Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

ٹک ٹاک پر وائرل ویڈیو، بے وفا شوہر کی پرائیویسی عدالت میں چیلنج

پروموشنل ویڈیو بنی طلاق کی وجہ، پرائیویسی کی خلاف ورزی کا الزام
ٹک ٹاک پر وائرل ویڈیو، بے وفا شوہر کی پرائیویسی عدالت میں چیلنج

اٹلی میں سوشل میڈیا نے ایک شادی شدہ شخص کی خفیہ بے وفائی کو سب کے سامنے بے نقاب کر دیا، جس کے بعد معاملہ عدالت تک جا پہنچا۔ ٹِک ٹاک پر ایک ریسٹورنٹ کی پروموشنل ویڈیو میں بے وفائی کرتے پکڑے جانے والے شوہر نے ریسٹورنٹ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق مذکورہ شخص ایک ریسٹورنٹ میں کسی اور خاتون کے ساتھ ڈنر کر رہا تھا، جہاں ریسٹورنٹ کی جانب سے بنائی گئی اشتہاری ویڈیو ٹِک ٹاک پر اپلوڈ کی گئی۔ ویڈیو میں شوہر واضح طور پر نظر آ رہا تھا۔

یہ ویڈیو بعد ازاں اس کی اہلیہ کی نظر سے گزری، جس نے اسے بطور ثبوت استعمال کرتے ہوئے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی۔ خاتون کے مطابق شوہر نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اپنے دفتری ساتھیوں کے ساتھ کھانے پر جا رہا ہے، مگر ویڈیو نے اس دعوے کو جھوٹا ثابت کر دیا۔

تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ویڈیو اہلیہ کو خود بخود ٹِک ٹاک پر نظر آئی یا کسی جاننے والے نے شوہر کو پہچان کر یہ ویڈیو خاتون کو بھیجی، تاہم اس انکشاف کے بعد بیوی نے شوہر کو گھر سے نکال دیا اور ازدواجی رشتہ ختم کر دیا۔

واقعے کے بعد 42 سالہ شوہر نے ریسٹورنٹ کے مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی اجازت کے بغیر ویڈیو بنانا اور شائع کرنا ان کی نجی زندگی میں مداخلت اور پرائیویسی کی صریح خلاف ورزی ہے۔

 ماہرین کی رائے

قانونی ماہرین کے مطابق یورپی قوانین کے تحت کسی فرد کی تصویر یا ویڈیو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے قبل اس کی واضح اجازت ضروری ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عدالت یہ ثابت کر دے کہ ریسٹورنٹ نے اجازت کے بغیر ویڈیو استعمال کی تو شوہر کے دعوے میں وزن ہو سکتا ہے، چاہے اخلاقی طور پر معاملہ اس کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

سوشل میڈیا ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ ڈیجیٹل دور میں ایک لمحے کی غفلت زندگی بھر کے نتائج پیدا کر سکتی ہے۔

یہ کیس محض ازدواجی تنازع نہیں بلکہ پرائیویسی، ڈیجیٹل حقوق اور سوشل میڈیا کی حدود سے جڑا ہوا ایک اہم قانونی معاملہ بن چکا ہے۔

جہاں ایک طرف شوہر کی بے وفائی اخلاقی اور سماجی سطح پر تنقید کی زد میں ہے، وہیں دوسری جانب یہ سوال بھی پیدا ہو رہا ہے کہ کیا کاروباری ادارے صارفین کی اجازت کے بغیر انہیں اپنی تشہیر کا حصہ بنا سکتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق عدالت میں اس مقدمے کا فیصلہ مستقبل میں ریسٹورنٹس اور دیگر کاروباری اداروں کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے، خاص طور پر ایسے دور میں جب ٹِک ٹاک اور انسٹاگرام مارکیٹنگ کا اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔

🗣️ اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں

کیا ریسٹورنٹ نے واقعی پرائیویسی کی خلاف ورزی کی؟
یا سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ہر چیز عوامی ہو جاتی ہے؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں