Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

"جدید دور کی غلامی اور پرائیویٹ سکولوں کی استانیاں”

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسا ڈسپلن ہے جس میں ایک استاد کو سات گھنٹے مسلسل کھڑا رکھا جاتا ہے؟
"جدید دور کی غلامی اور پرائیویٹ سکولوں کی استانیاں"

تحریر:سحر ارشد

پرائیویٹ سکول ہمارے معاشرے میں ایک نمایاں حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ والدین ان کے نت نئے "چونچلوں” سے پہلے ہی نالاں رہتے ہیں۔ بھاری فیسوں کے بوجھ تلے دبے ان والدین کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ کتابیں، کاپیاں اور یہاں تک کہ مخصوص مونوگرام والی وردی بھی سکول ہی سے خریدیں۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ معاشرہ اسی چمک دمک اور دکھاوے کا دلدادہ ہے، اس لیے یہ کاروبار خوب چمک رہا ہے۔

تاہم، پرائیویٹ سیکٹر کی یہ اجارہ داری صرف والدین کی جیبوں تک محدود نہیں ہے۔ اس کے پسِ پردہ ایک ایسا خاموش طبقہ ہے جو بدترین استحصال اور ظلم کا شکار ہے، جس کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔ یہ طبقہ "پرائیویٹ سکول کی استانیاں” ہیں۔ یہ وہ مظلوم طبقہ ہے جو قوم کے معمار تیار کرتی ہیں جو قوم کے بچوں کو پروان چڑھانے کے لیے اپنی ذہنی صحت اور عزتِ نفس داؤ پر لگا رہی ہیں۔

نظم و ضبط کے نام پر ان اساتذہ کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا جاتا ہے، اس کی مثال کسی دوسرے مہذب شعبے میں نہیں ملتی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسا ڈسپلن ہے جس میں ایک استاد کو سات گھنٹے مسلسل کھڑا رکھا جاتا ہے؟ بیٹھنے کے لیے ایک کرسی تک مہیا نہیں کی جاتی کہ کہیں "نظم و ضبط” میں خلل نہ پڑ جائے۔ پیروں میں سوجن ہو، ٹانگوں میں شدید درد ہو یا خواتین کے مخصوص ایام کی تکلیف، کسی بھی حالت میں کرسی پر بیٹھنے کی اجازت نہیں۔ ہم بچوں کو کیا خاک ادب سکھائیں گے جب وہ اپنی آنکھوں سے اپنے استاد کو اس قدر بے بس اور مجبور دیکھیں گے؟

معاملہ صرف جسمانی مشقت تک محدود نہیں۔ وقت کی پابندی کا ترازو بھی ایک طرف جھکا ہوا ہے۔ سکول کے اوقات سے آدھا گھنٹہ پہلے پہنچنا لازمی ہے، اور اگر ایک منٹ کی بھی تاخیر ہو جائے تو تنخواہ سے کٹوتی کر لی جاتی ہے۔ لیکن چھٹی کے بعد جب استانیوں کو آدھا گھنٹہ فالتو روکا جاتا ہے، تو اس وقت تنخواہ میں اضافے کا کوئی قانون موجود نہیں ہوتا۔ رہی بات تنخواہ کی، تو وہ بھی کسی احسان کی طرح دی جاتی ہے۔ بعض سکول مالکان تو فرعونیت کی انتہا پر ہیں، جو پہلے دو ماہ کی تنخواہ "سیکیورٹی” کے نام پر ہڑپ کر لیتے ہیں یا ہر ماہ بلاوجہ کٹوتی کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔

استانیوں کی زندگی پر "کالا قانون” نافذ ہے۔ لاکھوں روپے کمانے والے یہ ادارے اپنے اساتذہ کو ایک عام مزدور کے برابر اجرت دینے کو بھی تیار نہیں۔ ذرا سی لغزش، جیسے یونیفارم استری نہ ہونا یا تھکن سے چور ہو کر کسی کرسی پر لمحہ بھر کو بیٹھ جانا، جرمانے کا سبب بن جاتا ہے۔ سکولوں میں موجود کوآرڈینیٹرز کا رویہ اکثر کسی "ظالم نند” جیسا ہوتا ہے جو پرنسپل کو کان بھر کر اساتذہ کی زندگی مزید اجیرن کر دیتی ہیں۔ مہینے کے آخر میں ان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں بچتے کہ وہ اپنی چھوٹی موٹی ضروریات پوری کر سکیں۔

نفسیاتی قید کا یہ عالم ہے کہ موبائل فون تک جمع کر لیے جاتے ہیں۔ گھر میں کوئی ایمرجنسی ہو یا کوئی حادثہ، استاد کو فون تک رسائی نہیں دی جاتی۔ یہ رویہ کسی تعلیمی ادارے کا نہیں بلکہ ایک ایسی ذہنیت کا عکاس ہے جہاں انسان کو محض ایک بے جان پرزہ سمجھا جاتا ہے۔

جب ایک استانی خود ذہنی کرب اور جسمانی تکلیف کی جنگ لڑ رہی ہو گی، تو وہ بچوں کی کارکردگی پر کیا توجہ دے گی؟ سرکاری ملازمتوں کی قلت نے پرائیویٹ سکولوں کے مالکان کو مادرِ پدر آزاد کر دیا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ مجبوریاں اساتذہ کو آواز اٹھانے نہیں دیں گی۔

اب یہ پرائیویٹ سکولوں کی استانیوں پر منحصر ہے کہ وہ اس غیر انسانی سلوک کے خلاف کب متحد ہوتی ہیں۔ جب تک معمارِ قوم خود اپنی زنجیریں نہیں توڑے گا، یہ استحصالی نظام اسی طرح انسانیت کا دم گھونٹتا رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں