تحریر :حامد اقبال راؤ

ایران آج عالمی سیاست میں ایک نہایت اہم اور متنازع ملک کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ اس کی اہمیت صرف اس کے جغرافیائی محل و وقوع یا قدیم تہذیب سے نہیں بلکہ اس کے جوہری پروگرام، داخلی سیاسی و سماجی کشیدگی، عوامی مظاہرے اور امریکہ و اسرائیل کے ساتھ پیچیدہ تعلقات کی وجہ سے بھی ہے۔ یہ تمام عوامل ایران کو اندرونی طور پر دباؤ میں رکھتے ہیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ بھی پیدا کرتے ہیں۔ ایران کی پالیسیوں اور عالمی ردعمل نے اسے ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں ہر فیصلہ وسیع اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام نے کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی توجہ حاصل کی ہوئی ہے۔ ایران کے مطابق اس کا مقصد جوہری توانائی کا استعمال صرف بجلی پیدا کرنے، طبی تحقیق اور سائنسی ترقی کے لیے ہے، لیکن امریکہ، اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک اس پر شک کرتے ہیں کہ ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی خوف ایران پر مسلسل دباؤ، سفارتی کشیدگی اور سخت پابندیوں کا سبب بنتا رہا ہے۔ ایران نے کئی مواقع پر عالمی اداروں کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی، مگر اعتماد کی فضا مکمل طور پر قائم نہیں ہو سکی۔
ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کو ابتدا میں کشیدگی کم کرنے کی امید کے طور پر دیکھا گیا۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے پروگرام میں کچھ حدود قبول کیں جبکہ پابندیوں میں نرمی کا وعدہ کیا گیا۔ تاہم بعد میں امریکہ کے معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو گئی۔ پابندیاں سخت ہونے سے ایرانی معیشت پر شدید اثرات مرتب ہوئے، تیل کی برآمدات محدود ہوئیں، غیر ملکی سرمایہ کاری کم ہو گئی اور مالیاتی نظام کمزور ہو گیا، جس سے ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہوا۔
معاشی دباؤ کا سب سے زیادہ اثر عام عوام پر پڑا۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیں اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔ نوجوان طبقہ، جو کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے اہم ہے، مایوسی اور بے یقینی کا شکار ہو گیا۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے محدود مواقع نے انہیں احتجاج کرنے یا ملک چھوڑنے پر مجبور کیا۔ یہ معاشی مشکلات رفتہ رفتہ عوامی غصے اور احتجاجی تحریکوں میں بدل گئی۔
ایران میں عوامی احتجاج صرف اقتصادی مسائل تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں سماجی اور سیاسی حقوق کے مطالبات بھی شامل ہیں۔ خواتین نے ان مظاہروں میں نمایاں کردار ادا کیا، سماجی آزادیوں اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ نوجوان نسل، جو سوشل میڈیا اور عالمی رجحانات سے باخبر ہے، سخت قوانین اور ریاستی کنٹرول سے مطمئن نہیں ہے۔ حکومت نے مظاہروں کو دبانے کی کوشش کی، تاہم اس کے نتیجے میں عوام اور ریاست کے درمیان فاصلہ مزید بڑھ گیا۔
اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اسرائیلی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کو جوہری طاقت حاصل کرنے سے نہیں روکنے دے گی۔ اسی وجہ سے دونوں کے درمیان براہِ راست جنگ کے بجائے پراکسی تنازعات، سائبر حملے اور خفیہ کارروائیاں جاری ہیں۔ ایران پر الزام ہے کہ وہ خطے میں مختلف گروہوں کی حمایت کے ذریعے اسرائیل کے خلاف دباؤ بڑھاتا ہے، جبکہ اسرائیل ایران کے جوہری اور عسکری ڈھانچے کو نشانہ بناتا ہے۔
امریکہ، اسرائیل کا مضبوط اتحادی ہونے کی وجہ سے، ایران کے خلاف سخت رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ امریکی حکمت عملی کا مقصد ایران پر اقتصادی، سیاسی اور سفارتی دباؤ بڑھا کر اسے اپنے جوہری پروگرام میں کمی کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ امریکہ کی پالیسی نے ایران کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا اور اس کے اثرات ایرانی معیشت اور سیاست دونوں پر واضح ہیں۔ ایران اس پر ردعمل کے طور پر امریکہ کو خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے اور خود کو مزاحمتی قوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔
ایران کی یہ پالیسی کہ وہ دباؤ کے باوجود اپنے موقف پر قائم رہے، ایک طرف اس کی نظریاتی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے تو دوسری طرف عوام کے لیے مشکلات بڑھاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران طویل عرصے تک اس دباؤ کو برداشت کر سکتا ہے؟ کیا جوہری پروگرام پر اصرار اور مغرب سے ٹکراؤ واقعی ایرانی عوام کے فائدے میں ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو داخلی سطح پر بھی زیرِ بحث ہیں۔
مستقبل میں ایران کے لیے ایک نازک توازن قائم کرنا ضروری ہوگا۔ ایک طرف اسے اپنی خودمختاری اور قومی وقار کا تحفظ کرنا ہے، تو دوسری طرف عوامی سماجی اور معاشی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ اگر ایران عالمی برادری کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے ذریعے پابندیوں میں نرمی حاصل کر سکے اور اندرونی اصلاحات کی طرف قدم بڑھائے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر، جوہری تنازع، عوامی احتجاج اور امریکہ و اسرائیل سے کشیدگی مزید بحران پیدا کر سکتی ہے۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ ایران ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں اس کے فیصلے نہ صرف ملک کے مستقبل بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور امن پر اثر انداز ہوں گے۔ تاریخ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہوتے ہیں، اور جو ریاستیں عوامی اعتماد کھو دیتی ہیں وہ دیرپا استحکام حاصل نہیں کر سکتیں۔ ایران کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ عالمی دباؤ، علاقائی دشمنی اور داخلی بے چینی کے درمیان ایسا راستہ اپنائے جو اس کے عوام کے لیے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکے۔
