کراچی (حسین احمد )برطانوی اخبار دی گارڈین کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گوگل کے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی اوور ویوزجو سرچ رزلٹس کے اوپر خودکار خلاصے کی صورت میں دکھائے جاتے ہیں۔صحت سے متعلق بعض اوقات غلط، گمراہ کن اور خطرناک معلومات فراہم کر رہے ہیں۔
تحقیق کے مطابق یہ معلومات بظاہر مستند انداز میں پیش کی جاتی ہیں، جس کے باعث صارفین انہیں حتمی طبی رائے سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ ان میں بعض مشورے ماہرین کے مطابق مکمل طور پر غلط اور نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں ایک مثال لبلبے کے کینسر کے مریضوں سے متعلق دی گئی، جہاں گوگل کے AI اوور ویو نے مریضوں کو زیادہ چکنائی والی غذا سے پرہیز کا مشورہ دیا، جبکہ ماہرین کے مطابق یہ مریضوں کی غذائی ضروریات کے خلاف ہے اور صحت کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسی طرح جگر کے فنکشن ٹیسٹ (LFTs) سے متعلق فراہم کردہ معلومات بھی ادھوری اور غلط پائی گئیں، جس کے باعث سنگین بیماری میں مبتلا افراد خود کو صحت مند تصور کر سکتے ہیں اور بروقت علاج سے محروم رہ سکتے ہیں۔
تحقیق میں خواتین کے کینسر ٹیسٹس سے متعلق بھی سنگین غلطیوں کی نشاندہی کی گئی، جہاں پیپ ٹیسٹ کو اندام نہانی کے کینسر کا ٹیسٹ ظاہر کیا گیا، حالانکہ یہ حقیقت کے برعکس ہے۔
دی گارڈین کے مطابق نفسیاتی بیماریوں اور کھانے پینے کی عادات سے متعلق بھی بعض AI اوور ویوز نے ایسے مشورے دیے جو مریضوں کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کی رائے
مریضوں کے حقوق کے فورم کی ڈائریکٹر صوفی رینڈل کے مطابق گوگل کے AI اوور ویوز بظاہر مستند انداز میں غلط معلومات پیش کرتے ہیں، جو براہِ راست صارفین کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
میری کیوری کینسر چیریٹی کی اسٹیفنی پارکر کا کہنا ہے کہ لوگ بیماری یا پریشانی کے عالم میں انٹرنیٹ پر فوری رہنمائی تلاش کرتے ہیں، اور اگر اس موقع پر معلومات غلط ہوں تو اس کے نتائج جان لیوا بھی ہو سکتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق کسی بھی خودکار نظام کو انسانی صحت سے متعلق فیصلوں میں حتمی ذریعہ نہیں بننا چاہیے، کیونکہ ہر مریض کی حالت مختلف ہوتی ہے اور غلط عمومی مشورہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی سرچ ٹیکنالوجی نے معلومات تک رسائی کو آسان ضرور بنایا ہے، مگر صحت جیسے حساس شعبے میں اس کے غلط استعمال کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔
AI اوور ویوز چونکہ سرچ رزلٹس کے سب سے اوپر نظر آتے ہیں، اس لیے صارفین انہیں ڈاکٹر یا مستند طبی ماخذ سے زیادہ قابلِ اعتماد سمجھ لیتے ہیں۔ یہی رویہ اصل خطرہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مریض AI کے مشوروں پر انحصار کرتے ہوئے ڈاکٹر سے رجوع نہ کریں تو بیماری کی تشخیص میں تاخیر، غلط علاج اور بعض صورتوں میں جان کا ضیاع بھی ممکن ہے۔
اگرچہ گوگل نے دعویٰ کیا ہے کہ زیادہ تر اوور ویوز درست اور مددگار ہیں اور معیار بہتر بنانے پر کام جاری ہے، تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صحت جیسے معاملات میں تجربات کی گنجائش ہونی چاہیے؟
🗣️ اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں
کیا صحت سے متعلق معلومات کے لیے گوگل اے آئی پر انحصار محفوظ ہے؟
یا ایسی ٹیکنالوجی کو مزید کنٹرول کی ضرورت ہے؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔
