Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

ایران پر اسرائیلی و امریکی حملے کے بعد پیدا شدہ تازہ ترین صورتحال

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک ویڈیو پوسٹ میں اعلان کیا کہ امریکہ نے ایران میں بڑی جنگی کارروائیاں شروع کر دی ہیں
ایران پر اسرائیلی و امریکی حملے کے بعد پیدا شدہ تازہ ترین صورتحال

رپورٹ : اعتزاز بلوچ

اب تک کی محدود اور تیزی سے تبدیل ہوتی مصدقہ معلومات کے مطابق اسرائیل اور امریکہ نے ایرانی علاقائی وقت کے مطابق اٹھائیس فروری ۲۰۲۶ کی صبح آٹھ بج کر پندرہ منٹوں پر ایران پر ایک پیشگی حملہ کیا ہے جسے دونوں ممالک نے ایران کی طرف سے ممکنہ خطرات کو ختم کرنے کے لیے ضروری قرار دیا – یہ حملہ حالیہ جوہری مذاکرات کے تناظر میں کیا گیا ہے جہاں ایران کے جوہری پروگرام پر تناؤ بڑھ رہا تھا۔ اب تک کی معلومات کے مطابق یہ حملہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں، میزائل لانچروں اور ممکنہ طور پر جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے پر مرکوز ہے۔ ایران کی طرف سے بھی اسرائیلی سفارتی و معاشی مرکز تل ابیب سمیت مشرق وسطی میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر بھرپور جوابی کارروائی کی گئی ہے بعض ممالک میں امریکی اڈوں کو تباہ کیے جانے کی بھی اطلاعات موصول ہورہی ہیں – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک ویڈیو پوسٹ میں اعلان کیا کہ امریکہ نے ایران میں بڑی جنگی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ حملہ امریکی عوام کی حفاظت کے لیے ایرانی حکومت کے فوری خطرات کو ختم کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بیان جاری کیا کہ اسرائیل نے ایران پر "پیشگی حملہ” کیا ہے تاکہ اسرائیل اور اس کے شہریوں کے خلاف خطرات کو دور کیا جائے۔ اسرائیل میں ملک بھر میں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا گیا ہے، اور شہریوں کو ممکنہ جوابی حملوں سے خبردار کیا گیا ہے۔ حملے کا پہلا نشانہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفاتر کے قریب کا علاقہ بتایا جا رہا ہے۔
امریکی حکام نے بتایا کہ یہ حملہ کوئی چھوٹا حملہ نہیں ہے اور کئی دنوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ امریکی فضائیہ کے طیاروں نے مشرق وسطیٰ سے حملے کیے ہیں۔
ایران نے حملے کو جنگ کی کارروائی قرار دیا ہے اور جوابی میزائل فائر کیے ہیں۔ اسرائیل میں سائرن بجے ہیں اور ممکنہ میزائل حملوں کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔
اسرائیلی حملوں میں
ایران کے بیلسٹک میزائل اور میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا گیا ہے، جو اسرائیل کے لیے سنگین خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔ تہران، اصفہان اور دیگر شہروں میں حملے کیے گئے۔ کچھ اطلاعات کے مطابق، یہ حملہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے، جو حالیہ مذاکرات میں تنازع کا باعث تھا- اب تک کی رپورٹس میں ہلاکتوں کی تفصیلات محدود ہیں۔ ایرانی میڈیا نے ملک بھر میں حملوں کی تصدیق کی ہے، لیکن ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اسرائیل میں بھی کوئی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی، البتہ ایرانی انٹیلیجنس وزیر کے شہید ہونے کی غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہورہی ہیں – دونوں ممالک میں ایمرجنسی الرٹ جاری کیے جاچکے ہیں۔
واضح رہے یہ حملہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد ہوا ہے۔ فروری 2026 میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ نے ایران سے جوہری تنصیبات کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جو ایران نے مسترد کر دیا۔ اس سے قبل جون 2025 میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ ہوئی تھی، جس میں ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے کیے تھے۔ حالیہ حملہ اسی تناؤ کا تسلسل ہے۔
اب تک بہت سی عالمی حکومتوں، عرب اور ایشیائی ممالک، اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے اس حملے کے خطرناک اثرات، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، اور خطے میں مزید تشدد کے خدشات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے _ عمان نے اس حملے کو خطرناک غیر ذمہ دارانہ” قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے اصولوں کے خلاف قرار دیا – چین نے ایران کی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف اس کارروائی کی مخالفت کی، اور تصادم کے مزید پھیلاؤ کی تشویش ظاہر کی ہے – اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے دونوں فریقین سے زیادہ سے زیادہ احتیاط اور پرہیز کا مطالبہ کیا ہے – جرمنی اور فرانس نے کہا کہ خطے کی صورتحال مزید بگڑنے کا خطرہ ہے اور تنازع کو بڑھنے سے روکنے کی اپیل کی ہے۔متحدہ عرب امارات اور تونس نے بھی اس حملے پر تحفظات اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یوکرین نے بھی جاری حملوں پر بین الاقوامی سکیورٹی کے اثرات اور اقتصادی مضمرات پر تنبیہ کی ہے۔بھارت نے اپنے شہریوں کے لیے ایران اور اسرائیل میں انتہائی احتیاط کی ہدایت جاری کی ہے۔
پاکستان نے اس بڑے علاقائی حملے کے بعد براہِ راست فوجی یا عسکری مداخلت کا اعلان نہیں کیا، لیکن حکومتی سطح پر سفری ہدایات، اپنے شہریوں کی حفاظت اور فضائی نگرانی پر زور دیا ہے، اور تاریخی طور پر ایران کی خودمختاری اور فلسطین کے حقوق کی حمایت کرنے والے مواقف کو برقرار رکھا ہے۔
اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہتی ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں وسیع تر علاقائی عدم استحکام کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔ تیل کی عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، خلیجی ریاستوں کی سلامتی کے خدشات، اور بڑی طاقتوں کی بالواسطہ شمولیت صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ سفارتی سطح پر آئندہ چند دن نہایت اہم ہوں گے، کیونکہ جنگ کے دائرہ کار کو محدود رکھنے یا اسے وسیع تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے کا انحصار عالمی اور علاقائی قیادت کے فیصلوں پر ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں