Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

غلام مرتضی

موسم اب صرف قدرتی نظام نہیں رہا بلکہ سیاست، معیشت، جنگ، پانی، خوراک اور انسانی بقا سے جڑا سب سے بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے
پاکستان اور ایران کا بگڑتا موسم آخر کس کی شکست ہے؟

پاکستان اور ایران کا بگڑتا موسم آخر کس کی شکست ہے؟

تحریر؛غلام مرتضی

دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں موسم اب صرف قدرتی نظام نہیں رہا بلکہ سیاست، معیشت، جنگ، پانی، خوراک اور انسانی بقا سے جڑا سب سے بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ کبھی بارشیں مہینوں غائب رہتی ہیں، کبھی چند گھنٹوں میں شہر ڈوب جاتے ہیں، کبھی گرمی انسانی برداشت سے باہر ہو جاتی ہے اور کبھی فضا اس قدر زہریلی بن جاتی ہے کہ سانس لینا بھی بیماری محسوس ہونے لگتا ہے۔ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ اس تبدیلی کا سب سے بڑا شکار بن رہے ہیں، اور اگر اس خطے میں دو ممالک کی مثال لی جائے تو پاکستان اور ایران اس بحران کی واضح تصویر دکھاتے ہیں۔

یہ دونوں ممالک صنعتی طاقت نہیں۔ نہ یہاں یورپ جیسی ہزاروں فیکٹریاں ہیں، نہ چین جیسی وسیع صنعتی مشینری، مگر اس کے باوجود پاکستان اور ایران کے کئی شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتے ہیں۔ لاہور کی سموگ ہو یا تہران کی زہریلی فضا، کراچی کی گرمی ہو یا ایران کے گرد آلود طوفان، ہر منظر ایک ہی سوال پوچھتا ہے: آخر کم صنعت کے باوجود یہاں آلودگی اتنی خطرناک کیوں ہے؟

اس سوال کا جواب صرف فیکٹریوں میں نہیں بلکہ ایک پورے بگڑتے ہوئے نظام میں چھپا ہوا ہے۔

پاکستان اور ایران جغرافیائی طور پر خشک اور حساس خطوں میں واقع ہیں۔ یہاں بارشیں پہلے ہی محدود تھیں، لیکن موسمیاتی تبدیلی نے صورتحال مزید خراب کر دی۔ ایران گزشتہ کئی برسوں سے شدید خشک سالی کا شکار ہے۔ جھیلیں سکڑ رہی ہیں، زیرِ زمین پانی ختم ہو رہا ہے اور زمین بنجر بنتی جا رہی ہے۔ جب زمین اپنی نمی کھو دیتی ہے تو پھر ہوا صرف ٹھنڈک نہیں لاتی بلکہ مٹی، ریت اور زہریلے ذرات کو اٹھا کر شہروں تک لے آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں گرد کے طوفان معمول بنتے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ یہاں جنگلات کی بے دریغ کٹائی، زرعی زمینوں کا خاتمہ اور شہروں کی بے ہنگم توسیع نے ماحول کو غیر متوازن کر دیا ہے۔ لاہور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ جیسے شہروں میں جب سردیاں آتی ہیں تو فضا میں موجود دھواں، گرد، گاڑیوں کے اخراج اور فصلوں کی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والا زہر ایک موٹی تہہ بنا لیتا ہے، جسے سموگ کہا جاتا ہے۔ یہ صرف دھند نہیں بلکہ ایک خاموش قاتل ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ یورپ میں صنعت پاکستان اور ایران سے کہیں زیادہ ہے، مگر وہاں کی فضا نسبتاً صاف ہے۔ اس کی بنیادی وجہ قوانین، ٹیکنالوجی اور نظم و ضبط ہے۔ یورپ میں فیکٹریوں کے اخراج کو کنٹرول کیا جاتا ہے، گاڑیوں کے معیار سخت ہیں، صاف ایندھن استعمال ہوتا ہے اور شہری منصوبہ بندی جدید اصولوں کے تحت کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان اور ایران میں اکثر پرانی گاڑیاں، ناقص ایندھن، غیر معیاری فیکٹریاں اور کمزور ماحولیاتی پالیسیاں صورتحال کو بگاڑتی جا رہی ہیں۔

پاکستان میں لاکھوں گاڑیاں ایسی ہیں جو دہائیوں پرانے انجن استعمال کرتی ہیں۔ ڈیزل سے اٹھنے والا دھواں صرف کاربن نہیں بلکہ زہریلے ذرات، سلفر اور کیمیکلز پر مشتمل ہوتا ہے۔ اسی طرح اینٹوں کے بھٹے، کوئلہ جلانے والی صنعتیں اور کھلے عام کچرا جلانے کا رجحان فضا کو مزید تباہ کرتا ہے۔ ایران میں صورتحال پر امریکی پابندیوں نے بھی اثر ڈالا۔ پابندیوں کی وجہ سے جدید ماحولیاتی ٹیکنالوجی تک رسائی محدود ہوئی، پرانی گاڑیاں زیادہ عرصہ استعمال ہوئیں اور تیل کی ریفائننگ کا معیار متاثر ہوا، جس کا نتیجہ فضائی آلودگی کی شکل میں سامنے آیا۔

لیکن اس پوری کہانی کا سب سے خطرناک پہلو صرف آلودگی نہیں بلکہ پانی اور موسم پر بڑھتی ہوئی عالمی کشمکش ہے۔

آج دنیا میں “ویدر کنٹرول” اور “کلاؤڈ سیڈنگ” جیسے الفاظ عام ہوتے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر متحدہ عرب امارات نے مصنوعی بارش کے منصوبوں پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ وہاں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بادلوں میں مخصوص کیمیکل چھوڑے جاتے ہیں تاکہ بارش کے امکانات بڑھائے جا سکیں۔ اسے کلاؤڈ سیڈنگ کہا جاتا ہے۔ یہ کوئی خفیہ پروگرام نہیں بلکہ ایک سرکاری اور سائنسی منصوبہ ہے، جس کا مقصد پانی کی کمی پر قابو پانا ہے۔

مگر سوشل میڈیا کے دور میں حقیقت اور افواہ کے درمیان فرق تیزی سے مٹتا جا رہا ہے۔ جب حالیہ برسوں میں ایران، عراق اور خلیجی ممالک میں غیر معمولی موسمی تبدیلیاں آئیں تو کئی حلقوں نے دعویٰ کرنا شروع کر دیا کہ خلیجی ممالک موسم کو “کنٹرول” کر رہے ہیں۔ بعض افواہوں میں یہاں تک کہا گیا کہ ایران نے متحدہ عرب امارات میں ایک ایسے مرکز کو نشانہ بنایا جو خطے کے موسم پر اثر انداز ہو رہا تھا۔

یہ دعوے عوام میں اس لیے مقبول ہوئے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی پانی کی شدید قلت، سیاسی کشیدگی اور موسمی بحران سے گزر رہا ہے۔ لوگ سمجھنے لگے کہ شاید بارشیں بھی اب سیاسی طاقت کے ذریعے تقسیم ہو رہی ہیں۔ لیکن سائنسی حقیقت اس سے مختلف ہے۔

ماہرین کے مطابق کلاؤڈ سیڈنگ صرف محدود پیمانے پر پہلے سے موجود بادلوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔ یہ پورے خطے کا موسم تبدیل نہیں کر سکتی، نہ ہی کسی ملک سے بارش “چھین” سکتی ہے۔ بارش کا نظام زمین کے درجہ حرارت، سمندری ہواؤں، فضائی دباؤ، نمی اور عالمی موسمیاتی نظام سے جڑا ہوتا ہے۔ کوئی ایک ملک یا ایک مرکز پورے خطے کے موسم کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔

مگر یہاں ایک اہم سوال ضرور پیدا ہوتا ہے: اگر موسم مکمل طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکتا تو پھر دنیا بھر میں موسمی ٹیکنالوجی پر اربوں ڈالر کیوں خرچ ہو رہے ہیں؟

اس کا جواب مستقبل کی جنگوں میں چھپا ہوا ہے۔

پہلے جنگیں زمین، تیل اور سرحدوں پر ہوتی تھیں۔ اب پانی، خوراک اور ماحول نئی جنگوں کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ بارہا خبردار کر چکی ہے کہ آنے والے برسوں میں پانی سب سے بڑا عالمی تنازع بن سکتا ہے۔ پاکستان اور ایران دونوں پانی کے بحران کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان میں دریاؤں کا بہاؤ کم ہو رہا ہے جبکہ ایران میں کئی دریا اور جھیلیں سکڑ چکی ہیں۔ جب پانی کم ہوتا ہے تو زراعت متاثر ہوتی ہے، خوراک مہنگی ہوتی ہے، لوگ ہجرت کرتے ہیں اور سماجی بے چینی بڑھتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج ماحولیات صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکی ہے۔

پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں موسمیاتی تبدیلی پر سنجیدہ قومی پالیسی اب تک مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکی۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر ماحولیاتی منصوبے اکثر فائلوں میں دفن ہو جاتے ہیں۔ ایک طرف درخت لگانے کے دعوے ہوتے ہیں تو دوسری طرف جنگلات ختم کیے جاتے ہیں۔ ایک طرف سموگ ایمرجنسی لگتی ہے تو دوسری طرف وہی پرانی گاڑیاں اور بھٹے چلتے رہتے ہیں۔

ایران میں بھی صورتحال سیاسی اور معاشی بحرانوں سے جڑی ہوئی ہے۔ اقتصادی پابندیوں، مہنگائی اور اندرونی دباؤ نے ماحولیات کو حکومتی ترجیحات سے پیچھے دھکیل دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شہروں میں آلودگی، پانی کی قلت اور گرد کے طوفان روزمرہ زندگی کا حصہ بنتے گئے۔

سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس پورے بحران کا سب سے بڑا شکار عام انسان ہے۔ لاہور میں ایک مزدور سموگ میں سانس لیتا ہے، تہران میں ایک بچہ زہریلی فضا میں کھیلتا ہے، سندھ میں ایک کسان خشک زمین دیکھتا ہے اور ایران کے دیہی علاقوں میں لوگ پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتی، مگر اس کا بوجھ ہمیشہ کمزور طبقے پر زیادہ پڑتا ہے۔

اگر آج بھی پاکستان اور ایران نے سنجیدگی سے ماحولیات، پانی اور شہری منصوبہ بندی پر توجہ نہ دی تو آنے والے برسوں میں صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔ سموگ مستقل بیماری بن سکتی ہے، گرمی انسانی برداشت سے باہر جا سکتی ہے اور پانی کا بحران معاشی و سیاسی عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔

دنیا اب صرف ایٹمی یا عسکری طاقت سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ اصل طاقت وہ ہوگی جو اپنی فضا صاف رکھ سکے، اپنے پانی کو محفوظ بنا سکے اور اپنے موسم کے ساتھ ہم آہنگ رہ سکے۔

ورنہ شاید مستقبل کی سب سے بڑی جنگ بندوقوں سے نہیں بلکہ سانس، پانی اور موسم پر لڑی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں