Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

پاک فوج نے افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی، خارجی کمانڈر سمیت 4 دہشت گرد مارے گئے

فتنۃ الخوارج جیسے گروہ بیرونی حمایت سے پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آئی ایس پی آر
پاک فوج نے افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی، خارجی کمانڈر سمیت 4 دہشت گرد مارے گئے

باجوڑ ؛ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے پاک افغان سرحد کے راستے ملک میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے دہشت گردوں کی دراندازی ناکام بنا دی۔ کارروائی کے دوران انتہائی مطلوب خارجی کمانڈر سمیت چار دہشت گرد مارے گئے، جن میں ایک ہائی ویلیو ٹارگٹ بھی شامل تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ کارروائی ضلع باجوڑ میں کی گئی، جہاں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فورسز نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا۔ آپریشن کے دوران چار خارجیوں کو ہلاک کر دیا گیا، جن میں خارجی کمانڈر امجد بھی شامل ہے  جو بھارتی حمایت یافتہ تنظیم فتنۃ الخوارج کی رہبری شوریٰ کا سربراہ اور تنظیم کے سرغنہ خارجی نور ولی کا نائب تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق امجد نہ صرف پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ تھا بلکہ افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے اندر امن و امان کو نقصان پہنچانے کے منصوبے ترتیب دیتا تھا۔ اس پر حکومتِ پاکستان کی جانب سے 50 لاکھ روپے انعام مقرر تھا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے طویل عرصے سے اس کی تلاش میں تھے۔

فوجی ترجمان نے بتایا کہ خوارج کا یہ نیٹ ورک افغانستان سے پاکستان کے خلاف سرگرم عمل ہے اور افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ترجمان نے عبوری افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی خارجی پراکسی کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کرنے دی جائے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائی نہ صرف پاکستانی افواج کے بلند عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظہر ہے بلکہ اس امر کی تصدیق بھی کرتی ہے کہ فتنۃ الخوارج جیسے گروہ بیرونی حمایت سے پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں کلئیرنس اور سینی ٹائزیشن آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی بھارتی اسپانسرڈ خارجی کے باقی ماندہ نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔

وزیراعظم کا خراجِ تحسین
وزیراعظم شہباز شریف نے باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کی اس کامیاب کارروائی پر جوانوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے جس پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتہائی مطلوب خارجی کمانڈر کو انجام تک پہنچایا ہے، وہ قوم کے لیے فخر کا باعث ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے دشمنوں کو ہر صورت میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور ایسے تمام عناصر کو نشانِ عبرت بنا دیا جائے گا جو معصوم شہریوں کی جان و مال کے درپے ہیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ دہشت گردی کے نیٹ ورکس پاکستان کے خلاف بیرونی حمایت سے سرگرم ہیں، خاص طور پر وہ گروہ جو افغانستان کے اندر محفوظ ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں۔ پاک فوج کی جانب سے اس طرح کے بروقت اور مؤثر آپریشنز نہ صرف دہشت گردوں کے حوصلے پست کرتے ہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مضبوط کرتے ہیں کہ ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

عوامی سطح پر بھی اس آپریشن کو زبردست پذیرائی ملی ہے۔ شہریوں نے سوشل میڈیا پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کی جانب ایک بڑا قدم ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب تک ایسے عناصر کا صفایا نہیں ہو جاتا، ملک میں پائیدار امن ممکن نہیں۔

یہ واقعہ نہ صرف پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے عزم کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ افغانستان کی عبوری حکومت کو دہشت گرد گروہوں کے خلاف مزید سخت اقدامات کرنے چاہئیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں