Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

پیٹرول سستا نہ مہنگا، حکومت نے ٹیکسوں کا فارمولہ بدل دیا

حکومت نے خاموشی سے پیٹرول پر کلائمیٹ لیوی دگنی کر دی
پیٹرول سستا نہ مہنگا، حکومت نے ٹیکسوں کا فارمولہ بدل دیا

خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ

نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ ہی وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں اور لیویز کے نظام میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی شرح میں اضافہ کر دیا ہے۔ تاہم حکومت نے اس اضافے کو دوسری لیوی میں کمی کے ذریعے متوازن کرتے ہوئے عوام کو فوری طور پر قیمتوں میں اضافے سے بچا لیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر عائد کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو ڈھائی روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کر دیا ہے، یعنی اس میں ڈھائی روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیٹرولیم لیوی میں بھی اتنی ہی، یعنی ڈھائی روپے فی لیٹر کمی کر دی گئی ہے تاکہ مجموعی بوجھ صارفین پر منتقل نہ ہو۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ حکومت کے مطابق یہ اقدام مالیاتی اصلاحات، ماحولیاتی منصوبوں اور بجٹ پالیسی کے تحت کیا گیا ہے، جبکہ عوام کو فوری ریلیف برقرار رکھنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق کلائمیٹ سپورٹ لیوی کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، ماحول دوست منصوبوں کی مالی معاونت اور گرین انرجی پروگراموں کیلئے وسائل پیدا کرنا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں، اس لیے حکومت ایسے فنڈز کے ذریعے مستقبل میں ماحولیاتی منصوبوں کو فروغ دینا چاہتی ہے۔

دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فی الحال قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا، لیکن نئی لیوی کے نفاذ سے مستقبل میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو حکومت کیلئے قیمتوں کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں حکومت کو محصولات بڑھانے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے کیے گئے وعدے پورے کرنے کا بھی چیلنج درپیش ہے۔ اسی لیے مختلف شعبوں میں ٹیکس اور لیویز کے ڈھانچے میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تاکہ ریونیو میں اضافہ کیا جا سکے، لیکن ساتھ ہی عوام پر فوری مالی دباؤ بھی نہ بڑھے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس بار ایک ایسی حکمت عملی اختیار کی ہے جس میں ٹیکس کا ڈھانچہ تو تبدیل کیا گیا، لیکن عوام کو فوری قیمتوں میں اضافے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ان کے مطابق یہ ایک عارضی ریلیف ضرور ہے، تاہم اصل امتحان اس وقت ہوگا جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اتار چڑھاؤ کا شکار ہوں گی۔

غلام مرتضیٰ نے مزید کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے مالی وسائل کی ضرورت ہے، لیکن حکومت کو اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ ماحولیاتی پالیسیوں کا بوجھ عام شہریوں پر غیر ضروری طور پر نہ پڑے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے حاصل ہونے والی رقم واقعی ماحول دوست منصوبوں پر خرچ ہوتی ہے تو اس کی مکمل شفافیت بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

شہریوں نے اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل دیا ہے۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ قیمتیں برقرار رہنا خوش آئند ہے، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ ٹیکسوں کے نام بدلنے سے عوام کو زیادہ فرق محسوس نہیں ہوتا۔ لاہور کے ایک شہری نے کہا، "اگر قیمت نہیں بڑھی تو یہ اچھا فیصلہ ہے، لیکن ہمیں یہ بھی بتایا جائے کہ کلائمیٹ لیوی سے جمع ہونے والا پیسہ کہاں خرچ ہوگا۔” کراچی کے ایک ٹرانسپورٹر نے کہا کہ "ہمیں صرف یہ فکر ہوتی ہے کہ ڈیزل مہنگا نہ ہو، کیونکہ اس سے ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔”

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں حکومت کی مالیاتی پالیسی، عالمی تیل کی قیمتیں اور ٹیکس اصلاحات اس بات کا تعین کریں گی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کس سمت جاتی ہیں۔ فی الحال حکومت نے قیمتیں برقرار رکھ کر عوام کو وقتی ریلیف ضرور دیا ہے، لیکن مستقبل کے فیصلے معاشی حالات پر منحصر ہوں گے۔

عوامی سوال

کیا آپ کے خیال میں کلائمیٹ سپورٹ لیوی جیسے ٹیکس ماحول کے تحفظ کیلئے ضروری ہیں، یا حکومت کو عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ مزید کم کرنا چاہیے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں