تحریر:حامد اقبال راؤ

جب وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو پہلی مرتبہ نیو یارک کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا تو عدالت کے کمرے میں ان کے قدموں میں پڑی بیڑیوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے وہاں موجود صحافیوں اور شہریوں سے کہا کہ انہیں زبردستی یہاں لایا گیا ہے۔
عدالت میں کارروائی کے آغاز پر جج ایلون ہیلرسٹین نے مادورو سے اپنی شناخت واضح کرنے کی درخواست کی۔ اس پر مادورو نے ہسپانوی زبان میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ نکولس مادورو ہیں، جمہوریہ وینزویلا کے صدر ہیں، اور انہیں 3 جنوری کو اغوا کر کے امریکا منتقل کیا گیا۔
عدالت میں موجود مترجم نے ان کے بیان کا انگریزی میں ترجمہ پیش کیا۔ مادورو نے مزید دعویٰ کیا کہ انہیں دارالحکومت کاراکس میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔
تاہم 82 سالہ جج نے فوری طور پر گفتگو کو روک دیا اور کہا کہ ان نکات پر بات کرنے کے لیے بعد میں مناسب موقع فراہم کیا جائے گا۔
تقریباً 40 منٹ تک جاری رہنے والی اس سماعت میں مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس نے منشیات اور اسلحے سے متعلق لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ مادورو کا کہنا تھا کہ وہ کسی جرم میں ملوث نہیں اور ایک بے گناہ انسان ہیں، جبکہ فلوریس نے بھی خود کو مکمل طور پر قصوروار نہ ہونے کا دعویٰ کیا۔
63 سالہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو بعد ازاں نیو یارک کی ایک جیل منتقل کر دیا گیا۔ انہیں ہفتے کے روز امریکی فورسز نے ان کے کمپاؤنڈ پر کارروائی کے دوران حراست میں لیا تھا، جبکہ اسی دوران امریکا کی جانب سے وینزویلا میں بعض فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔سماعت کے دوران نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ نیلے اور نارنجی رنگ کے قیدی لباس کے ساتھ خاکی رنگ کی پتلون میں ملبوس تھے۔ دونوں نے ہسپانوی ترجمہ سننے کے لیے ہیڈفون لگا رکھے تھے اور ان کے درمیان ایک وکیل بیٹھا ہوا تھا۔
مادورو پوری کارروائی کے دوران پیلے رنگ کے قانونی نوٹ پیڈ پر توجہ سے نکات تحریر کرتے رہے۔ سماعت مکمل ہونے کے بعد انہوں نے جج سے اجازت طلب کی کہ وہ یہ نوٹ پیڈ اپنے ساتھ رکھ سکیں، جس کی اجازت دے دی گئی۔
کمرۂ عدالت میں داخل ہوتے وقت مادورو نے پیچھے مڑ کر حاضرین میں موجود چند افراد کی جانب سر ہلا کر اشارہ کیا۔ یہی وہ وفاقی عدالت ہے جہاں کچھ عرصہ قبل معروف امریکی موسیقار اور پروڈیوسر شان جان کومبز، جنہیں ’ڈڈی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کے خلاف مقدمہ چلا تھا۔
پیر کے روز ہونے والی کارروائی کے دوران مادورو کا رویہ پُرسکون رہا اور ان کے چہرے پر کسی خاص ردِعمل کے آثار نظر نہیں آئے۔ تاہم سماعت کے اختتام پر حاضرین میں سے ایک شخص نے بلند آواز میں کہا کہ مادورو کو اپنے اعمال کا حساب دینا پڑے گا۔
اس پر مادورو نے ہسپانوی زبان میں اس شخص کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ وہ ایک صدر اور جنگی قیدی ہیں۔ اس واقعے کے فوراً بعد سکیورٹی اہلکاروں نے اس شخص کو عدالت سے باہر نکال دیا۔
یہ سماعت دیگر حاضرین کے لیے بھی جذباتی ثابت ہوئی۔ وینزویلا کی صحافی میبورت پتیت، جو ماضی میں مادورو کی حکومت پر رپورٹنگ کر چکی ہیں، نے بتایا کہ مادورو کی گرفتاری کے دوران کاراکس میں ہونے والے امریکی حملوں میں ان کے خاندان کے گھر کو نقصان پہنچا تھا۔
ان کے مطابق اپنے ملک کے سابق صدر کو امریکی مارشلز کے حصار میں جیل کے لباس میں عدالت میں دیکھنا ایک ایسا منظر تھا جس پر یقین کرنا مشکل تھا۔
مادورو کی اہلیہ سیلیا فلوریس سماعت کے دوران نسبتاً خاموش رہیں۔ ان کی آنکھوں اور پیشانی کے قریب پٹیاں بندھی ہوئی تھیں، جن کے بارے میں وکلا کا کہنا تھا کہ یہ گرفتاری کے وقت آنے والی چوٹوں کے باعث لگائی گئی ہیں۔
فلوریس دھیمی آواز میں گفتگو کر رہی تھیں اور ان کے سنہرے بال پیچھے کی طرف بندھے ہوئے تھے۔ ان کے قانونی نمائندوں نے عدالت سے درخواست کی کہ انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں، جبکہ پسلیوں میں ممکنہ چوٹ یا فریکچر کے خدشے کے پیشِ نظر ایکسرے کی بھی درخواست دی گئی۔
سماعت کے دوران مادورو اور ان کی اہلیہ نے ضمانت کی کوئی درخواست جمع نہیں کرائی، تاہم قانونی طور پر وہ بعد میں ایسا کر سکتے ہیں۔ فی الحال دونوں کو وفاقی تحویل میں رکھا جائے گا۔
امریکی حکام نے مادورو پر منشیات سے جڑی دہشت گردی کی سازش، کوکین کی اسمگلنگ، خودکار اسلحہ اور تباہ کن ہتھیار رکھنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ اسی نوعیت کے الزامات مادورو کی اہلیہ، بیٹے اور چند دیگر افراد پر بھی لگائے گئے ہیں۔
اس مقدمے کی آئندہ سماعت 17 مارچ کو طے کی گئی ہے۔
