Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

آئی ایم ایف کا 8 دسمبر کو اہم اجلاس، پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر قرض کی منظوری متوقع

یہ اجلاس صومالیہ کے ساتھ الگ الگ منعقد ہوگا جو آئی ایم ایف کے کیلنڈر کے مطابق طے پایا ہے
آئی ایم ایف کا 8 دسمبر کو اہم اجلاس، پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر قرض کی منظوری متوقع

اسلام آباد: پاکستان کی معاشی بحالی کی راہ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری کے لیے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 8 دسمبر کو طلب کر لیا ہے جو ملک کی مالی مشکلات کو کم کرنے اور اقتصادی استحکام کی طرف ایک بڑا قدم ہوگا اور اس سے پاکستان کو ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) کے تحت 1 ارب ڈالر اور ریزائلنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (RSF) کے تحت 20 کروڑ ڈالر کی فوری امداد ملنے کی امید ہے۔ یہ اجلاس صومالیہ کے ساتھ الگ الگ منعقد ہوگا جو آئی ایم ایف کے کیلنڈر کے مطابق طے پایا ہے اور 14 اکتوبر کو پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان طے پانے والے سٹاف لیول ایگریمنٹ کی تکمیل کا حصہ ہے جو معاشی اصلاحات کی بنیاد پر قائم ہوا تھا۔ یہ مالی انجیکشن پاکستان کی بگڑتی ہوئی معیشت کو سہارا دے گا جہاں افراط زر کی کمی، بیرونی ذخائر میں اضافہ اور مالی توازن کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں مگر اس کی منظوری سے پہلے گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگنوسٹک (GCD) اسسمنٹ رپورٹ کی اشاعت ناگزیر ہے جو تاخیر کا شکار رہی ہے اور اب بورڈ میٹنگ سے قبل جاری کی توقع ہے۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا یہ اجلاس پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر EFF پروگرام کی دوسری جائزہ رپورٹ اور 1.4 ارب ڈالر RSF کی پہلی جائزہ رپورٹ کی منظوری کا موقع فراہم کرے گا جو مجموعی طور پر 3.3 ارب ڈالر کی ادائیگیوں کو ممکن بنائے گا اور اس سے پاکستان کی معاشی استحکام کی بنیاد مضبوط ہوگی جہاں مالی سال 2026 میں جی ڈی پی گروتھ 3.25 سے 3.5 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ EFF کے تحت 1 ارب ڈالر کی قسط پاکستان کی مالیاتی اصلاحات کی کامیابی کی علامت ہوگی جو افراط زر کو تاریخی طور پر 0.3 فیصد تک لے آئی ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جون 2025 سے 1100 بیسس پوائنٹس کی شرح سود میں کمی کی ہے جو معاشی بحالی کی جھلک دکھاتی ہے۔ RSF کے تحت 20 کروڑ ڈالر کی امداد کلائمیٹ فنانسنگ کی مد میں ہوگی جو پاکستان کی موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے لڑنے کی صلاحیت کو بڑھائے گی جہاں سیلابوں نے 70 لاکھ افراد کو متاثر کیا ہے اور انفراسٹرکچر اور زراعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ مالی مدد پاکستان کی بیرونی ذخائر کو 13.9 ارب ڈالر تک لے جائے گی جو آگست 2024 کے 9.4 ارب سے بہتری کی نشاندہی کرتی ہے اور مالیاتی حالات کو مستحکم کرے گی۔

اس مالی امداد کی منظوری سے پہلے GCD اسسمنٹ رپورٹ کی اشاعت ایک کلیدی شرط ہے جو EFF کے تحت ساختی معیار کا حصہ ہے اور اس کی تاخیر تکنیکی اور حقائقی اختلافات کی وجہ سے ہوئی جو جولائی کے آخر، اگست کے آخر اور اکتوبر کے آخر تک بڑھتی رہی مگر اب دونوں فریقوں نے اسے حل کر لیا ہے اور رپورٹ بورڈ میٹنگ سے قبل جاری کی جائے گی جو عوامی مالیاتی انتظام، ٹیکس نظام اور احتساب کی خامیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ آئی ایم ایف کی مشن ٹیم نے اس سال کے اوائل میں پاکستان کا دورہ کیا اور سپریم کورٹ، قانون و انصاف ڈویژن، آڈیٹر جنرل آف پاکستان، اراکین پارلیمنٹ، قومی احتساب بیورو، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے ملاقاتیں کیں جو ایک جامع جائزہ تھا اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ سرکاری افسران کی اکثریت اپنے اور خاندان کے اثاثے ٹیکس حکام یا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ظاہر نہیں کر رہی اور احتساب کا ادارہ جاتی طریقہ کار ناکافی ہے کیونکہ ریگولیٹری اداروں کو جانچ پڑتال سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ رپورٹ نے بیوروکریٹک اور سیاسی منظرنامے میں بدعنوانی کی وسیع رپورٹس کی نشاندہی کی اور پاکستان کو بین الاقوامی بدعنوانی کی فہرست میں اعلیٰ مقام حاصل ہونے کی بات کی جو اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔

 آئی ایم ایف کی 1.2 ارب ڈالر کی قسط اور پاکستان کی معاشی بحالی پر اثرات

یہ مالی امداد پاکستان کی EFF اور RSF پروگراموں کی کامیابی کی علامت ہے جو افراط زر کی کمی، بیرونی ذخائر کی بحالی اور مالی توازن کو تقویت دے گی مگر GCD رپورٹ کی تاخیر اور کرپشن کی نشاندہی اصلاحات کی ناگزیر ضرورت کو بے نقاب کرتی ہے جو TFP کی بہتری اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنانے پر منحصر ہے۔ ایک طرف تو 1 ارب ڈالر EFF سے فوری ریلیف ملے گا جو جی ڈی پی گروتھ کو 3.25-3.5 فیصد تک لے جائے گا مگر دوسری طرف RSF کے 20 کروڑ ڈالر کلائمیٹ ریسٹورنس کو فروغ دیں گے جو سیلابوں کی تباہی سے سبق سیکھنے کا موقع ہے۔ رپورٹ کی اشاعت تکنیکی اختلافات کا خاتمہ ہے مگر اس کی سفارشات جیسے اثاثہ ظہور اور ریگولیٹری جانچ پر عمل درآمد چیلنج ہے جو سیاسی ارادے پر منحصر ہوگا۔ مجموعی طور پر یہ قسط معاشی استحکام کی طرف قدم ہے مگر اس کی کامیابی اصلاحات کی تسلسل اور بیرونی فنانسنگ پر منحصر ہوگی ورنہ یہ قرض کا بوجھ بڑھا دے گی جو پاکستان کی معاشی خودمختاری کو متاثر کرے گی۔

عوامی رائے سوشل میڈیا اور نیوز فورمز پر ایک ملا جلا ردعمل کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں حامی اسے معاشی بحالی کی فتح سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ 1.2 ارب ڈالر سے ذخائر بڑھیں گے اور افراط زر کم ہوگا جبکہ ناقدین کرپشن رپورٹ کی تاخیر پر تنقید کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ GCD کی سفارشات پر فوری عمل ہو۔ کچھ صارفین RSF کی تعریف کر رہے ہیں مگر مجموعی طور پر امید غالب ہے جو معاشی استحکام کی طرف راغب کر رہی ہے اور لوگ اصلاحات کی توقع کر رہے ہیں۔

آپ کیا سوچتے ہیں؟

کیا یہ قرض پاکستان کی معیشت کے لیے وقتی سہارا ہے یا مستقل معاشی بحران کا حل؟
کیا حکومت اور ادارے واقعی اصلاحات پر عمل کر پائیں گے؟

اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں