Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

چین میں 416 برس پرانی انگور کی بیل دریافت، دنیا کی قدیم ترین بیل قرار

یہ حیرت انگیز بیل چینگڈو شہر کے قدیم اور مشہور درختوں کے سروے کے دوران دریافت ہوئی
چین میں 416 برس پرانی انگور کی بیل دریافت، دنیا کی قدیم ترین بیل قرار

چینگڈو: فطرت کے رازوں سے بھری دنیا میں ایک ناقابل یقین انکشاف سامنے آیا ہے جہاں چین کے صوبہ سیچوان کی تبت کی بلند و بالا پہاڑیوں میں پائی جانے والی ایک انگور کی بیل نے دنیا کی سب سے پرانی زندہ بیل کا گینیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر لیا ہے اور اس کی عمر 416 سال بتائی گئی ہے جو انسانی تاریخ کے کئی ادوار کا گواہ بن چکی ہے۔ زوگینگ کاؤنٹی میں واقع یہ حیرت انگیز بیل چینگڈو شہر کے قدیم اور مشہور درختوں کے سروے کے دوران دریافت ہوئی جب ماہرین نے اس کی تنے کی ساخت اور سالانہ حلقوں کا معائنہ کیا تو سائنس دان بھی دنگ رہ گئے۔ چین کی ساؤتھ ویسٹ فارسٹری یونیورسٹی کی ووڈ سائنس ریسرچ لیبارٹری نے اس کی عمر کا تعین ’رِنگ انالسز‘ اور طبعی پیمائش کے جدید طریقوں سے کیا جو درختوں کی عمر جانچنے کا سب سے معتبر سائنسی طریقہ ہے اور گینیز ورلڈ ریکارڈز نے ستمبر 2025 میں اس کی تصدیق کرتے ہوئے اسے عالمی ریکارڈ کا درجہ دے دیا۔ یہ بیل سطح سمندر سے تقریباً 2400 میٹر کی بلندی پر اگ رہی ہے جہاں سخت سردی، کم آکسیجن اور شدید موسمی حالات کے باوجود اس نے صدیوں تک زندگی کا سفر جاری رکھا جو فطرت کی لازوال قوت کی ایک زندہ مثال ہے۔

یہ انگور کی بیل زوگینگ کاؤنٹی کے ایک دور افتادہ پہاڑی علاقے میں واقع ہے جہاں چینگڈو شہر کے قدیم درختوں کے سروے کے دوران ماہرین کی نظریں اس پر پڑیں اور ابتدائی معائنہ کے بعد اسے خصوصی توجہ دی گئی۔ ساؤتھ ویسٹ فارسٹری یونیورسٹی کی لیبارٹری نے اس کی تنے سے نمونے لیے اور رِنگ انالسز کے ذریعے ہر سال کے موسم کی تبدیلیوں کے نشانات کا جائزہ لیا جو درخت کی عمر کی درست تاریخ بتاتے ہیں اور نتائج نے سب کو حیران کر دیا کہ یہ بیل 1609ء سے زندہ ہے جب دنیا میں مغل سلطنت عروج پر تھی اور یورپ میں سائنسی انقلاب ابھی شروع ہو رہا تھا۔ اس کی اونچائی تقریباً 26 فٹ ہے جبکہ تنے کی چوڑائی 2 فٹ سے زیادہ ہے جو اس کی مضبوطی اور لمبی عمر کی عکاسی کرتی ہے اور یہ اب بھی پھل دے رہی ہے جو اس کی حیاتیاتی طاقت کی دلیل ہے۔ گینیز ورلڈ ریکارڈز نے ستمبر میں اس کی تصدیق کی اور اسے دنیا کی سب سے پرانی زندہ انگور کی بیل قرار دیا جو پچھلے ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ گئی اور اب یہ عالمی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ بیل تبت کی بلند پہاڑیوں کے سخت ماحول میں زندہ رہنے کی ایک نادر مثال ہے جہاں درجہ حرارت منفی 20 ڈگری تک گر جاتا ہے اور آکسیجن کی کمی ہوتی ہے مگر اس نے صدیوں تک موسم کی شدت، خشک سالی اور قدرتی آفات کا مقابلہ کیا۔ یہ دریافت چینگڈو کے قدیم درختوں کے سروے کا حصہ تھی جو شہر کی ماحولیاتی وراثت کو محفوظ کرنے کے لیے کی جا رہی ہے اور اس بیل کی عمر کا تعین رِنگ انالسز کے علاوہ کاربن ڈیٹنگ اور طبعی ساخت کے تجزیے سے بھی کیا گیا جو اس کی صداقت کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ اب یہ بیل نہ صرف سائنسی تحقیق کا موضوع ہے بلکہ سیاحت کے لیے بھی ایک نیا مقام بن رہی ہے جہاں لوگ فطرت کے اس معجزے کو دیکھنے آ رہے ہیں اور مقامی حکام نے اس کی حفاظت کے لیے خصوصی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

 416 سالہ انگور کی بیل اور ماحولیاتی سائنس پر اثرات

یہ دریافت فطرت کی لازوال قوت اور ماحولیاتی استحکام کی ایک زندہ علامت ہے جو تبت کی پہاڑیوں میں سخت حالات میں زندہ رہنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے اور سائنس دانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سمجھنے میں مدد دے گی۔ ایک طرف تو رِنگ انالسز سے عمر کا تعین سائنسی صداقت کی ضمانت ہے مگر دوسری طرف اس کی 2400 میٹر بلندی پر بقا ماحولیاتی موافقت کی تحقیق کا نیا دروازہ کھولتی ہے جو جنگلات کی بحالی اور قدیم انواع کی حفاظت کے لیے اہم ہے۔ گینیز ریکارڈ کی تصدیق اسے عالمی توجہ کا مرکز بناتی ہے مگر سیاحت کا دباؤ اس کی بقا کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ بیل ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور سائنس کو نئی راہیں دکھاتی ہے جو مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک وراثت ہے۔

عوامی رائے سوشل میڈیا اور ماحولیاتی فورمز پر ایک جوشیلے ردعمل کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں لوگ اسے فطرت کا معجزہ کہہ رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ 416 سال پرانی بیل انسانی تاریخ سے بھی قدیم ہے جبکہ کچھ صارفین اس کی حفاظت اور سیاحت کے توازن پر زور دے رہے ہیں۔ مجموعی طور پر حیرت اور فخر غالب ہے جو ماحولیاتی شعور کو بڑھا رہا ہے۔

اس منفرد دریافت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں