سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی بازاروں میں خشک میوہ جات کی بہار آجاتی ہے اور گھروں میں چٹخاروں کا موسم شروع ہوجاتا ہے۔ انہی میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی اور ہر طبقے کی پہنچ میں رہنے والی چیز ہے مونگ پھلی۔ لیکن اس مقبول ترین اسنیک کے ساتھ ایک پرانی بحث بھی ہمیشہ جڑی رہتی ہے
کیا مونگ پھلی کھانے کے بعد فوراً پانی پینا نقصان دہ ہوتا ہے؟
بچپن سے بڑوں کے مشورے کانوں میں گونجتے رہے ہیں کہ مونگ پھلی کے بعد پانی پینے سے گلے میں خراش، کھانسی یا جلن ہوسکتی ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنسی تحقیق نے اب تک اس بات کی حتمی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوئی مضبوط سائنسی ثبوت موجود نہیں، تاہم حکیموں اور روایتی طب کے ماہرین کا مؤقف کچھ مختلف ہے۔
ان کے مطابق مونگ پھلی کی خشک ساخت اور اس میں موجود تیل پانی کے ساتھ مل کر گلے میں جلن یا خراش کا باعث بن سکتے ہیں، جس سے پیاس زیادہ لگ سکتی ہے۔ اسی لیے روایتی طور پر احتیاط کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اس بحث کے باوجود لوگ سردیوں میں مونگ پھلی کے ساتھ پانی پینے سے احتراز کرتے ہیں، مگر ماہرین اسے صرف احتیاط سمجھتے ہیں، کوئی سخت طبی اصول نہیں۔
دوسری جانب مونگ پھلی کو صرف ایک سادہ اسنیک سمجھنا غلط ہوگا، کیونکہ یہ غذائیت کا خزانہ بھی ہے۔
دل کی صحت میں معاون
ماہرین کے مطابق مونگ پھلی دل کے مریضوں کے لیے شاندار غذا ثابت ہو سکتی ہے۔ اس میں پائے جانے والے صحت مند اجزا کولیسٹرول کنٹرول کرنے اور دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ہیں۔ باقاعدہ استعمال دل کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔
وزن میں کمی میں مددگار
مونگ پھلی اکثر لوگ چربی سے بھرپور سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ اس میں موجود وزن کم کرنے والے غذائی اجزا، پروٹین اور فائبر اسے ایک ایسا اسنیک بناتے ہیں جو پیٹ دیر تک بھرا رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متوازن مقدار میں مونگ پھلی کا استعمال وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
پروٹین کا بہترین ذریعہ
100 گرام مونگ پھلی میں تقریباً 25 گرام پروٹین پایا جاتا ہے، جو جسمانی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے۔ مونگ پھلی اور اس کا مکھن، دونوں ہی پروٹین حاصل کرنے کا بہترین اور سستا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں، خصوصاً ان افراد کے لیے جو روزانہ کی غذا میں پروٹین کی مناسب مقدار شامل کرنا چاہتے ہیں۔
بلڈ شوگر کنٹرول میں مددگار
مونگ پھلی ایک کم گلیسیمک فوڈ ہے، یعنی یہ بلڈ شوگر لیول پر آہستہ اثر ڈالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ذیابیطس کے مریض بھی اسے اپنی خوراک کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق معمولی مقدار میں مونگ پھلی کا استعمال بلڈ شوگر کو مستحکم رکھنے میں مثبت کردار ادا کرتا ہے۔
مختصر مگر اہم بات
مونگ پھلی نہ صرف ذائقے میں لذیذ ہے بلکہ غذائیت سے بھرپور بھی ہے۔ البتہ سردیوں میں یہ احتیاط ضرور رکھیں کہ مونگ پھلی کھانے کے فوراً بعد پانی پینے سے کچھ افراد کو گلے میں خارش یا پیاس کی شدت محسوس ہو سکتی ہے۔ مگر یہ مسئلہ سب کے ساتھ پیش نہیں آتا اور نہ ہی یہ کوئی طبی اصول ہے جس پر سختی سے عمل ضروری ہو۔
مونگ پھلی کے بارے میں پھیلی ہوئی عام غلط فہمیاں صدیوں پرانی روایات کا نتیجہ ہیں، جبکہ سائنس آج بھی اس پر حتمی رائے دینے میں محتاط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مونگ پھلی صحت بخش غذا ہے جس کے فائدے اس کے ممکنہ نقصانات سے کہیں زیادہ ہیں۔
گلے میں خراش یا discomfort کی وجہ مونگ پھلی کی خشک ساخت یا انفرادی حساسیت ہو سکتی ہے، نہ کہ پانی پینا۔
لہٰذا اس مسئلے کو ضرورت سے زیادہ خوفناک بنا کر پیش کرنا درست نہیں۔
عوامی رائے
◼ کچھ لوگ اب بھی مونگ پھلی کے بعد پانی پینے سے گریز کرتے ہیں اور اسے محفوظ طریقہ سمجھتے ہیں۔
◼ نوجوان طبقہ اسے محض ایک ’’دیسی وہم‘‘ قرار دیتا ہے اور اس احتیاط کی پابندی نہیں کرتا۔
◼ کچھ صارفین کے مطابق مونگ پھلی کے بعد پانی پینے سے انہیں واقعی گلے میں خراش محسوس ہوتی ہے، جبکہ کچھ لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
◼ مجموعی طور پر لوگ مونگ پھلی کو صحت بخش غذا مانتے ہیں اور اسے سردیوں کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا آپ مونگ پھلی کھانے کے بعد پانی پینے سے گریز کرتے ہیں؟
کیا کبھی آپ کو اس سے گلے میں جلن یا کھانسی محسوس ہوئی؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں!
