گنج پن کا شکار لاکھوں افراد کے لیے ایک نئی کرن کی نوید ہے، جہاں نیشنل تائیوان یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے بالوں کے جھڑنے کا ایک آسان اور موثر علاج دریافت کر لیا ہے۔ یہ سیرم، جو قدرتی فیٹی ایسڈز پر مبنی ہے، چوہوں پر تجربات میں صرف 20 دنوں میں نئی بالوں کی نشوونما کا باعث بنا، اور انسانی بالوں کے فولیکلز پر لیب ٹیسٹس میں بھی مثبت نتائج دکھائے۔ تحقیقی ٹیم کے سربراہ پروفیسر سنگ جان لِن نے خود اس سیرم کا ابتدائی ورژن اپنی ٹانگوں پر آزمایا، جہاں تین ہفتوں میں بالوں کی دوبارہ نشوونما دیکھی گئی۔ یہ پیشرفت بالوں کی افزائش کے قدرتی عمل کو سمجھنے کی طرف ایک بڑا قدم ہے، جو جلد کی چربی والے خلیوں کو متحرک کر کے فولیکلز کو بحال کرتی ہے۔
یہ تحقیق نہ صرف گنج پن بلکہ عمر رسیدگی سے ہونے والے بالوں کے جھڑنے کے لیے ایک ممکنہ حل پیش کر رہی ہے، مگر ابھی انسانی کلینکل ٹرائلز کی ضرورت ہے تاکہ اس کی حفاظت اور افادیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
چوہوں پر تجربات
تحقیقی ٹیم نے نر اور مادہ چوہوں کی پیٹھ کے بال منڈوا کر ایک کیمیکل سوڈیم ڈوڈیسائل لگایا، جو ہلکا ایگزیما پیدا کرتا ہے۔ اس سے جلد میں ہلکی خارش یا جلن ہوئی، اور تقریباً 10 سے 11 دن بعد ان حصوں پر نئی بالوں کی جڑیں نظر آنے لگیں۔ بغیر کیمیکل والے علاقوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، جو اس طریقے کی مخصوصیت کو ظاہر کرتی ہے۔ پروفیسر لِن کا کہنا تھا کہ یہ عمل جلد کے نیچے موجود چربی والے مدافعتی خلیوں کو سگنل دیتا ہے، جو فیٹی ایسڈز خارج کرتے ہیں اور یہ ایسڈز بالوں کے اسٹیم سیلز میں جذب ہو کر نشوونما شروع کر دیتے ہیں۔
لیب میں، اس سیرم نے چربی کے خلیات کو متحرک کر کے بالوں کے فولیکلز کو دوبارہ پیدا کیا، اور یہ قدرتی فیٹی ایسڈز جلن کے بغیر کام کرتے ہیں۔ چوہوں میں مکمل نتائج 20 دنوں میں سامنے آئے، جو بالوں کی تیزی سے بحالی کی امید جگاتے ہیں۔
پروفیسر کا ذاتی تجربہ
پروفیسر سنگ جان لِن نے تحقیق کی صداقت کو ثابت کرنے کے لیے سیرم کا ابتدائی ورژن خود پر آزمایا۔ انہوں نے فیٹی ایسڈز کو الکوحل میں حل کر کے تین ہفتوں تک اپنی ٹانگوں پر لگایا، اور نتائج حیران کن تھے ۔ بالوں کی دوبارہ نشوونما ہوئی یہ ذاتی تجربہ تحقیق کی عملی افادیت کو مزید معتبر بناتا ہے، جو انسانی استعمال کی طرف ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔
انسانی فولیکلز پر لیب ٹیسٹس
ماہرین نے انسانی بالوں کے فولیکلز پر بھی لیب میں تجربات کیے، جہاں سیرم نے اسٹیم سیلز کو متحرک کر کے فولیکلز کی بحالی دکھائی۔ کوئی سنگین سائیڈ ایفیکٹس نہیں دیکھے گئے، جو اس کی حفاظت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تاہم، محققین نے واضح کیا کہ یہ طریقہ ابھی بڑے پیمانے پر انسانی آزمائش سے نہیں گزرا، اور اگلا مرحلہ کلینکل ٹرائلز ہوں گے جو اس کی افادیت اور حفاظت کو حتمی طور پر ثابت کریں گے۔
عوامی رائے
اس خبر نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا، جہاں گنج پن کا شکار افراد نئی امید کی بات کر رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر #HairRegrowthSerum ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا”20 دن میں نئے بال؟ یہ تو خواب پورا ہونے جیسا ہے، جلد انسانی ٹرائلز ہوں!” دوسرے نے پروفیسر کے تجربے کی تعریف کی "خود پر آزمایا، اب تو یقین آ گیا، گنجے خوش ہو جائیں!”
کچھ لوگوں نے احتیاط کا مشورہ دیا "چوہوں پر کامیاب، انسانوں پر کیا ہوگا؟ ٹرائلز کا انتظار کریں۔” مجموعی طور پر، عوامی جذبات پرجوش ہیں، اور لوگ اس سیرم کی دستیابی کی توقع رکھتے ہیں، خاص طور پر مردوں اور خواتین میں جو بالوں کے جھڑنے سے پریشان ہیں۔
نیشنل تائیوان یونیورسٹی کی یہ تحقیق بالوں کی افزائش کے میدان میں ایک انقلابی قدم ہے، جو جلد کی قدرتی فیٹی ایسڈز کو استعمال کر کے فولیکلز کو بحال کرتی ہے۔ چوہوں پر 20 دنوں میں اور پروفیسر کے ذاتی تجربے میں تین ہفتوں کی کامیابی انسانی امکانات کی طرف اشارہ کرتی ہے، جہاں لیب میں انسانی فولیکلز پر مثبت نتائج حفاظت کی امید جگاتے ہیں۔ ہلکا ایگزیما پیدا کر کے اسٹیم سیلز کو متحرک کرنے کا طریقہ سادہ اور قدرتی ہے، جو موجودہ علاجوں سے بہتر ہو سکتا ہے۔ عوامی سطح پر، یہ گنج پن کے شکار افراد کے لیے نئی امید ہے، مگر کلینکل ٹرائلز کی ضرورت اس کی افادیت کو یقینی بنائے گی۔ مجموعی طور پر، یہ سائنس کی طاقت کی عکاسی کرتی ہے جو روزمرہ مسائل کو حل کرنے کی طرف لے جا رہی ہے، بشرطیکہ انسانی آزمائشیں کامیاب ہوں۔
اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں
