Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

بھارت سے متعلق نرم رویہ اپنانے کا حکم ملا، میچ ریفری کرس براڈ کا چونکا دینے والا انکشاف

براڈ نے ٹائم کیلکولیشن میں ایڈجسٹمنٹ کر کے ٹیم کو فائن سے بچا لیا، جو ان کی غیر جانبداری پر ایک سوالیہ نشان تھا۔
بھارت سے متعلق نرم رویہ اپنانے کا حکم ملا، میچ ریفری کرس براڈ کا چونکا دینے والا انکشاف

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کے اندر بھارتی اثر و رسوخ کی کہانیاں اب کھل کر سامنے آ رہی ہیں، جہاں سابق ICC میچ ریفری کرس براڈ نے برطانوی اخبار ٹیلی گراف کو دیے گئے انٹرویو میں ایک ایسا انکشاف کیا ہے جو کرکٹ کی دنیا کو ہلا رہا ہے۔ براڈ نے بتایا کہ بھارتی ٹیم کے خلاف کوڈ آف کنڈکٹ کے نفاذ میں ہمیشہ ہلکا ہاتھ رکھنے کی ہدایات آتی تھیں، جو ICC کی سیاسی مداخلت کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی مالی طاقت نے ICC پر عملی قبضہ کر لیا ہے، اور کھیل کی پاکیزگی سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھ گئی ہے۔

یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کرکٹ کی عالمی گورننس پر سوالات کیے جا رہے ہیں، اور براڈ کی باتیں ICC کی شفافیت اور غیر جانبداری پر ایک سنجیدہ حملہ ہیں۔ سابق ریفری نے اپنے تجربات کی بنیاد پر یہ بتایا کہ بھارت کے خلاف فیصلے کرتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جو کرکٹ کو پروپیگنڈے کا آلہ بننے سے روکنے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

براڈ کا انٹرویو

کرس براڈ، جو ICC کے میچ آفیشلز کی حیثیت سے کئی عالمی ایونٹس کا حصہ رہے، نے انٹرویو میں ایک خاص واقعے کا ذکر کیا جہاں بھارتی ٹیم سلو اوور ریٹ کی خلاف ورزی پر پھنس گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ میچ کے دوران ایک فون کال آئی جس میں کہا گیا کہ بھارت ہے تو ہاتھ ہلکا رکھو اور کوئی حل نکالو۔ براڈ نے ٹائم کیلکولیشن میں ایڈجسٹمنٹ کر کے ٹیم کو فائن سے بچا لیا، جو ان کی غیر جانبداری پر ایک سوالیہ نشان تھا۔

انہوں نے مزید ایک اور واقعہ شیئر کیا جہاں بھارتی کپتان سورو گنگولی نے آفیشلز کی نافرمانی کی اور اگلے میچ میں وہی رویہ دہرایا۔ جب براڈ نے استفسار کیا تو ہدایات آئیں کہ صرف گنگولی کو سزا دو، جو ٹیم کی مجموعی ذمہ داری کو نظر انداز کرتی تھی۔ براڈ کا یہ بیان ICC کی اندرونی سیاست کی گہرائیوں کو کھولتا ہے، جہاں بھارتی مفادات کو ترجیح دی جاتی تھی۔

سابق ریفری نے واضح کیا کہ کھیل میں سیاست کی جڑیں گہری ہو گئی ہیں، اور اب فیصلے سیاسی پیچیدگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سارا پیسہ بھارت کے پاس ہے، جس نے ICC پر عملی طور پر قبضہ کر لیا ہے، اور یہ صورتحال کرکٹ کی روح کو کمزور کر رہی ہے۔ براڈ نے اطمینان کا اظہار کیا کہ وہ اب ICC آفیشلز کا حصہ نہیں، کیونکہ یہ پوزیشن سیاسی ہو گئی ہے اور ان کی ضمیر کی آواز خاموش نہ ہو سکتی۔

 مالی طاقت اور پروپیگنڈہ کی کہانی

براڈ کا انکشاف بھارت کی ICC پر مالی اور سیاسی گرفت کی تصدیق کرتا ہے، جہاں بھارتی ٹیم کے خلاف کارروائیوں میں ہمیشہ نرمی برتی جاتی ہے۔ یہ بات کرکٹ کی عالمی سطح پر بھارتی پروپیگنڈے کی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے، جو دیگر ممالک کے خلاف استعمال ہوتا ہے مگر خود بھارت پر लागو نہیں ہوتا۔ براڈ کی باتیں ICC کی شفافیت پر ایک حملہ ہیں، جو کرکٹ کی پاکیزگی کو سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھنے کی نشاندہی کرتی ہیں۔

عوامی رائے

اس انکشاف نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا، جہاں کرکٹ شائقین براڈ کی حمایت میں آ گئے اور ICC کی سیاسی مداخلت کی شدید مذمت کر رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر #ChrisBroadICC ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا: "براڈ نے سچ کہا، بھارت ICC کا مالک بن گیا ہے، کرکٹ کو بچاؤ!” دوسرے نے خدشہ ظاہر کیا: "یہ انکشاف ICC کی ساکھ کو ختم کر دے گا، بھارتی طاقت کرکٹ کی روح کو مار رہی ہے۔”

پاکستانی اور دیگر ممالک کے شائقین براڈ کو ہیرو قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ نے کہا "یہ ICC کی خا تمے کی طرف اشارہ ہے، مالی طاقت کھیل نہیں چلاتی۔” مجموعی طور پر، عوامی جذبات غم و غصے کے ہیں، اور لوگ ICC میں اصلاحات اور غیر جانبداری کی مانگ کر رہے ہیں، جو براڈ کی باتیں کرکٹ کی عالمی سیاست کو تبدیل کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔

کرس براڈ کا انکشاف ICC کی اندرونی سیاست کی گہرائیوں کو کھولتا ہے، جہاں بھارتی مالی طاقت نے کھیل کی غیر جانبداری کو چیلنج کر دیا ہے۔ سلو اوور ریٹ اور کوڈ آف کنڈکٹ جیسے واقعات ICC کی ضمیر فروشی کی نشاندہی کرتے ہیں، جو کرکٹ کو پروپیگنڈے کا آلہ بنا رہی ہے۔ براڈ کی باتیں نہ صرف سابق آفیشلز کی مایوسی کو ظاہر کرتی ہیں بلکہ ICC کی اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں، جہاں مالی مفادات کی بجائے کھیل کی پاکیزگی کو ترجیح دی جائے۔ عوامی سطح پر، یہ انکشاف کرکٹ شائقین میں غم و غصہ پیدا کر رہا ہے، جو ICC کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے اور دیگر ممالک کو متحد کر سکتا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ کرکٹ کی عالمی گورننس میں ایک موڑ ہے، جو شفافیت اور احتساب کی طرف لے جائے گا، بشرطیکہ ICC سیاسی دباؤ سے آزاد ہو۔

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں