خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ
ملک بھر میں بجلی صارفین کیلئے ایک نیا سائبر فراڈ خطرے کی گھنٹی بن گیا ہے، جہاں ہیکرز اور جرائم پیشہ عناصر بجلی بلوں پر موجود کیو آر کوڈ اور جعلی لنکس کے ذریعے شہریوں کی ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاور ڈویژن نے اس بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر عوام کیلئے خصوصی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ صارفین کسی بھی مشکوک لنک، ڈیجیٹل فارم یا غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی معلومات ہرگز درج نہ کریں۔
پاور ڈویژن کے مطابق بعض عناصر شہریوں کو سبسڈی، ریلیف یا بل میں رعایت کا لالچ دے کر ایک مخصوص لنک پر کلک کرواتے ہیں۔ اس کے بعد صارفین سے مرحلہ وار ذاتی معلومات، شناختی تفصیلات، موبائل نمبر اور دیگر حساس ڈیٹا مانگا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ معلومات حاصل کرنے کے بعد صارفین کو ایک 6 ہندسوں والا کوڈ درج کرنے کیلئے کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے ہیکرز ان کے موبائل اکاؤنٹس، بینکنگ ایپس یا ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
پاور ڈویژن کے ترجمان نے واضح کیا کہ بجلی بل یا متعلقہ معلومات صرف مستند سرکاری نظام کے تحت استعمال ہوتی ہیں اور کسی صارف کو سبسڈی یا ریلیف کیلئے اضافی فارم بھرنے یا کسی تیسرے پلیٹ فارم پر معلومات فراہم کرنے کی ضرورت نہیں۔ ترجمان کے مطابق اس قسم کے تمام طریقہ کار غیر قانونی اور مشکوک ہیں۔
ماہرینِ سائبر سکیورٹی کے مطابق ہیکرز اب روایتی فراڈ سے آگے بڑھتے ہوئے عوامی سہولتوں اور حکومتی اعلانات کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ بجلی کے بڑھتے نرخ، سبسڈی کی بحث اور عوامی پریشانی کو دیکھتے ہوئے سائبر مجرموں نے اسی صورتحال سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ عام شہری اکثر سرکاری انداز میں بھیجے گئے میسجز یا کیو آر کوڈز پر آسانی سے اعتماد کر لیتے ہیں، جس سے فراڈیے کامیاب ہو جاتے ہیں۔
حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس نئے فراڈ کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے اور مشکوک لنکس، جعلی ویب سائٹس اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس کی نگرانی بھی شروع کر دی گئی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر کرائم سے بچاؤ میں سب سے اہم کردار خود عوام کی آگاہی کا ہے۔
اس تمام صورتحال کے دوران بجلی صارفین پہلے ہی مہنگائی اور اضافی بلوں کے باعث پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق بجلی کی فی یونٹ قیمت میں مزید اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے باعث عوامی تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔ اسی پریشانی کو استعمال کرتے ہوئے ہیکرز شہریوں کو “سبسڈی رجسٹریشن” یا “رعایتی پیکج” کے نام پر اپنے جال میں پھنسا رہے ہیں۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سائبر فراڈ اب ایک خطرناک شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پہلے بینکنگ فراڈ اور جعلی کالز سامنے آتی تھیں، لیکن اب سرکاری اداروں کے نام اور عوامی مسائل کو استعمال کرکے شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو صرف ایڈوائزری جاری کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عوامی آگاہی مہم، ٹی وی اشتہارات اور سوشل میڈیا پر فوری مہم چلانا ہوگی تاکہ لوگ ایسے فراڈ سے محفوظ رہ سکیں۔
عوامی حلقوں میں بھی اس خبر کے بعد تشویش پائی جا رہی ہے۔ لاہور کے رہائشی نعمان احمد نے کہا کہ “اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ کیو آر کوڈ سرکاری ہے تو محفوظ ہوگا، لیکن اب ہر چیز پر شک کرنا پڑتا ہے۔” جبکہ کراچی کی ایک خاتون صارف نے بتایا کہ انہیں بھی ایک میسج موصول ہوا جس میں بجلی بل معاف کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
سائبر سکیورٹی ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی نامعلوم لنک پر کلک نہ کریں، موبائل پر آنے والا OTP یا 6 ہندسوں والا کوڈ کسی سے شیئر نہ کریں اور صرف سرکاری ویب سائٹس یا متعلقہ اداروں کی تصدیق شدہ ایپس ہی استعمال کریں۔ اگر کسی صارف کو مشکوک میسج یا کیو آر کوڈ موصول ہو تو فوری طور پر متعلقہ ادارے یا سائبر کرائم ونگ کو اطلاع دی جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل سہولتوں کے اس دور میں جہاں ٹیکنالوجی زندگی آسان بنا رہی ہے، وہیں سائبر جرائم بھی تیزی سے جدید ہو رہے ہیں۔ اس لیے شہریوں کیلئے احتیاط، آگاہی اور تصدیق پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔
عوامی رائے
کیا آپ کے خیال میں پاکستان میں سائبر فراڈ سے بچاؤ کیلئے عوامی آگاہی کافی ہے یا حکومت کو مزید سخت اقدامات کرنے چاہئیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔
