لندن: طبی سائنس کی دنیا میں ایک سنہری پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سائنس دانوں نے کالی کھانسی (پرٹوسس) کے خلاف ایک ایسی ویکسین تیار کر لی ہے جسے انجیکشن کی تکلیف دہ سوئی کے بغیر ناک کے ذریعے جسم میں داخل کیا جا سکے گا اور یہ نہ صرف شدید بیماری سے بچائے گی بلکہ بیکٹیریا کی منتقلی کو بھی نمایاں طور پر کم کر دے گی جو بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں ایک انقلابی قدم ہے۔ ٹرینیٹی کالج ڈبلن کے محققین کی ٹیم نے یہ ناک سے داخل ہونے والی ویکسین تیار کی ہے جو انفیکشن کی جگہ پر براہ راست مدافعت پیدا کرتی ہے اور گلے اور ناک میں بیکٹیریا کے پنپنے کو روک کر بیماری کے چکر کو توڑ دیتی ہے جو موجودہ ویکسینز کی سب سے بڑی کمزوری تھی۔ تحقیق کے نتائج عالمی جرنل نیچر مائیکروبائیولوجی میں شائع ہوئے ہیں جو عالمی سطح پر ویکسینیشن کے نئے اور آسان طریقوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور خاص طور پر بچوں اور بوڑھوں کے لیے ایک نئی امید کی کرن ہیں جو کالی کھانسی کی وجہ سے سالانہ لاکھوں زندگیاں خطرے میں ڈالتی ہے۔
کالی کھانسی ایک انتہائی متعدی بیکٹیریل انفیکشن ہے جو بورڈیٹیلا پرٹوسس کی وجہ سے ہوتا ہے اور یہ خاص طور پر شیر خوار بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے جہاں شدید کھانسی کے دورے سانس روک دیتے ہیں اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ موجودہ ویکسینز جو ڈی ٹی پی (ڈفتھیریا، ٹیٹنس، پرٹوسس) کے حصے کے طور پر دی جاتی ہیں اگرچہ زندگی بچا لیتی ہیں اور شدید علامات کو کم کرتی ہیں مگر یہ ناکی اور گلے میں بیکٹیریا کی مکمل طور پر صفائی نہیں کر پاتیں جس سے متاثرہ افراد دوسروں کو بیماری پھیلا سکتے ہیں اور یہ خاموش منتقلی کا سلسلہ جاری رکھتی ہے۔ ٹرینیٹی کالج کی ٹیم نے اس خلا کو پر کرنے کے لیے ناک کی ویکسین تیار کی ہے جو ناک کی جھلیوں پر براہ راست کام کرتی ہے اور وہاں مدافعتی خلیات کو متحرک کر کے بیکٹیریا کو جڑ سے ختم کر دیتی ہے جو بیماری کی منتقلی کو 70 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔ یہ ویکسین ناک کے اسپرے کی شکل میں ہوگی جو استعمال میں انتہائی آسان ہے اور خاص طور پر بچوں کے لیے خوفناک سوئی سے نجات دے گی جو ویکسینیشن کی شرح کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
تحقیق کی سربراہی کرنے والے پروفیسر ایڈریان ہل نے کہا کہ موجودہ ویکسینز بیماری کی شدت تو کم کرتی ہیں مگر منتقلی نہیں روکتیں جس سے کالی کھانسی کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے اور نئی ویکسین انفیکشن کی اصل جگہ پر حملہ کرتی ہے جو ایک گیم چینجر ہے۔ ٹیم نے چوہوں پر تجربات کیے جہاں ناک کی ویکسین نے بیکٹیریا کی تعداد کو نمایاں طور پر کم کیا اور مدافعتی ردعمل کو مضبوط بنایا جو انسانی استعمال کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ جرنل نیچر مائیکروبائیولوجی میں شائع ہونے والے نتائج عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں جو کالی کھانسی کے بڑھتے کیسز پر تشویش زدہ ہے اور یہ ویکسین ترقی پذیر ممالک میں ویکسینیشن کی رکاوٹوں کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے جہاں سوئی کا خوف اور سرد زنجیر کی کمی بڑی مسائل ہیں۔
ناک کی ویکسین اور کالی کھانسی کی روک تھام پر اثرات
یہ نئی ویکسین کالی کھانسی کی روک تھام میں ایک انقلاب ہے جو موجودہ ویکسینز کی منتقلی کی کمزوری کو دور کرتی ہے اور ناک کی جھلیوں پر براہ راست مدافعت سے بیماری کے چکر کو توڑ دیتی ہے۔ ایک طرف تو انجیکشن کی عدم موجودگی ویکسینیشن کی شرح بڑھائے گی خاص طور پر بچوں میں مگر دوسری طرف انسانی ٹرائلز اور منظوری کا مرحلہ ابھی باقی ہے جو 3-5 سال لے سکتا ہے۔ ٹرینیٹی کالج کی تحقیق جرنل نیچر میں شائع ہونا اس کی ساکھ کی ضمانت ہے مگر لاگت اور تقسیم کے چیلنجز ترقی پذیر ممالک میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ ویکسین عالمی صحت کے لیے ایک بڑی امید ہے جو کالی کھانسی کی وبا کو روکنے میں مدد دے گی مگر اس کی کامیابی کلینیکل ٹرائلز اور عالمی تعاون پر منحصر ہوگی۔
عوامی رائے سوشل میڈیا اور ہیلتھ فورمز پر ایک پرجوش لہر کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں والدین اسے سوئی سے نجات کی خوشخبری قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ بچوں کی ویکسینیشن آسان ہو جائے گی جبکہ کچھ صارفین انسانی ٹرائلز کا انتظار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ مجموعی طور پر جوش غالب ہے جو ویکسین کی نئی نسل کی طرف راغب کر رہا ہے۔
