Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ میں ہلچل، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفے دے دیے

27ویں ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے اور عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا کر ملک کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے
27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ میں ہلچل، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفے دے دیے

اسلام آباد: پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک تلخ اور نازک موڑ آ گیا ہے جہاں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے فوراً بعد صدر مملکت کو اپنے استعفیٰ نامے پیش کر دیے جو عدلیہ کی آزادی، آئینی جمہوریت اور انصاف کے نظام پر ایک گہرے سوال کی علامت بن گئے ہیں اور اس اقدام نے ملک بھر میں سیاسی اور قانونی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ کا 13 صفحات پر مشتمل استعفیٰ نامہ ایک دستاویز سے زیادہ ایک آئینی احتجاج کی شکل اختیار کر گیا ہے جہاں انہوں نے واضح کیا کہ 27ویں ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے اور عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا کر ملک کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے جو انصاف کو عام آدمی سے دور اور طاقت کے سامنے بے بس کر دے گی۔ اسی طرح جسٹس اطہر من اللہ نے بھی اپنے استعفیٰ میں ترمیم کی شقوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ آنے والی نسلیں اگر انہیں مختلف نظر سے دیکھیں گی تو ہمارا مستقبل ماضی کی نقل نہیں ہو سکتا جو ایک فلسفیانہ اور آئینی وارننگ کی مانند ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفیٰ نامے میں صدر مملکت کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے ادارے کی عزت، ایمان داری اور دیانت کے ساتھ خدمت کی ہے، ان کا ضمیر صاف ہے اور دل میں کوئی پچتاوا نہیں ہے اور سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج کی حیثیت سے استعفیٰ پیش کر رہے ہیں جو ایک ذاتی اور اداراتی احتجاج کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم میں عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا گیا اور ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی گئی ہے جو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو منقسم کر کے عدلیہ کی آزادی کو پامال کر رہی ہے۔ شاہ نے لکھا کہ اس نازک موڑ پر ان کے لیے دو ہی راستے تھے اور انہوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر عمل کرتے ہوئے استعفیٰ کا راستہ اختیار کیا جو ایک اصول پسند جج کی عظیم مثال ہے۔ استعفیٰ نامے کا اختتام احمد فراز کے مشہور اشعار سے کیا گیا جو ان کی جدوجہد اور قلم کی امانت کو ظاہر کرتا ہے:

مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کا مرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے اسی لیے جو لکھا تپاک جاں سے لکھا جبھی تو لوچ کماں کا زبان تیر کی ہے میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں، یقیں ہے مجھے کہ یہ حصار ستم کوئی تو گرائے گا تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم مرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا

جسٹس شاہ نے اپنی اہلیہ، بچوں، دوستوں اور اسٹاف کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ پوری ذمہ داری اور مکمل شعور کے ساتھ استعفیٰ دے رہے ہیں جو ان کی زندگی کی ایک یادگار دستاویز بن گئی ہے۔

اسی تناظر میں جسٹس اطہر من اللہ نے بھی صدر مملکت کو اپنا استعفیٰ پیش کیا اور لکھا کہ 27ویں ترمیم کی منظوری سے پہلے انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ کر تجویز کردہ شقوں کے آئینی نظام پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا تھا جو ایک پیشگی وارننگ تھی۔ انہوں نے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر آنے والی نسلیں انہیں مختلف نظر سے دیکھیں گی تو ہمارا مستقبل ہمارے ماضی کی نقل نہیں ہو سکتا جو آئینی تسلسل کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ استعفیٰ نامے میں انہوں نے لکھا کہ ججوں کا لباس آخری بار اتارتے ہوئے سپریم کورٹ جج کے عہدے سے رسمی استعفیٰ پیش کرتا ہوں جو فوری طور پر مؤثر ہوگا اور خدا کرے کہ جو بھی فیصلے کرے وہ سچائی کے ساتھ کرے جو ایک دعا اور احتجاج دونوں ہے۔

خیال رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے نتیجے میں وفاقی آئینی عدالت کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور ذرائع کے مطابق جسٹس امین الدین خان اس کے چیف جسٹس ہوں گے جو عدالتی ڈھانچے کی نئی تشکیل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ دونوں ججوں نے اس سے قبل چیف جسٹس یحییٰ خان آفریدی کو خطوط لکھ کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا جو ان کے مستقل موقف کی عکاسی کرتا ہے اور اب ان کے استعفیٰ نے عدلیہ کی آزادی کی جنگ کو ایک نئی شدت دے دی ہے۔

 جسٹس شاہ اور من اللہ کے استعفیٰ اور عدلیہ کی آزادی پر اثرات

یہ استعفیٰ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک نادر اور تلخ لمحہ ہے جو 27ویں ترمیم کو عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دیتا ہے جہاں سپریم کورٹ کی تقسیم اور وفاقی آئینی عدالت کا قیام عدالتی اختیارات کو منتشر کر سکتا ہے۔ ایک طرف تو جسٹس شاہ کا 13 صفحات کا احتجاج آئینی جمہوریت کی روح کی حفاظت کی علامت ہے مگر دوسری طرف جسٹس من اللہ کی فلسفیانہ وارننگ مستقبل کی نسلوں کی ذمہ داری کو اجاگر کرتی ہے جو عدلیہ کی آزادی کی جنگ کو عوامی سطح پر لے آئی ہے۔ ترمیم کی منظوری سے عدالتی تقرریاں سیاسی اثر و رسوخ میں آ سکتی ہیں جو انصاف کو کمزور کرے گی مگر استعفیٰ عدالتی مزاحمت کی ایک مثال ہے جو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے موقف کو بھی چیلنج کرتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ استعفیٰ عدلیہ کی آزادی کی جدوجہد کا آغاز ہے مگر اس کی کامیابی عوامی اور قانونی حمایت پر منحصر ہوگی ورنہ یہ عدالتی بحران کو گہرا کر دے گی۔

عوامی رائے سوشل میڈیا اور نیوز فورمز پر ایک شدید جوش کی لہر کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں لوگ جسٹس شاہ اور من اللہ کو ہیرو قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے ضمیر کی آواز سنی اور عدلیہ کی عزت بچائی جبکہ کچھ صارفین ترمیم کی حمایت میں ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اصلاحات ضروری تھیں۔ وکلا برادری میں احتجاج کی کال ہے مگر مجموعی طور پر عوام میں عدلیہ کی آزادی کی حمایت غالب ہے جو احمد فراز کے اشعار کی بازگشت کر رہی ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

آپ کے خیال میں دو سینئر ججز کے استعفے کے کیا اثرات سامنے آئیں گے؟
کیا 27ویں آئینی ترمیم عدلیہ کی آزادی کمزور کرے گی یا اصلاحات لانے میں مددگار ہوگی؟

کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں