Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

کمرشل بینک دو روز کھلے رکھنے کا اعلان، ٹیکس ہدف پورا کرنے کیلئے ہنگامی حکمتِ عملی

عید الاضحیٰ کی تعطیلات سے قبل قومی خزانے میں ریونیو جمع کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔اسٹیٹ بینک
کمرشل بینک دو روز کھلے رکھنے کا اعلان، ٹیکس ہدف پورا کرنے کیلئے ہنگامی حکمتِ عملی

خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ

ملک بھر میں ہفتہ اور اتوار کو بند رہنے والی کمرشل بینکوں کی تمام شاخیں 23 اور 24 مئی کو کھلی رکھنے کے فیصلے نے کاروباری حلقوں، ٹیکس دہندگان اور عام شہریوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی درخواست پر کیا گیا تاکہ سرکاری ڈیوٹیز، ٹیکسز اور دیگر واجبات کی بروقت وصولی یقینی بنائی جا سکے۔ دونوں روز بینک صبح 9 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک کام کریں گے۔

معاشی ماہرین کے مطابق حکومت مالی سال کے اختتامی مرحلے میں ریونیو اہداف حاصل کرنے کیلئے غیر معمولی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہفتہ وار تعطیل کے باوجود بینکاری نظام کو فعال رکھنے کا فیصلہ سامنے آیا۔ اس اعلان کے بعد تاجروں اور صنعتکاروں نے اسے وقتی طور پر مثبت قدم قرار دیا، تاہم بعض حلقوں نے اسے معاشی دباؤ اور ریونیو بحران کی علامت بھی قرار دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ ان دو دنوں کے دوران خصوصی طور پر ٹیکس اور سرکاری محصولات وصول کی جائیں گی تاکہ مالیاتی نظام میں رقوم کی بروقت منتقلی ممکن بنائی جا سکے۔ دوسری جانب ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ عید الاضحیٰ کی تعطیلات سے قبل قومی خزانے میں ریونیو جمع کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

اسی دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر یادگاری سکے جاری کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے اقتصادی و سفارتی تعلقات کی علامت ہیں اور ان سے عالمی سطح پر پاکستان کے مالیاتی تشخص کو تقویت ملتی ہے۔

ادھر عید الاضحیٰ کے موقع پر ملک بھر میں تین روزہ تعطیلات کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق 26 مئی سے 28 مئی تک تمام بینک بند رہیں گے جبکہ حکومتِ پاکستان نے بھی انہی تاریخوں میں عام تعطیلات کی منظوری دے دی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سرکاری، نیم سرکاری اور بیشتر نجی ادارے اس دوران بند رہیں گے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تعطیلات سے قبل بینک کھلے رکھنے کا مقصد صرف ٹیکس وصولی نہیں بلکہ مالیاتی نظام میں روانی برقرار رکھنا بھی ہے۔ اگر یہ اقدام نہ کیا جاتا تو ہزاروں کاروباری افراد، امپورٹرز اور ایکسپورٹرز کو ادائیگیوں اور کلیئرنس کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ وقتی طور پر فائدہ مند ضرور ہے لیکن اس سے ایک حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ قومی معیشت شدید دباؤ میں ہے۔ ان کے مطابق اگر ٹیکس نظام کو مستقل بنیادوں پر شفاف اور مؤثر بنایا جائے تو آخری دنوں میں اس قسم کے ہنگامی اقدامات کی ضرورت پیش نہ آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کے بجائے بار بار انہی طبقات پر بوجھ ڈالا جاتا ہے جو پہلے ہی ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جبکہ بڑے شعبے اب بھی مکمل طور پر ٹیکس دائرے میں نہیں لائے جا سکے۔

عوامی حلقوں میں بھی اس فیصلے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ لاہور کے تاجر محمد اسلم کا کہنا تھا کہ بینک کھلے رہنے سے کاروباری طبقے کو سہولت ملے گی کیونکہ تعطیلات سے قبل مالی معاملات نمٹانا ضروری ہوتا ہے۔ دوسری جانب راولپنڈی کی ایک نجی کمپنی میں کام کرنے والے شہری فہد علی نے کہا کہ حکومت ہر سال مالی ہدف پورا کرنے کیلئے آخری دنوں میں غیر معمولی فیصلے کرتی ہے، جس سے اداروں پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔

بینکاری شعبے سے وابستہ بعض ملازمین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسلسل اضافی ڈیوٹیوں سے عملے پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق عید سے قبل ملازمین بھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں لیکن اضافی سرکاری احکامات کے باعث انہیں چھٹیوں میں بھی خدمات انجام دینا پڑتی ہیں۔

معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ اقدام وقتی طور پر ریونیو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے لیکن مستقل حل معاشی اصلاحات، ٹیکس نیٹ کی توسیع اور غیر دستاویزی معیشت کو قابو میں لانے میں پوشیدہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایسے فیصلوں کے ساتھ ساتھ طویل المدتی معاشی پالیسیوں پر بھی توجہ دینا ہوگی تاکہ ہر سال مالی بحران جیسی صورتحال پیدا نہ ہو۔

عوامی سطح پر سوشل میڈیا پر بھی اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ کچھ صارفین نے اسے معاشی نظم و ضبط کیلئے ضروری قرار دیا جبکہ کئی افراد نے سوال اٹھایا کہ اگر معیشت مستحکم ہے تو پھر تعطیلات سے قبل ہنگامی بنیادوں پر بینک کھولنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔

اگر مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ حکومت ایک طرف عید الاضحیٰ کے موقع پر عوام کو سہولیات دینے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف ریونیو اہداف حاصل کرنے کیلئے سخت مالیاتی اقدامات بھی جاری ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ بینکوں کو دو روز اضافی کھولنے کا فیصلہ قومی خزانے کیلئے کتنا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

کمنٹ میں اپنی رائے دیں:

کیا حکومت کا عید سے قبل بینک کھلے رکھنے کا فیصلہ درست ہے یا یہ معاشی دباؤ کی علامت ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں