Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

ایران میں مظاہرے بے قابو، ملک بھر میں مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ

تہران، تبریز، اصفہان، مشہد اور کرمان سمیت ایران کے تمام 31 صوبوں میں احتجاج پھیل چکا ہے
ایران میں مظاہرے بے قابو، ملک بھر میں مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ

کراچی :(ایم اے زیب رضا )ایران ایک بار پھر شدید داخلی بحران کی زد میں آ چکا ہے، جہاں بدترین معاشی حالات کے باعث عوامی غصہ سڑکوں پر پھٹ پڑا ہے۔ دارالحکومت تہران سمیت ملک کے طول و عرض میں مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں، جبکہ حکومت نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ کر دیا ہے۔

انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کی شام سے ایران میں قومی سطح پر انٹرنیٹ سروس معطل ہے، جو بظاہر بڑھتے ہوئے احتجاج کو دبانے کی ایک کوشش سمجھی جا رہی ہے۔

احتجاج کی شدت اس وقت مزید بڑھ گئی جب تہران اور دیگر بڑے شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے، مرکزی شاہراہیں بند کر دیں اور حکومت و نظام کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔

قطری خبر رساں ادارے کے نمائندے توحید اسدی نے تہران سے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا کہ جمعرات کی رات تقریباً 8 بجے کے بعد دارالحکومت کے کئی علاقوں میں عوام گھروں سے نکل آئے۔ مرکزی علاقوں میں متعدد سڑکیں بند تھیں، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جبکہ سیاسی قیادت کے خلاف سخت اور غیر معمولی نعرے سنائی دیے۔

رپورٹر کے مطابق بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ نے عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم کر دیا ہے، خاص طور پر مزدور طبقہ اور نچلا متوسط طبقہ روزمرہ ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہو چکا ہے۔

یہ احتجاج دسمبر کے اختتام سے جاری ہیں، جن کی ابتدا ایرانی ریال کی شدید گراوٹ اور مہنگائی میں بے تحاشا اضافے کے باعث ہوئی تھی، تاہم اب یہ مظاہرے محض معاشی مطالبات تک محدود نہیں رہے بلکہ ایک وسیع تر سیاسی تحریک کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق مظاہروں کے آغاز سے اب تک کم از کم 45 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ ہزاروں افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

تہران، تبریز، اصفہان، مشہد اور کرمان سمیت ایران کے تمام 31 صوبوں میں احتجاج پھیل چکا ہے، جبکہ متعدد شہروں میں بازار بند اور تاجر ہڑتال پر ہیں۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے متضاد پیغامات سامنے آ رہے ہیں۔ صدر مسعود پزشکیان نے سیکیورٹی فورسز کو تحمل سے کام لینے کی ہدایت دی ہے، تاہم زمینی حقائق ان بیانات سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق ایران میں جاری مظاہرے محض وقتی ردعمل نہیں بلکہ گہرے معاشی اور سیاسی بحران کا نتیجہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ حکومت کی کمزوری کی علامت ہے، کیونکہ عوامی غصے کو دبانے کے لیے معلومات تک رسائی بند کرنا ایک پرانا مگر ناکام حربہ ثابت ہو چکا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ریال کی گراوٹ، بے روزگاری اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی برداشت ختم کر دی ہے، اور اب حکومت کے لیے صورتحال کو پرامن طریقے سے سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طاقت کے استعمال سے بحران مزید گہرا ہوگا اور عالمی سطح پر ایران پر دباؤ میں اضافہ متوقع ہے۔

ایران میں جاری احتجاج ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں معاشی شکایات سیاسی مطالبات میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ انٹرنیٹ کی مکمل بندش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت اطلاعات کے پھیلاؤ سے خوفزدہ ہے اور عوامی رابطوں کو محدود کر کے تحریک کی رفتار کم کرنا چاہتی ہے۔

تاہم ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایسے اقدامات وقتی سکون تو دے سکتے ہیں مگر طویل المدتی حل فراہم نہیں کرتے۔ جب مہنگائی، بے روزگاری اور کرنسی کی قدر میں کمی جیسے مسائل حل نہ ہوں تو عوامی غصہ مزید شدت اختیار کرتا ہے۔

اگر حالات اسی طرح بگڑتے رہے تو ایران نہ صرف داخلی عدم استحکام بلکہ عالمی سطح پر مزید تنہائی کا سامنا بھی کر سکتا ہے، جو معیشت پر مزید دباؤ ڈالے گا۔

 ریاست نیوز اردو کےسینیئر تجزیہ نگارایم اے زیب رضا کا تجزیہ کرتے ہوئے کہنا تھا ایران میں جاری حالیہ احتجاج محض مہنگائی یا کرنسی بحران کا وقتی ردعمل نہیں بلکہ یہ برسوں سے دبے ہوئے عوامی غصے کا ایک فیصلہ کن اظہار بنتا جا رہا ہے۔ ایرانی ریال کی مسلسل گراوٹ، روزمرہ اشیائے ضروریہ کی ناقابلِ برداشت قیمتیں اور ریاستی کنٹرول نے عام شہری کی زندگی کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے، جس کا نتیجہ اب سڑکوں پر نظر آ رہا ہے۔

حکومت کی جانب سے ملک گیر انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اس امر کی واضح علامت ہے کہ ریاست کو اس بار احتجاج کے پھیلاؤ اور اس کی سمت پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں۔ انٹرنیٹ کی بندش ماضی میں بھی ایران میں آزمائی جا چکی ہے، تاہم موجودہ دور میں یہ حکمتِ عملی زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہو رہی کیونکہ عوامی غصہ اب محض ڈیجیٹل نہیں بلکہ زمینی سطح پر منظم ہو چکا ہے۔

خاص طور پر تہران، تبریز، اصفہان، مشہد اور کرمان جیسے بڑے شہروں میں مظاہروں کا پھیل جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ احتجاج کسی ایک طبقے یا علاقے تک محدود نہیں رہا۔ مزدور، تاجر، طلبہ اور نچلا متوسط طبقہ یکساں طور پر سڑکوں پر موجود ہے، جبکہ بازاروں کی بندش نے معیشت کو مزید مفلوج کر دیا ہے۔

احتجاج کی نوعیت میں آنے والی تبدیلی سب سے اہم پہلو ہے۔ ابتدا میں مطالبات معاشی تھے، مگر اب نعرے براہِ راست نظام، سیاسی قیادت اور ریاستی پالیسیوں کے خلاف سنائی دے رہے ہیں، جو کسی ممکنہ سیاسی ہلچل کا عندیہ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیکیورٹی ادارے سخت ردعمل اختیار کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں اور گرفتاریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے تحمل کی اپیل اور زمینی حقیقت کے درمیان واضح تضاد بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ اگر ریاست طاقت کے استعمال پر انحصار کرتی رہی تو یہ بحران وقتی طور پر دب تو سکتا ہے، مگر طویل المدتی استحکام کے امکانات مزید کم ہو جائیں گے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی یہ صورتحال ایران کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس، انٹرنیٹ بندش اور عوامی ہلاکتیں عالمی دباؤ میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں، جس کا براہِ راست اثر ایران کی پہلے سے کمزور معیشت پر پڑے گا۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایران ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں ریاستی فیصلے آنے والے دنوں میں یہ طے کریں گے کہ ملک کسی اصلاحی عمل کی طرف بڑھتا ہے یا مزید عدم استحکام کی دلدل میں دھنس جاتا ہے۔

🗣️ اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں

کیا ایران میں جاری مظاہرے کسی بڑے سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے؟
یا حکومت ایک بار پھر طاقت کے ذریعے صورتحال پر قابو پا لے گی؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں