نیویارک : جدید دور میں سوشل میڈیا کو روزمرہ زندگی کا ناگزیر حصہ سمجھا جاتا ہے، تاہم ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اس ڈیجیٹل مصروفیت سے مختصر وقفہ اختیار کرنا انسانی ذہنی صحت کیلئے حیران کن حد تک فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ سماجی رابطوں سے صرف سات دن کی دوری اضطراب، افسردگی اور نیند کی خرابی جیسے مسائل میں واضح کمی کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ تحقیق ممتاز طبی جریدے جاما نیٹ ورک میں شائع ہوئی ہے، جس میں نوجوانوں کی ذہنی صحت پر سوشل میڈیا کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
تحقیقی طریقہ کار
ہارورڈ یونیورسٹی سے وابستہ محققین نے اس سائنسی مطالعے میں 18 سے 24 برس کی عمر کے 295 نوجوانوں کو شامل کیا۔ شرکاء کی ذہنی کیفیت اور نیند کے معمولات کو تین ہفتوں تک مسلسل مانیٹر کیا گیا تاکہ سوشل میڈیا کے استعمال اور وقفے کے نتائج کا حقیقی موازنہ کیا جا سکے۔
مطالعے کے ابتدائی دو ہفتوں کے دوران شرکاء کو اپنی معمول کی سوشل میڈیا سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی گئی، جبکہ تیسرے ہفتے میں تمام شرکاء نے مشترکہ طور پر سات روزہ مکمل وقفہ اختیار کیا۔
حیران کن نتائج سامنے آئے
تجزیے کے بعد حاصل ہونے والے اعدادوشمار نے ماہرین کو بھی چونکا دیا۔
نتائج کے مطابق سوشل میڈیا سے ایک ہفتے کی دوری کے بعد
-
اینزائٹی میں 16 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی
-
ڈپریشن کی علامات تقریباً 25 فیصد کم ہو گئیں
-
بے خوابی اور نیند کی خرابی میں 14 فیصد بہتری دیکھنے میں آئی
تحقیق میں ان نوجوانوں میں نمایاں بہتری زیادہ واضح رہی جن میں مطالعے کے آغاز پر ڈپریشن کی علامات نسبتاً شدید تھیں۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
محققین کے مطابق سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال ذہنی دباؤ کو بڑھا دیتا ہے، جہاں نوجوان مسلسل موازنہ، خود کو کم تر محسوس کرنے اور آن لائن رائے کے دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ وقفہ لینے سے دماغ کو سکون کا موقع ملتا ہے اور نیند کے قدرتی معمولات بہتر ہونے لگتے ہیں۔
ہارورڈ یونیورسٹی ٹیم کا کہنا ہے کہ روزمرہ زندگی میں ڈیجیٹل ڈٹاکس یا متوازن استعمال ذہنی صحت کو برقرار رکھنے کیلئے ایک مؤثر حکمتِ عملی ہو سکتی ہے۔
نوجوان طبقہ اور ڈیجیٹل دباؤ
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا نوجوان نسل کیلئے ایک دو دھاری تلوار ثابت ہو رہا ہے۔ ایک طرف یہ معلومات، رابطے اور تفریح کا ذریعہ ہے، وہیں دوسری جانب خود اعتمادی میں کمی، تنہائی اور ذہنی تھکاوٹ جیسے مسائل کو بھی جنم دے رہا ہے۔
تحقیقی نتائج نے ایک بار پھر اس امر کو تقویت دی ہے کہ مستقل آن لائن رہنے کے بجائے خود کو چند دن کیلئے اس ڈیجیٹل ماحول سے دور رکھنا بھی ذہنی سکون کے لیے کافی ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ تحقیق اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ ذہنی صحت کیلئے جدید طرزِ زندگی میں توازن قائم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا پر حد سے زیادہ وقت گزارنا نہ صرف جذباتی دباؤ کو بڑھاتا ہے بلکہ نیند کے مسائل اور ذہنی بے چینی کا بھی سبب بنتا ہے۔ صرف ایک ہفتے کا وقفہ ذہنی صحت پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے، جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مستقل اعتدال کے ساتھ استعمال کس قدر فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
عوامی رائے
عام صارفین کا کہنا ہے کہ نتائج ان کے ذاتی تجربے سے مطابقت رکھتے ہیں، کیونکہ کئی افراد محسوس کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا سے دوری کے دوران وہ خود کو زیادہ پرسکون اور یکسو پاتے ہیں۔ شہریوں کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ڈٹاکس کو معمول کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ ذہنی سکون برقرار رکھا جا سکے۔
آپ کی رائے؟
کیا آپ کے خیال میں سوشل میڈیا سے وقفہ واقعی ذہنی صحت کو بہتر بنا سکتا ہے یا یہ محض وقتی اثر ہے؟
