشتر دعوؤں کے حق میں مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں۔

ویسٹرن یونیورسٹی کی ماہرِ حیاتیات نوشا کیغوبادی کے مطابق مچھر کسی شخص کا انتخاب اتفاقاً نہیں کرتے بلکہ وہ مخصوص حیاتیاتی عوامل کی بنیاد پر اپنے شکار کو تلاش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق صرف مادہ مچھر انسانوں کو کاٹتی ہے کیونکہ اسے اپنے انڈوں کی افزائش کیلئے خون میں موجود پروٹین اور دیگر غذائی اجزا درکار ہوتے ہیں، جبکہ نر مچھر انسانوں کو نہیں کاٹتے بلکہ پودوں کے رس پر گزارا کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مچھر انسانوں کو ڈھونڈنے کیلئے تین بنیادی چیزوں پر انحصار کرتے ہیں: جسم کی حرارت، سانس سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور جسم کی قدرتی بو۔ ہر انسان کی جسمانی بو اس کے جینیاتی عوامل، جلد پر موجود بیکٹیریا، جسمانی ساخت اور بعض اوقات خوراک کی وجہ سے مختلف ہوتی ہے۔ یہی فرق بعض افراد کو مچھروں کیلئے زیادہ پرکشش بنا دیتا ہے۔

تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں، جیسے قد آور افراد یا ورزش کے بعد، وہ بھی نسبتاً زیادہ مچھروں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔ اسی طرح جسم کا زیادہ درجہ حرارت اور پسینہ بھی مچھروں کیلئے انسان کو تلاش کرنا آسان بنا دیتا ہے۔

کیلے کے بارے میں پائے جانے والے عام تاثر پر بھی ماہرین نے روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق چند تحقیقی مطالعات میں یہ ضرور دیکھا گیا کہ بعض افراد کیلا کھانے کے بعد مچھروں کیلئے نسبتاً زیادہ پرکشش ہو گئے، لیکن یہ نتیجہ ہر شخص پر لاگو نہیں ہوا۔ کچھ افراد پر کوئی فرق نہیں پڑا جبکہ بعض میں اس کا الٹا اثر بھی دیکھا گیا۔ اس لیے صرف کیلے سے پرہیز کو مچھروں سے بچاؤ کا مؤثر طریقہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اسی طرح لہسن کھانے اور وٹامن بی استعمال کرنے کے حوالے سے بھی کئی تحقیقات کی جا چکی ہیں، لیکن اب تک کوئی مضبوط سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ یہ چیزیں واقعی مچھروں کو دور رکھتی ہیں۔ البتہ بعض مطالعات میں یہ اشارہ ضرور ملا ہے کہ بیئر پینے والے افراد بعض حالات میں مچھروں کیلئے زیادہ پرکشش بن سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھروں سے بچنے کا سب سے مؤثر طریقہ اب بھی جسمانی تحفظ ہے۔ مکمل آستین والے کپڑے پہننا، معیاری انسیکٹ ریپیلنٹ استعمال کرنا، گھروں میں جالی لگانا اور پانی جمع نہ ہونے دینا مچھروں سے بچاؤ کے بہترین طریقوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سٹرونیلا موم بتیوں کی افادیت کے بارے میں مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں، اس لیے ان پر مکمل انحصار مناسب نہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق مچھر صرف انسانوں کیلئے پریشانی کا باعث نہیں بلکہ وہ قدرتی ماحولیاتی نظام کا بھی ایک اہم حصہ ہیں۔ مچھروں کے لاروا پانی میں موجود نامیاتی مادوں اور جراثیم کو کھاتے ہیں جبکہ بالغ مچھر ڈریگن فلائی، مچھلیوں، مینڈکوں، پرندوں اور دیگر جانداروں کی خوراک بنتے ہیں۔ اس لیے اگرچہ مچھر کئی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرتے ہیں، لیکن فطرت کے توازن میں ان کی اپنی اہمیت بھی موجود ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر مچھروں سے بچنے کیلئے نت نئے ٹوٹکے تو روز سامنے آتے ہیں، لیکن عوام کو سائنسی حقائق پر زیادہ اعتماد کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق غیر مصدقہ نسخوں کے بجائے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہی سب سے مؤثر حکمت عملی ہے۔

غلام مرتضیٰ نے مزید کہا کہ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں گرمیوں کے دوران مچھروں کی تعداد بڑھ جاتی ہے، وہاں صرف ذاتی احتیاط کافی نہیں بلکہ شہریوں اور مقامی انتظامیہ کو مل کر صفائی، نکاسی آب اور کھڑے پانی کے خاتمے پر بھی توجہ دینی ہوگی تاکہ ڈینگی، ملیریا اور دیگر مچھر سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پایا جا سکے۔

طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر کسی علاقے میں مچھروں کی بہتات ہو تو خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور حاملہ خواتین کو اضافی احتیاط برتنی چاہیے، کیونکہ یہ افراد مچھر سے منتقل ہونے والی بیماریوں سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

عوامی سوال

آپ کے خیال میں مچھروں سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ کون سا ہے؟ کیا آپ گھریلو ٹوٹکوں پر یقین رکھتے ہیں یا سائنسی طریقوں کو ترجیح دیتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں