لاہور(حسین احمد )پاکستان نے دفاعی میدان میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے مقامی طور پر تیار کردہ تیمور ویپن سسٹم کا کامیاب فلائٹ ٹیسٹ کر لیا ہے، جسے قومی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فضائیہ نے جدید ٹیکنالوجی سے لیس تیمور ایئر لانچڈ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا، جو قومی ایرو اسپیس اور دفاعی خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
تیمور ویپن سسٹم 600 کلومیٹر تک کی رینج رکھتا ہے اور دشمن کے زمینی و بحری اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ میزائل روایتی وارہیڈ لے جانے کی بھی مکمل اہلیت رکھتا ہے، جو اسے مختلف آپریشنل حالات میں مؤثر بناتا ہے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق یہ میزائل جدید نیویگیشن اور گائیڈنس سسٹمز سے لیس ہے اور نہایت کم بلندی پر پرواز کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کے باعث یہ دشمن کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام کو دھوکہ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی پریسیژن اسٹرائیک صلاحیت پاک فضائیہ کی روایتی ڈیٹرنس اور آپریشنل لچک میں نمایاں اضافہ کرتی ہے، جس سے ملک کی مجموعی دفاعی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس کامیاب فلائٹ ٹیسٹ سے پاکستان کی دفاعی صنعت کی تکنیکی مہارت، جدت اور خودانحصاری کا عملی ثبوت ملا ہے۔ لانچ کے موقع پر مسلح افواج کے سینئر افسران کے ساتھ ساتھ وہ ممتاز سائنسدان اور انجینئرز بھی موجود تھے جنہوں نے اس جدید ویپن سسٹم کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا۔
چیف آف ایئر اسٹاف کی مبارکباد
چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے اس شاندار کامیابی پر سائنسدانوں، انجینئرز اور پاک فضائیہ کی ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے پیشہ ورانہ مہارت، لگن اور قومی دفاع کو مضبوط بنانے کے غیر متزلزل عزم کو سراہا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسی کامیابیاں ٹیکنالوجی میں خودکفالت کے قومی وژن اور بدلتے ہوئے علاقائی سلامتی کے ماحول میں قابلِ اعتماد روایتی ڈیٹرنس برقرار رکھنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔
صدرِ مملکت کا خراجِ تحسین
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھی پاک فضائیہ کی جانب سے تیمور ویپن سسٹم کے کامیاب تجربے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی تیاری قومی صلاحیت، ادارہ جاتی مہارت اور مضبوط عزم کا مظہر ہے۔
صدر زرداری کے مطابق اس کامیابی سے نہ صرف ملکی دفاع مزید مضبوط ہوا ہے بلکہ خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کی ذمہ دارانہ دفاعی پالیسی کو بھی تقویت ملی ہے۔ انہوں نے سائنسدانوں، انجینئرز اور پاک فضائیہ کے افسران و جوانوں کی محنت، پیشہ ورانہ لگن اور قومی خدمت کے جذبے کو سراہا۔
تیمور ویپن سسٹم کا کامیاب فلائٹ ٹیسٹ پاک فضائیہ کی آپریشنل تیاری، تکنیکی برتری اور قومی سلامتی کے اہداف کے حصول کے لیے مسلسل پیش رفت کا واضح ثبوت ہے، جو دشمن کے لیے ایک مضبوط پیغام بھی ہے
ماہرین کی رائے
دفاعی اور عسکری امور کے ماہرین کے مطابق تیمور ویپن سسٹم کا کامیاب فلائٹ ٹیسٹ پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی میں ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔
سابق عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 600 کلومیٹر رینج اور لو لیول فلائٹ کی صلاحیت اس میزائل کو دشمن کے جدید ایئر ڈیفنس سسٹمز کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بنا دیتی ہے۔ ان کے مطابق جدید گائیڈنس اور نیویگیشن سسٹمز سے لیس یہ میزائل پاکستان کی روایتی ڈیٹرنس کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقامی سطح پر اس نوعیت کے ہتھیار کی تیاری پاکستان کی ٹیکنالوجیکل خود انحصاری اور دفاعی صنعت کی پختگی کا واضح ثبوت ہے، جس سے بیرونی انحصار کم اور اسٹریٹجک خودمختاری مضبوط ہوتی ہے۔
ریاست اردو نیوز کے سینیئر صحامی حسین احمد نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کے تیمور ویپن سسٹم کا کامیاب تجربہ محض ایک میزائل ٹیسٹ نہیں بلکہ پاکستان کی دفاعی سوچ میں پختگی اور اعتماد کی علامت ہے۔ بدلتی ہوئی علاقائی سلامتی کی صورتحال میں، جہاں جدید جنگی ٹیکنالوجی فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے، پاکستان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف دفاعی تقاضوں سے باخبر ہے بلکہ ان کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
ایئر لانچڈ کروز میزائل ہونے کی وجہ سے تیمور کو فضائی پلیٹ فارم سے لانچ کیا جا سکتا ہے، جو اسے زیادہ لچکدار، غیر متوقع اور مؤثر بناتا ہے۔ کم بلندی پر پرواز کی صلاحیت دشمن کے ریڈار سسٹمز کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جس سے میزائل کے کامیاب ہدف تک پہنچنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
یہ کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں عسکری توازن نہایت نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اس تناظر میں تیمور ویپن سسٹم پاکستان کے لیے نہ صرف ایک دفاعی ہتھیار ہے بلکہ ایک اسٹریٹجک پیغام بھی ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
چیف آف ایئر اسٹاف اور صدرِ مملکت کی جانب سے خراجِ تحسین اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاستی سطح پر دفاعی خود کفالت کو ایک قومی ترجیح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں
آپ تیمور ویپن سسٹم کے کامیاب تجربے کو پاکستان کی دفاعی صلاحیت کے لیے کتنا اہم سمجھتے ہیں؟
کیا مقامی سطح پر جدید ہتھیاروں کی تیاری پاکستان کے لیے مستقبل میں مزید مضبوط دفاع کی ضمانت بن سکتی ہے؟
👇 اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں 👇
