Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

نیند کے دوران تیز روشنی ادھیڑ عمر افراد میں سنگین بیماریوں کا سبب؟

نیند کی کمی یا بے کیفیت نیند دل کی بیماریوں، فالج اور ہارٹ فیلیئر کا سبب بنتی ہے
نیند کے دوران تیز روشنی ادھیڑ عمر افراد میں سنگین بیماریوں کا سبب؟

رات کی تنہائی میں روشنی کی بھرمار ادھیڑ عمر کے افراد کے لیے خاموش قاتل ثابت ہو سکتی ہے، جو نیند کی گہری نیند کو چھین کر فالج اور ہارٹ فیلیئر جیسے سنگین امراض کے دروازے کھول دیتی ہے۔ تازہ ترین تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ رات میں زیادہ روشنی کا سامنا کرنے والے افراد میں قلبی اور دماغی مسائل کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے، کیونکہ یہ نیند کی کیفیت کو شدید متاثر کرتی ہے اور جسم کے قدرتی توازن کو درہم برہم کر دیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری زندگی کی اس روشنی کی آلودگی نے ادھیڑ عمر کی صحت کو ایک نئی لعنت کا روپ دے دیا ہے، جو ہارمونز کی بے قاعدگی اور دماغی دباؤ کو جنم دیتی ہے۔

یہ حقیقت اب سائنسی تحقیقات کی روشنی میں واضح ہو رہی ہے، جہاں رات کی روشنی نے نیند کے چکر کو توڑ دیا ہے، جو انسانی جسم کی بنیادی ضرورت ہے۔ ادھیڑ عمر کے افراد، جو کام کی مصروفیات اور خاندانی ذمہ داریوں میں الجھے ہوتے ہیں، اس روشنی کی زد میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اور اس کا نتیجہ دل کی ناکامی یا فالج کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

نیند میں خلل

رات کی زیادہ روشنی نیند کی گہرائی کو چھین لیتی ہے، جو ادھیڑ عمر کے افراد میں صحت کے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ نیند کی کمی یا بے کیفیت نیند دل کی بیماریوں، فالج اور ہارٹ فیلیئر کا سبب بنتی ہے، کیونکہ جسم کی مرمت کا عمل رات کی تاریکی میں ہی مکمل ہوتا ہے۔ روشنی کی موجودگی دماغ کو جاگنے کا سگنل دیتی ہے، جو نیند کے قدرتی چکر کو درہم برہم کر دیتی ہے اور طویل مدتی صحت کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔

ہارمونل توازن کی تباہی

زیادہ روشنی جسم میں کورٹیسول جیسے تناؤ ہارمون کی سطح کو بڑھا دیتی ہے، جو قلبی اور دماغی صحت کے لیے زہر قاتل ہے۔ ادھیڑ عمر میں یہ ہارمونل بے توازنی بلڈ پریشر کو بڑھاتی ہے اور دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی پیدا کرتی ہے، جو ہارٹ فیلیئر کی طرف لے جاتی ہے۔ روشنی کی یہ مداخلت جسم کے قدرتی رومالٹن (نیند ہارمون) کو روکتی ہے، جو ادھیڑ عمر کی صحت کو مزید کمزور کر دیتی ہے۔

دل کی دھڑکن اور دماغی دباؤ

رات کی روشنی دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کا باعث بنتی ہے، جو بلڈ پریشر میں اضافے اور ہارٹ فیلیئر کے خطرات کو بڑھاتی ہے۔ ادھیڑ عمر کے افراد میں یہ دباؤ دماغی سرگرمیوں کو متاثر کرتا ہے، جہاں مائکرو سلیپ (مختصر نیند) کی حالت پیدا ہو جاتی ہے، جو فالج کی طرف لے جاتی ہے۔ روشنی دماغ کو سونے سے روکتی ہے، جو تناؤ اور دماغی دباؤ کو بڑھا دیتی ہے، اور طویل عرصے میں صحت کی تباہی کا سبب بنتی ہے۔

عوامی رائے

اس تحقیق نے سوشل میڈیا پر صحت کے شعور کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں لوگ رات کی روشنی کی آلودگی پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر #NightLightHealthRisks ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا: "رات کی روشنی فالج کا خطرہ؟ اب کمرے کی لائٹس کم کروں گا، نیند کی قدر کرو!” دوسرے نے کہا: "ادھیڑ عمر میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ، روشنی سے بچیں، صحت پہلے!”

عوام نے صحت مند عادات کی ترغیب دی: "کارٹین لائٹس سے دور، قدرتی تاریکی میں سوئیں!” مجموعی طور پر، عوامی جذبات تشویش اور احتیاط کی آمیزش ہیں، جو رات کی روشنی کو صحت کا دشمن سمجھتے ہیں۔

رات کی زیادہ روشنی ادھیڑ عمر میں فالج اور ہارٹ فیلیئر جیسے سنگین امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے، جو نیند کی خرابی سے قلبی اور دماغی صحت کو تباہ کر دیتی ہے۔ نیند میں خلل، ہارمونل بے توازنی، دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی، اور مائکرو سلیپ کی حالت جسم کی مرمت کو روکتی ہے، جو ادھیڑ عمر کی صحت کو شدید خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ یہ تحقیق شہری زندگی کی روشنی آلودگی کی تلخی کو اجاگر کرتی ہے، جو کورٹیسول جیسے ہارمونز کو بڑھا کر بلڈ پریشر اور دماغی دباؤ پیدا کرتی ہے۔ عوامی سطح پر، تشویش غالب ہے جو صحت مند عادات کی ترغیب دیتی ہے، جو رات کی تاریکی کی قدر کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مجموعی طور پر، یہ تحقیق طرز زندگی کی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے، جو نیند کی حفاظت سے صحت کو محفوظ رکھ سکتی ہے اور ادھیڑ عمر کے امراض کو روک سکتی ہے۔

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں