Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

قلعے جیسے گھر سے سیف روم تک صدر مادورو کو پکڑنے کے لیے امریکی کارروائی کی کہانی

ڈیلٹا فورس کو امریکہ کا نہایت تربیت یافتہ انسدادِ دہشت گردی دستہ تصور کیا جاتا ہے جو حساس اور خفیہ مشنز انجام دیتا ہے
قلعے جیسے گھر سے سیف روم تک صدر مادورو کو پکڑنے کے لیے امریکی کارروائی کی کہانی

تحریر:حامد اقبال راؤ

تحریر:حامد اقبال راؤ
فائل/فوٹو

امریکہ میں ہفتے کے روز علی الصبح چار بج کر اکیس منٹ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل کے ذریعے اعلان کیا کہ ایک جرات مندانہ امریکی آپریشن کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔اس اعلان کے تقریباً سات گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے ایک تصویر شیئر کی جس میں نکولس مادورو کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی، وہ اسپورٹس لباس میں ملبوس تھے اور ان کے ہاتھ میں پانی کی بوتل نظر آ رہی تھی۔

صدر ٹرمپ نے تصویر کے ساتھ مختصر الفاظ میں لکھا
’’نکولس مادورو، یو ایس ایس آئیوو جیما پر‘‘۔

یو ایس ایس آئیوو جیما وہ امریکی جنگی بحری جہاز ہے جس کے ذریعے مادورو کو امریکہ منتقل کیا گیا، جہاں انہیں منشیات اور اسلحے سے متعلق مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز اور امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار ادارے سی بی ایس کے مطابق یہ کارروائی اچانک نہیں کی گئی بلکہ اس کے پیچھے کئی ماہ کی خفیہ تیاری شامل تھی۔

امریکی فوج کے خصوصی یونٹ ڈیلٹا فورس نے مادورو کی رہائش گاہ کے عین مطابق ایک ماڈل تیار کیا تھا، جہاں بار بار مشقیں کر کے اندر داخل ہونے اور کامیابی سے واپس نکلنے کی حکمتِ عملی آزمائی گئی۔ ڈیلٹا فورس کو امریکہ کا نہایت تربیت یافتہ انسدادِ دہشت گردی دستہ تصور کیا جاتا ہے جو حساس اور خفیہ مشنز انجام دیتا ہے۔

اس دوران سی آئی اے نے بھی اہم کردار ادا کیا اور زمینی نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ صدر مادورو کے قریبی حلقوں سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر ان کی نقل و حرکت اور قیام سے متعلق نگرانی جاری رکھی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق انہوں نے چار روز قبل ہی اس آپریشن کی اجازت دے دی تھی، تاہم عسکری حکام نے موسمی حالات بہتر ہونے تک انتظار کو ضروری قرار دیا۔ فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ موسم جیسے ہی سازگار ہوا، کارروائی فوراً شروع کر دی گئی کیونکہ ایسے مشنز میں موسمی درستگی انتہائی اہم ہوتی ہے۔امریکہ میں ہفتے کے روز علی الصبح چار بج کر اکیس منٹ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل کے ذریعے اعلان کیا کہ ایک جرات مندانہ امریکی آپریشن کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اس اعلان کے تقریباً سات گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے ایک تصویر شیئر کی جس میں نکولس مادورو کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی، وہ اسپورٹس لباس میں ملبوس تھے اور ان کے ہاتھ میں پانی کی بوتل نظر آ رہی تھی۔

صدر ٹرمپ نے تصویر کے ساتھ مختصر الفاظ میں لکھا
’’نکولس مادورو، یو ایس ایس آئیوو جیما پر‘‘۔

یو ایس ایس آئیوو جیما وہ امریکی جنگی بحری جہاز ہے جس کے ذریعے مادورو کو امریکہ منتقل کیا گیا، جہاں انہیں منشیات اور اسلحے سے متعلق مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز اور امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار ادارے سی بی ایس کے مطابق یہ کارروائی اچانک نہیں کی گئی بلکہ اس کے پیچھے کئی ماہ کی خفیہ تیاری شامل تھی۔

امریکی فوج کے خصوصی یونٹ ڈیلٹا فورس نے مادورو کی رہائش گاہ کے عین مطابق ایک ماڈل تیار کیا تھا، جہاں بار بار مشقیں کر کے اندر داخل ہونے اور کامیابی سے واپس نکلنے کی حکمتِ عملی آزمائی گئی۔ ڈیلٹا فورس کو امریکہ کا نہایت تربیت یافتہ انسدادِ دہشت گردی دستہ تصور کیا جاتا ہے جو حساس اور خفیہ مشنز انجام دیتا ہے۔

اس دوران سی آئی اے نے بھی اہم کردار ادا کیا اور زمینی نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ صدر مادورو کے قریبی حلقوں سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر ان کی نقل و حرکت اور قیام سے متعلق نگرانی جاری رکھی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق انہوں نے چار روز قبل ہی اس آپریشن کی اجازت دے دی تھی، تاہم عسکری حکام نے موسمی حالات بہتر ہونے تک انتظار کو ضروری قرار دیا۔ فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ موسم جیسے ہی سازگار ہوا، کارروائی فوراً شروع کر دی گئی کیونکہ ایسے مشنز میں موسمی درستگی انتہائی اہم ہوتی ہے۔

ہفتے کی صبح جب یہ آپریشن شروع ہوا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلوریڈا میں اپنے نجی کلب میں موجود تھے، جہاں سے انہوں نے اس پوری کارروائی کو براہِ راست دیکھا۔

فاکس نیوز سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لینے کا یہ مشن پوری رات جاری رہا، اور انہوں نے اسے ایسے دیکھا جیسے کوئی براہِ راست پروگرام دیکھا جا رہا ہو۔

صدر ٹرمپ کے مطابق امریکی کارروائی کی رفتار اور شدت غیر معمولی تھی، جسے دیکھ کر وہ خاصے متاثر ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ منظر نہایت حیران کن تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وہ ماضی میں کئی کامیاب فوجی آپریشنز دیکھ چکے ہیں، لیکن اس نوعیت کی کارروائی ان کے لیے بالکل منفرد تجربہ تھی

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں