تہران:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) ایران نے ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز، میزائل پروگرام اور یورینیم افزودگی اس کی قومی سلامتی اور خودمختاری سے جڑے ایسے معاملات ہیں جن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکا کے ساتھ جاری سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کرنے والے محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی سب سے بڑی تزویراتی طاقت ہے اور تہران اس حوالے سے اپنے مؤقف سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔
سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قالیباف نے امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر تفصیلی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری خدمات کی فیس سے متعلق صرف 60 روزہ عارضی استثنا دیا گیا ہے، لیکن اس رعایت کو ایران کے بنیادی مؤقف میں نرمی تصور کرنا غلط ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کی علاقائی سمندری حدود کا حصہ ہے اور یہ خدا کی عطا کردہ ایسی قدرتی نعمت ہے جو ایران کی تزویراتی طاقت کی علامت ہے۔ ان کے بقول امریکا دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش نہ کرے کہ ایران نے اس آبی گزرگاہ کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے، کیونکہ تہران بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے حقوق کا دفاع کر رہا ہے۔
ایرانی اسپیکر نے انکشاف کیا کہ آبنائے ہرمز کے انتظامی اور قانونی معاملات پر ایران اور عمان کے درمیان مکمل اتفاق رائے قائم ہو چکا ہے، جس سے خطے میں بحری سلامتی اور تجارتی سرگرمیوں کو مزید استحکام ملنے کی توقع ہے۔
مذاکرات کی رفتار پانچ بنیادی شرائط سے مشروط
محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اسی صورت آگے بڑھ سکتے ہیں جب مفاہمتی یادداشت کی پانچ بنیادی شقوں پر مکمل عملدرآمد ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان شرائط پر پیش رفت نہ ہوئی تو مذاکرات جاری رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر مفاہمتی یادداشت کی 60 روزہ مدت میں بھی توسیع کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کسی عجلت میں نہیں بلکہ اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرے گا اور ہر مرحلے پر ملک کی سلامتی، خودمختاری اور اقتصادی مفادات کو ترجیح دی جائے گی۔
دو ہفتوں میں 4 کروڑ بیرل تیل برآمد
ایرانی اسپیکر کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی میں نرمی آنے کے بعد صرف دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں ایران 4 کروڑ بیرل سے زائد خام تیل برآمد کرنے میں کامیاب رہا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مضبوط سفارت کاری اور دفاعی حکمت عملی ساتھ ساتھ چل سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پابندیوں میں جزوی نرمی کے بعد ایرانی توانائی کے شعبے میں مثبت پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے، تاہم تہران اس وقت تک مکمل اطمینان کا اظہار نہیں کرے گا جب تک تمام امریکی اور اقوام متحدہ کی پابندیاں ختم نہیں کر دی جاتیں۔
میزائل پروگرام اور یورینیم پر کوئی بات نہیں ہوگی
قالیباف نے نہایت واضح الفاظ میں کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام، دفاعی صلاحیتیں اور یورینیم افزودگی کا حق کسی بھی مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ نہیں بن سکتے۔
انہوں نے کہا کہ یورینیم افزودگی ایران کا قانونی، آئینی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت تسلیم شدہ حق ہے، جس پر کسی بھی دباؤ یا شرط کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق دفاعی طاقت ہی ایران کی خودمختاری اور خطے میں توازن کی ضامن ہے۔
لبنان سے متعلق بھی اہم پیش رفت
ایرانی اسپیکر نے بتایا کہ ایران، امریکا اور لبنان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مشترکہ رابطہ سیل قائم کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ ان کے مطابق تہران اور واشنگٹن اپنے نمائندے نامزد کر چکے ہیں جبکہ لبنان کی جانب سے بھی جلد نمائندے کا اعلان متوقع ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے بروقت حل کیا جا سکے۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق ایران اس وقت "مذاکرات بھی، مزاحمت بھی” کی پالیسی پر عمل پیرا دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف وہ سفارتی عمل جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ دوسری جانب اپنے دفاعی اور جوہری پروگرام کو ناقابلِ مذاکرات قرار دے کر اپنی سرخ لکیریں واضح کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی سپلائی کی اہم ترین گزرگاہوں میں شامل ہے، اس لیے وہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کے اثرات عالمی تیل منڈیوں اور معیشت پر براہ راست مرتب ہو سکتے ہیں۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ایران کا حالیہ بیان دراصل امریکا اور مغربی ممالک کے لیے ایک واضح سفارتی پیغام ہے کہ تہران مذاکرات جاری رکھنا چاہتا ہے، مگر اپنی دفاعی صلاحیت، میزائل پروگرام اور یورینیم افزودگی جیسے بنیادی قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ان کے مطابق اگر پابندیوں میں مزید نرمی آتی ہے تو مذاکرات میں پیش رفت کے امکانات موجود رہیں گے، تاہم اگر دباؤ کی پالیسی دوبارہ اختیار کی گئی تو خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ سکتی ہے۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر ایرانی عوام اور خطے کے مختلف ممالک کے صارفین کی جانب سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض حلقوں نے ایران کے سخت مؤقف کو قومی خودمختاری کا دفاع قرار دیا، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں مستقل امن کے لیے مذاکرات کا کامیاب ہونا انتہائی ضروری ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال میں سفارت کاری، دفاعی طاقت اور اقتصادی مفادات ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات صرف دو ممالک تک محدود نہیں بلکہ ان کے اثرات پوری دنیا کی توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے آنے والے ہفتے اس سفارتی عمل کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا ایران کا میزائل پروگرام اور یورینیم افزودگی مذاکرات سے باہر رکھنا درست حکمت عملی ہے، یا خطے میں مستقل امن کے لیے تمام متنازع معاملات پر بات چیت ہونی چاہیے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔
