ریو نیگرو/بوینس ایرس; تصور کیجیے کہ آپ زمین کی تہہ میں سے ایک ایسا انڈہ نکالتے ہیں جو دیکھنے میں بالکل تازہ لگتا ہے، جیسے ابھی ابھی کوئی پرندہ اسے چھوڑا ہو، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ 70 ملین سال پرانا ہے ۔ایک ایسا خزانہ جو ڈائنوسار کے دور کی گہرائیوں سے ابھرا ہے۔ ارجنٹینا کے دور دراز علاقے پیٹاگونیہ میں، ریو نیگرو کی سرزمین پر، سائنسدانوں نے ایک ایسا فوسل دریافت کیا ہے جو نہ صرف اپنی ناقابلِ یقین حالت کی وجہ سے حیران کن ہے بلکہ مستقبل کی کئی سائنسی دریافتوں کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
یہ انوکھا انڈہ، جو شتر مرغ کے انڈے جتنا بڑا اور بیضوی شکل کا ہے، ارجنٹینا کے نیشنل کونسل فار سائنٹیفک اینڈ ٹیکنیکل ریسرچ (CONICET) اور ارجنٹینا میوزیم آف نیچرل سائنسز کی مشترکہ ٹیم نے 7 اکتوبر کو لائیو براڈکاسٹ کے دوران نکالا۔ ابتدائی جائزہ لینے والوں کو تو یہ ایک عام ریہا (جنوبی امریکی اوسٹریچ) کا انڈہ لگا، مگر تفصیلی معائنہ بتاتا ہے کہ یہ کریٹیسیئس دور (تقریباً 70 ملین سال پرانی) کا ہے اور ممکنہ طور پر بونا پارٹینیکس نامی چھوٹے گوشت خور تھیرو پوڈ ڈائنوسار کا ہے۔
اس علاقے کی سرزمین، جو فوسلز کی خزانوں سے بھری پڑی ہے، پہلے بھی ڈائنوسار کے انڈوں کی دریافتوں کا گواہ رہی ہے، مگر یہ پہلا موقع ہے جب کوئی انڈہ اتنی کامل اور نقصان سے پاک حالت میں ملا ہو۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی پتلی، پرندوں جیسی شیل کی وجہ سے یہ بچ جانا معجزاتی ہے، کیونکہ گوشت خور ڈائنوسارز کے انڈے عام طور پر نازک ہوتے ہیں اور فوسلائزیشن کے عمل میں تباہ ہو جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنسدانوں کو شبہ ہے کہ اس انڈے کے اندر بایولوجیکل مواد یا ایمبریو کی باقیات بھی موجود ہو سکتی ہیں، جو جنوبی امریکہ کی پیلنٹولوجیکل تاریخ میں ایک انقلاب برپا کر سکتا ہے۔
دریافت کا پس منظر
یہ دریافت کریٹیسیئس ایکسپیڈیشن I کا حصہ تھی، جو نیشنل جیوگرافک، ازارا فاؤنڈیشن اور ریو نیگرو حکومت کی حمایت یافتہ تھی۔ ٹیم کے لیڈر فیڈریکو اگنولن نے لائیو سٹریمنگ کے ذریعے اس لمحے کو دنیا بھر کے سامعین کے ساتھ شیئر کیا، جہاں ہزاروں ناظرین نے دیکھا کہ کس طرح یہ انڈہ مٹی کی تہوں سے نکلا۔ "سائنس اب پہلے سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکتی ہے،” اگنولن نے کہا، جو اس مشن کی کامیابی کا راز بتاتا ہے۔
ریو نیگرو کی یہ سرزمین، جو الن فورمیشن کی سیدی منٹری تہوں سے بھری ہے، ماضی میں ٹائیٹانو سارس جیسے بڑے ہربائی ڈائنوسارز کی کالونیوں کی نشاندہی کر چکی ہے، مگر گوشت خوروں کے فوسلز کی کمی اسے مزید خاص بناتی ہے۔ گونزالو میونوز، جو میوزیم سے وابستہ پیلنٹولوجسٹ ہیں، نے نیشنل جیوگرافک کو بتایا: "یہ ایک مکمل انڈہ ہے، جو ہر اعتبار سے حیران کن ہے۔ گوشت خور ڈائنوسارز کے فوسلز بہت کم ملتے ہیں، اور اس کی حالت دیکھ کر ٹیم کی خوشی کا توصیف ناقابلِ بیان تھی۔”
اب یہ انڈہ، ساتھ میں دیگر ملنے والے فوسلز، میوزیم آف نیچرل سائنسز کو منتقل ہو رہا ہے جہاں سی ٹی اسکینز اور اسٹیبل آئسو ٹوپ تجزیہ سے اندرونی مواد کی تصدیق ہوگی۔ اگر ایمبریو ملا تو یہ نہ صرف ڈائنوسار کی نشوونما اور انڈوں کی ترقی کو سمجھنے میں مدد دے گا بلکہ پرندوں تک ان کی ارتقائی زنجیر کو بھی روشن کرے گا۔ تحقیق مکمل ہونے کے بعد یہ انڈہ پیٹاگونیہ کے مقامی میوزیم میں عوام کے لیے نمائش کے لیے رکھا جائے گا، تاکہ لوگ اس قدیم معجزے کو قریب سے دیکھ سکیں۔
عوامی ردعمل اور سوشل میڈیا
سوشل میڈیا پر #DinoEggPatagonia اور #70MillionYearMiracle ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ بوینس ایرس کی ایک طالبہ ماریا نے لکھا: "یہ انڈہ دیکھ کر لگتا ہے جیسے کل ہی رکھا گیا ہو! سائنس کی طاقت حیران کن ہے۔” ریو نیگرو کا ایک مقامی رہائشی کارلوس نے ویڈیو شیئر کی: "ہمارے علاقے کی زمین خزانوں سے بھری ہے، مگر یہ سب سے خاص ہے ۔اب پوری دنیا ہمارا فخر کرے گی!”
کئی صارفین نے مذاق اڑایا "اگر یہ انڈہ اب بھی زندہ ہے تو کیا ہم جرا سلک پارک بنا لیں؟” جبکہ ایک امریکی فین نے کہا "یہ دریافت ڈائنوسارز کی نشوونما کے راز کھولے گی، خاص طور پر جنوبی امریکہ کی۔” لائیو براڈکاسٹ کی وجہ سے ہزاروں نے فوری طور پر ردعمل دیا، جو سائنسی مشنوں کی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ دریافت صرف ایک فوسل نہیں، بلکہ پیلنٹولوجی میں ایک سنگ میل ہے جو کریٹیسیئس دور کی ماحولیاتی، بایولوجیکل اور ارتقائی تاریخ کو نئی جہت دے رہی ہے۔ پیٹاگونیہ کی نیم خشک، سیلابی سرزمین نے اس انڈے کو محفوظ رکھا، جو بتاتی ہے کہ فوسلائزیشن کے لیے کس قدر مخصوص حالات درکار ہوتے ہیں۔ بونا پارٹینیکس جیسے چھوٹے تھیرو پوڈز کی کمی کی وجہ سے یہ انڈہ گوشت خور ڈائنوسارز کی افزائش اور ان کی پرندوں سے قربت کو سمجھنے کا نایاب موقع فراہم کرے گا۔
تاہم، چیلنج یہ ہے کہ اندرونی مواد کی حفاظت کیسے کی جائے، کیونکہ کئی فوسلز تجزیہ کے دوران نقصان اٹھاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر عوامی جوش سائنس کی رسائی کو بڑھا رہا ہے، مگر یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ جنوبی امریکہ جیسے علاقوں میں مزید کھدائیوں کی ضرورت ہے تاکہ عالمی توازن قائم ہو۔ یہ انڈہ، اگر ایمبریو ملا تو، ڈائنوسار کی موت کے بعد کی دنیا کو سمجھنے میں انقلاب لائے گا – ایک ایسا باب جو اب تک نامکمل تھا۔
اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں
