Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

سپریم کورٹ کا سو موٹو اختیار ختم!27ویں آئینی ترمیم منظور

چیف جسٹس کی تقرری تین سالہ مدت کے لیے ہوگی اور ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال مقرر کی جائے گی
سپریم کورٹ کا سو موٹو اختیار ختم!27ویں آئینی ترمیم منظور

اسلام آباد: پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا ایک نازک اور متنازع باب لکھ دیا گیا جہاں قومی اسمبلی نے سینیٹ کی منظوری کے بعد 27ویں آئینی ترمیم کے بل اور اس کی 6 اضافی ترامیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا ہے جو ملک کے عدالتی، فوجی اور انتظامی ڈھانچے کو بنیاد سے تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی منظوری پر ایوان میں سیاسی درجہ حرارت عروج پر پہنچ گیا جہاں اپوزیشن نے شدید نعرے بازی، بل کی کاپیاں پھاڑنے اور واک آؤٹ کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسمبلی نے آئین کی 50 شقوں میں تبدیلیوں کی شق بہ شق منظوری دی جہاں حق میں 234 ووٹ پڑے اور مخالفت میں صرف 4 جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ سے منظور بل میں 6 اضافی ترامیم پیش کیں جو فوری طور پر منظور ہو گئیں اور اب یہ بل دوبارہ سینیٹ کو بھجوایا جائے گا جہاں اضافی تبدیلیوں کی منظوری کے بعد صدر آصف علی زرداری کی توثیق سے یہ آئین کا حصہ بن جائے گا۔ یہ ترمیم وفاقی آئینی عدالت کے قیام، جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو اور سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے اختیار کی حذفگی جیسے اقدامات کو قانونی جواز دے گی جو حکومت استحکام کی ضمانت قرار دے رہی ہے مگر اپوزیشن اسے جمہوریت اور عدلیہ پر حملہ سمجھتی ہے جو سیاسی میدان میں ایک نئی کشمکش کا آغاز ہے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت جاری تھا جہاں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل پیش کیا اور شق بہ شق ووٹنگ کا عمل مکمل کیا جو دو تہائی اکثریت (224 ووٹوں کی ضرورت) سے کامیاب رہا اور 234 اراکین نے اس کی حمایت کی جبکہ 4 نے مخالفت میں ووٹ دیا جو حکومتی اتحاد کی طاقت کی عکاسی کرتا ہے۔ تارڑ نے سینیٹ سے منظور بل میں 6 اضافی ترامیم پیش کیں جو فوری طور پر منظور ہو گئیں اور ان میں آرٹیکل 6 کی شق 2اے میں وفاقی آئینی عدالت کو شامل کرنا، آرٹیکل 10 سمیت پانچ دیگر شقوں میں چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کو مرکزی حیثیت دینا شامل ہے جو عدالتی ڈھانچے کو نئی شکل دے گی۔ ترمیم کے تحت چیف جسٹس آئینی عدالت اور چیف جسٹس سپریم کورٹ میں سے سینیئر ترین چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے جو تقرریوں کا نیا نظام متعارف کرائے گا اور صدر مملکت، چیف الیکشن کمشنر اور اٹارنی جنرل سے حلف لینے کا اختیار بھی چیف جسٹس آف پاکستان کو دیا جائے گا جو عدلیہ کی مرکزی حیثیت کو مضبوط کرے گا۔ 27ویں ترمیم وفاقی آئینی عدالت کا قیام عمل میں لائے گی جہاں چیف جسٹس کی تقرری تین سالہ مدت کے لیے ہوگی اور ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال مقرر کی جائے گی جو عدالتی نظام کو مزید منظم اور صوبائی نمائندگی پر مبنی بنائے گی۔

عدالتی ڈھانچے میں یہ تبدیلیاں تاریخی نوعیت کی ہیں جہاں قومی اسمبلی نے وفاقی آئینی عدالت کا قیام، جوڈیشل کمیشن اور سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل نو سے متعلق شقیں منظور کیں جو آئین کی 50 شقوں کو متاثر کریں گی۔ آرٹیکل 175 اے میں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو کی گئی جہاں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹسز اس کے اراکین ہوں گے اور دونوں عدالتوں کے ایک ایک سینیئر ترین جج بھی کمیشن کا حصہ ہوں گے جبکہ چیف جسٹس کی مشترکہ نامزدگی پر ایک اضافی جج دو سال کے لیے شامل ہوگا اور اتفاق نہ ہونے کی صورت میں کثرت رائے سے فیصلہ ہوگا جو تقرریوں کو متوازن بنائے گا۔ کمیشن کی سربراہی وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میں سے سینیئر جج کے پاس ہوگی اور اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے نامزد کردہ خاتون، غیر مسلم یا ٹیکنوکریٹ ممبر کے لیے دو سال کی شرط ختم کر دی گئی جو شمولیت کو وسیع کرے گی۔ آرٹیکل 184 کو حذف کر کے سپریم کورٹ کا از خود نوٹس کا اختیار ختم کر دیا گیا جو عدالتی مداخلت کو محدود کرے گا جبکہ آرٹیکل 200 میں ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے کا نیا طریقہ کار متعارف ہوا جہاں صدر مملکت جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر تبادلہ کریں گے اور دونوں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس کمیشن کے اراکین ہوں گے۔ آرٹیکل 206 کے مطابق وفاقی آئینی عدالت میں تقرری پر انکار کرنے والے ججز کو ریٹائرڈ شمار کیا جائے گا اور ان کے خلاف ریفرنس دائر ہوگا جو عدالتی نظم و ضبط کو یقینی بنائے گا۔ آرٹیکل 239 میں نئی شق شامل کی گئی کہ آئین کی کسی ترمیم پر عدالت کو سوال اٹھانے کا اختیار نہیں ہوگا جو پارلیمنٹ کی بالادستی کو مضبوط کرے گی۔ وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کا تقرر صدر وزیراعظم کی مشاورت سے ہوگا اور چاروں صوبوں سے مساوی نمائندگی کے اصول پر ججز تعینات کیے جائیں گے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے کم از کم ایک جج شامل ہوگا، چیف جسٹس کی مدت تین سال اور ججز کی عمر کی حد 68 سال مقرر کی گئی ہے اور انکار کی صورت میں ریٹائرمنٹ ہوگی جو عدالتی نظام کو نئی شکل دے گی۔

اس تاریخی منظوری کے دوران اپوزیشن نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور ایوان میں شدید نعرے بازی کا ماحول پیدا ہو گیا جہاں اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی، چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان اور رکن اسمبلی ثنا اللہ مستی خیل نے بل کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اچھال دیں اور احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر گئے جو سیاسی کشمکش کی ایک زندہ تصویر تھی۔ اچکزئی نے کہا کہ یہ ترمیم عوام کی حکمرانی کا راستہ روک رہی ہے اور غیر جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر لائی گئی ہے جبکہ تحریک انصاف کا راستہ بند کرنے کی کوشش ناکام ہوئی اور نوجوانوں نے اعتماد برقرار رکھا۔ گوہر علی خان نے کہا کہ ان کی جماعت کو ایوان سے باہر رکھنے کی سازش ہو رہی ہے، مذاکرات کی ہر کوشش کی مگر ایم این ایز کو پارلیمنٹ ہاؤس سے اٹھا لیا گیا اور 26 نومبر کو کارکنوں کی شہادتیں ہوئیں مگر وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ثنا اللہ مستی خیل نے ترمیم کو عدلیہ کو زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ اسلام اور قانون میں کسی کو استثنیٰ کی اجازت نہیں جو اپوزیشن کی شدید ناراضی کو ظاہر کرتا ہے۔ احتجاج کے دوران ایوان میں ہنگامہ آرائی ہوئی، اسپیکر ڈائس کے سامنے نعرے گونجے اور حکومتی اراکین کھڑے ہو گئے جبکہ اپوزیشن کا موقف ہے کہ یہ ترمیم جمہوریت کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے جبکہ حکومت اسے آئینی استحکام کی ضمانت قرار دے رہی ہے۔

قبل ازیں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی جس میں نوید قمر، شیری رحمان، مرتضیٰ وہاب اور اٹارنی جنرل بھی موجود تھے اور ملاقات کے بعد صحافیوں نے پوچھا کہ ایک آدمی کو نوازنے والی ترمیم ہو رہی ہے تو بلاول نے کہا کہ تقریر میں بات کروں گا جبکہ تنقید پر انہوں نے کہا کہ PPP پر ہمیشہ تنقید ہوتی ہے۔ تارڑ نے ملاقات کے بعد کہا کہ 27ویں ترمیم پر دو تین اچھی تجاویز پر بات چیت جاری ہے اور آج ووٹنگ ہوگی، سینیٹ سے منظور ترمیم میں تبدیلی کی صورت میں سینیٹ سے منظوری لے لی جائے گی، ابہام کی صورت میں بحث مناسب ہے اور آرٹیکل 239 میں آئین بنانے کا اختیار پارلیمنٹ کو ہے، آئینی عدالت کو نہیں۔ بلاول نے ملاقات کے بعد قانونی ٹیم سے مشاورت کی جس میں شیری رحمان اور فاروق ایچ نائیک شریک تھے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت وفاقی آئینی عدالت کے جلد قیام کی خواہاں ہے جو اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت جاری اجلاس کی بنیاد ہے جہاں منظوری کا امکان ہے۔

 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری اور پاکستان کی سیاسی و عدالتی ساخت پر اثرات

یہ ترمیم پاکستان کی آئینی سیاست میں ایک سنگ میل ہے جو عدلیہ کو نئی شکل دے رہی ہے مگر اپوزیشن کی شدید مخالفت اور واک آؤٹ سے واضح ہے کہ یہ جمہوریت پر حملہ سمجھا جا رہا ہے جہاں وفاقی آئینی عدالت کا قیام اور از خود نوٹس کی حذفگی سپریم کورٹ کی بالادستی کو کمزور کر سکتی ہے۔ ایک طرف تو 234 ووٹوں کی دو تہائی اکثریت حکومتی اتحاد کی طاقت دکھاتی ہے مگر دوسری طرف اضافی ترامیم جیسے آرٹیکل 6 اور 10 میں تبدیلیاں عدالتی تقرریوں کو سیاسی اثر و رسوخ دے سکتی ہیں جو 18ویں ترمیم کی روح کے خلاف ہے۔ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو صوبائی نمائندگی کو یقینی بناتی ہے مگر آرٹیکل 239 کی نئی شق عدالتوں کو ترامیم پر سوال اٹھانے سے روک دے گی جو پارلیمنٹ کی بالادستی کو مضبوط کرے گی مگر عدالتی آزادی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ بلاول کی تقریر اور ملاقاتوں سے PPP کی حمایت واضح ہے مگر اپوزیشن کا احتجاج مستقبل کی کشمکش کی نشاندہی کرتا ہے جو صدر کی توثیق اور سینیٹ کی منظوری پر منحصر ہے۔ مجموعی طور پر یہ ترمیم استحکام کی طرف قدم ہے مگر اس کی کامیابی عدالتی توازن اور سیاسی اجماع پر منحصر ہوگی ورنہ یہ بحران کو گہرا کر سکتی ہے۔

عوامی رائے سوشل میڈیا اور نیوز فورمز پر ایک شدید تقسیم کی صورت اختیار کر چکی ہے جہاں حکومت کے حامی اسے عدالتی اصلاحات اور استحکام کی فتح سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وفاقی عدالت کیسز کی تیز سماعت لائے گی جبکہ اپوزیشن حامی خاص طور پر PTI کے لوگ اسے آئین شکن اور عدلیہ پر حملہ قرار دے رہے ہیں اور احتجاج کی کال دے رہے ہیں کہ یہ 18ویں ترمیم کی توہین ہے۔ صوبائی حلقوں میں غم و غصہ ہے جبکہ وفاقی شہروں میں احتیاط کا ماحول ہے اور لوگ امید کر رہے ہیں کہ یہ تبدیلیاں انصاف لائے گی مگر مجموعی طور پر بحث سیاسی استحکام کی ضرورت کو اجاگر کر رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں