Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

پاکستان میں سائبر فراڈ کا پھیلتا جال، ہر موبائل صارف خطرے میں

جعلی کال سینٹرز، OTP اسکیمز، فیک انعامات اور آن لائن بینکنگ لوٹ مار، ایک مکمل تحقیقی رپورٹ
پاکستان میں سائبر فراڈ کا پھیلتا جال، ہر موبائل صارف خطرے میں

(رپورٹ غلام مرتضی) پاکستان میں موبائل اور انٹرنیٹ کے بڑھتے استعمال نے جہاں زندگی کو آسان بنایا وہیں ایک نیا سنگین مسئلہ بھی جنم لے چکا ہے ۔ ڈیجیٹل فراڈ۔ آج ملک کا ہر شہری، چاہے وہ طالب علم ہو یا تاجر، سرکاری ملازم ہو یا گھریلو خاتون، کسی نہ کسی صورت سائبر فراڈ کے خطرے میں مبتلا ہے۔

بینک اکاؤنٹس سے اچانک رقم غائب ہونے، جعلی انعامی اسکیموں کے ذریعے لوٹ مار، واٹس ایپ ہیکنگ اور جعلی کال سینٹرز جیسے واقعات اب روزمرہ کی خبریں بن چکے ہیں۔

 پس منظر

صرف پانچ برس قبل پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگی کے مختلف پلیٹ فارم عام ہونا شروع ہوئے۔ Easypaisa، JazzCash، موبائل بینکنگ، آن لائن شاپنگ نے روایتی بینکاری کی جگہ لے لی۔ مگر ساتھ ہی ڈیجیٹل سیکیورٹی کا شعور نہ بڑھ سکا۔

اکثر صارفین

❌ پاس ورڈ دوسروں سے شیئر کرتے ہیں
❌ OTP کسی کو بتا دیتے ہیں
❌ جعلی لنکس پر کلک کرتے ہیں

 تاریخی تناظر

سال صورتحال
2016 موبائل والٹ عام
2018 جعلی SMS اسکیمز
2020 کورونا میں آن لائن فراڈ عروج
2023 کال سینٹر مافیا انکشاف
2025
بین الاقوامی سائبر نیٹ ورک کارروائیاں

 موجودہ صورتحال

FIA Cyber Crime Wing کے مطابق:

✅ سال 2025 میں 65,000+ شکایات
✅ لگ بھگ 12 ارب روپے فراڈ کے ذریعے لوٹے گئے
✅ صرف 5% کیسز میں ریکوری

کراچی، لاہور، اسلام آباد کے علاوہ فیصل آباد، گوجرانوالہ اور ملتان میں بڑے فراڈ مراکز پکڑے گئے۔

 فراڈ کے طریقے

1️⃣ جعلی کال سینٹر

خود کو:

  • بینک نمائندہ

  • NADRA افسر

  • پولیس یا بجلی دفتر

ظاہر کر کے OTP اور معلومات نکلوا لیتے ہیں۔

2️⃣ انعامی اسکیم

SMS:

آپ نے کار جیت لی ہے!

اور پھر:

✅ رجسٹریشن فیس
✅ ٹیکس رقم

واپس کبھی کچھ نہیں۔

3️⃣ واٹس ایپ ہیکنگ

Verification code نکلوا کر پورا اکاؤنٹ ہیک۔

4️⃣ Fake Shopping Pages

پیسے وصول → نمبر بند

 زمینی کہانیاں

لاہور : شکیل احمد

چار لاکھ روپے اکاؤنٹ سے غائب:

“OTP کسی کو نہیں دیا، پھر بھی اکاؤنٹ صاف۔ پولیس کچھ نہ کر سکی۔”

کراچی ، رضیہ بی بی

“میرے پاس انعامی کال آئی، دس ہزار جمع کروا دیے، اب نمبر بند ہے۔”

فیصل آباد ،نعمان فاروق

“واٹس ایپ ہیک ہونے کے بعد دوستوں سے میرے نام پر پیسے منگوائے گئے۔”

ڈیجیٹل فراڈ اس وقت:

❌ صرف criminal issue نہیں
❌ بلکہ national security risk بن رہا ہے

کیونکہ:

  • عوام بینکاری پر اعتماد کھو رہے ہیں

  • systems insecure ہیں

  • digital economy slowdown کا شکار ہے

 عوامی ردعمل

سوشل میڈیا کا رجحان:

#سائبر_فراڈ_روکو

شہری:

  • FIA دفاتر کے باہر احتجاج

  • سخت قوانین کا مطالبہ

 ماہرین کی رائے

Brig (R) Jamal Siddiqui – Cyber Consultant

“پاکستان میں cyber criminals زیادہ trained ہیں بجائے cyber investigators کے۔”


Dr. Hina Tariq – IT Security

“Basic security awareness آزمی نصاب میں شامل ہونی چاہیے۔”



🔹 عالمی تقابل

ملک Cyber fraud rate
پاکستان High
بھارت Moderate
بنگلہ دیش Low
ترکی Moderate
جرمنی Low

 ممکنہ حل

✅ سخت سائبر قوانین
✅ فوری ایف آئی آر نظام
✅ Cyber police expansion
✅ Media awareness campaigns
✅ School-level IT education

ڈیجیٹل ترقی کو محفوظ نہ بنایا گیا تو یہ ترقی عوام کیلئے خطرہ بن جائے گی۔ ہر شخص کو شعور حاصل کرنا ہوگا ورنہ ایک click پوری جمع پونجی ختم کر سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں