Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

افغان وفد کے متضاد مؤقف نے پاک افغان مذاکرات کو غیر نتیجہ خیز بنانے کا خطرہ بڑھا دیا

ناکامی کی صورت میں افغانستان سے کھلی جنگ کا سامنا ہوگا،خواجہ آصف
پاک افغان مذاکرات فیصلہ کن موڑ پر، افغان وفد کے بدلتے مؤقف سے پیش رفت خطرے میں

استنبول کی سفارتی محفلوں میں پاک افغان امن مذاکرات کا تیسرا دن بھی تعطل کا شکار رہا، جہاں افغان طالبان وفد کی بار بار پوزیشن میں تبدیلی نے بات چیت کو نتیجہ خیز بننے سے روک دیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغان وفد کے درمیان 18 گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات اب آخری دور کی طرف بڑھ رہے ہیں، مگر کابل سے آنے والی غیر منطقی اور ناجائز ہدایات ہی اس تعطل کے ذمہ دار ہیں۔ پاکستان کا واحد مطالبہ سرحد پار دہشت گردی کی روک تھام ہے، جو میزبانوں کی موجودگی میں بھی افغان وفد نے مرکزی مسئلہ تسلیم کیا، مگر کابل کی مداخلت نے پیش رفت کو روک دیا ہے۔

یہ مذاکرات، جو پاکستان کی سلامتی اور علاقائی استحکام کی بنیاد رکھ سکتے ہیں، اب ایک آخری کوشش کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں پاکستان اور میزبان سنجیدگی سے مسائل کو منطق اور بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ افغان وفد نے پاکستان کے خوارج اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے مطالبے سے اتفاق کیا، مگر ہر بار کابل کی ہدایات نے ان کی پوزیشن تبدیل کر دی، جو بات چیت کی ناکامی کی بنیادی وجہ بن رہی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا دوٹوک بیان ہے کہ ناکامی کی صورت میں افغانستان سے کھلی جنگ کا سامنا ہوگا، جو پاکستان کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

تیسرے دن کی بات چیت

ذرائع کے مطابق، مذاکرات کا تیسرا دن 18 گھنٹے تک جاری رہا، جہاں پاکستان نے اپنے مطالبات کو بار بار واضح کیا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کی روک تھام ضروری ہے۔ افغان وفد نے میزبانوں کی موجودگی میں بھی مرکزی مسئلے کو تسلیم کیا اور خوارج کے خلاف کارروائی پر اتفاق کا اظہار کیا، مگر کابل سے آنے والی ہدایات نے ان کی پوزیشن کو تبدیل کر دیا۔ یہ بار بار کی تبدیلی مذاکرات کو تعطل کا شکار بنا رہی ہے، جہاں پاکستان کی پوزیشن منطقی اور امن کے لیے ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔

افغان وفد کی ہر تبدیلی کابل کی مداخلت کی نشاندہی کرتی ہے، جو غیر منطقی مشوروں پر مبنی ہے اور بات چیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ پاکستان اور میزبانوں کی سنجیدگی کے باوجود، افغان وفد کی ہدایات پر انحصار مذاکرات کو بے نتیجہ بنا رہا ہے، جو علاقائی امن کی کوششوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا بیان اس بات کی واضح عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان مذاکرات کی آخری کوشش کر رہا ہے، مگر ناکامی کی صورت میں سخت اقدامات کا راستہ اپنانے کو تیار ہے۔

پاکستان کا مطالبہ

پاکستان کا مرکزی مطالبہ واضح ہے کہ افغانستان کی عبوری حکومت سرحد پار دہشت گردی کو روکے، جو خواجہ آصف کے بیان سے مزید واضح ہو گیا کہ ناکامی پر کھلی جنگ کا سامنا ہوگا۔ یہ مطالبہ نہ صرف پاکستان کی سلامتی بلکہ خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے، جو میزبانوں کی حمایت بھی حاصل کر رہا ہے۔ افغان وفد کی ہچکچاہٹ کابل کی حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے، جو مذاکرات کو طول دینے پر مرکوز لگتی ہے، مگر پاکستان کی آخری کوشش اسے منطق کی بنیاد پر حل کرنے کی امید رکھتی ہے۔

عوامی رائے

اس خبر نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل جنم دیا، جہاں پاکستانی عوام افغان وفد کی ہچکچاہٹ پر تنقید کر رہے ہیں اور پاکستان کی پوزیشن کی حمایت میں آوازیں اٹھا رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر #PakAfghanTalks ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا: "کابل کی ہدایات مذاکرات کو سبوتاژ کر رہی ہیں، پاکستان کا مطالبہ جائز ہے!” دوسرے نے خدشہ ظاہر کیا "آخری کوشش ناکام ہوئی تو جنگ کا خطرہ، طالبان کو سمجھ آئے!”

افغان حلقوں میں بھی بحث ہے، جہاں کچھ لوگ مطالبات کی منطق تسلیم کر رہے ہیں مگر کابل کی پالیسی کی تنقید کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر، عوامی جذبات پاکستان کی حمایت میں ہیں، اور لوگ سخت اقدامات کی توقع رکھتے ہیں، خاص طور پر سرحدی علاقوں سے جہاں دہشت گردی کے اثرات براہ راست محسوس ہوتے ہیں۔

استنبول مذاکرات کا تیسرا دن افغان وفد کی بار بار پوزیشن تبدیل ہونے کی وجہ سے تعطل کا شکار رہا، جو کابل کی غیر منطقی ہدایات کی نشاندہی کرتا ہے اور پاکستان کی منطقی مطالبات کو تسلیم کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ 18 گھنٹے کی جدوجہد اور میزبانوں کی حمایت پاکستان کی سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے، جو سرحد پار دہشت گردی روکنے پر اصرار کر رہا ہے، مگر افغان وفد کی کابل سے انحصار بات چیت کی خودمختاری کو کمزور کر رہا ہے۔ خواجہ آصف کا کھلی جنگ کا بیان پاکستان کی پوزیشن کو مضبوط کرتا ہے، جو آخری کوشش کے ذریعے منطق کی بنیاد پر حل چاہتا ہے۔ عوامی سطح پر، تشویش اور حمایت غالب ہے، جو دہشت گردی کے خلاف سخت موقف کی توقع رکھتی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ مذاکرات علاقائی امن کی آخری امید ہیں، مگر ناکامی کی صورت میں تناؤ بڑھ سکتا ہے، جو پاکستان کی سلامتی کو ترجیح دے گا۔

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں