Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

ایلون مسک کا نیا منصوبہ،ایکس (ٹوئٹر) کو وی چیٹ جیسی سپر ایپ بنانے کی خواہش کا اظہار

رابطے، ادائیگیوں اور ڈیجیٹل سروسز کا ایک ہی پلیٹ فارم ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی دوڑ کا آغاز
ایلون مسک کا نیا منصوبہ،ایکس (ٹوئٹر) کو وی چیٹ جیسی سپر ایپ بنانے کی خواہش کا اظہار

نیویارک : دنیا کے امیر ترین بزنس مین اور ٹیکنالوجی انٹرپرینیور ایلون مسک نے سماجی رابطوں کی پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) کو ایک ایسی ہمہ جہت سپر ایپ میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے جو چین کی مقبول ایپ وی چیٹ کے ماڈل پر کام کرے گی۔ ایلون مسک کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایکس صرف ایک سوشل میڈیا نیٹ ورک نہ رہے بلکہ اسے ایک مکمل ڈیجیٹل ایکوسسٹم میں بدلا جائے جہاں صارفین ایک دوسرے سے رابطے کے ساتھ ساتھ اپنے مالی لین دین اور دیگر روزمرہ خدمات بھی ایک ہی جگہ انجام دے سکیں۔

ایلون مسک نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اس منصوبے پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

ٹوئٹر سے ایکس تک کا سفر

ایلون مسک نے 2022 میں ٹوئٹر خرید کر اسے ایکس کا نام دیا تھا۔ اس تبدیلی کے بعد سے کمپنی کے ڈھانچے اور فیچرز میں نمایاں تبدیلیاں کی گئیں۔ اس سلسلے میں ایک اور اہم پیش رفت مارچ 2025 میں سامنے آئی جب ایلون مسک کی ذیلی کمپنی “ایکس اے آئی” نے ایکس کو 33 ارب ڈالر میں خرید لیا۔ اس معاہدے کے بعد ایلون مسک کے سپر ایپ منصوبے نے مزید عملی شکل اختیار کرنا شروع کر دی۔

ڈیجیٹل والٹ اور ٹرانزیکشن سروسز

ایکس کی جانب سے پہلے ہی مالی خدمات کی بنیاد رکھی جا چکی ہے۔ کمپنی نے ویزا کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے امریکا کی چند ریاستوں میں ڈیجیٹل والٹ سہولت اور آن لائن لین دین کی خدمات کا آغاز کر دیا ہے۔ ان سروسز کے ذریعے صارفین محفوظ انداز میں رقوم کی منتقلی اور ادائیگیاں کر سکتے ہیں۔

مزید برآں مارکیٹ میں ایسی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں کہ ایکس جلد صارفین کیلئے ڈیبٹ کارڈ متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے ذریعے صارفین براہ راست اپنی ایکس والٹ بیلنس کو خریداری کیلئے استعمال کر سکیں گے۔

ایلون مسک کا وژن

پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ وہ ایکس کو محض میسجز یا پوسٹس تک محدود نہیں رکھنا چاہتے۔ ان کے تصور میں ایکس ایک ایسی ایپ بنے گی جہاں لوگ:

  • میسجنگ اور سوشل نیٹ ورکنگ

  • رقم بھیجنے اور وصول کرنے

  • ادائیگیوں کا انتظام

  • دیگر ڈیجیٹل خدمات

تمام کام ایک ہی پلیٹ فارم پر انجام دے سکیں گے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا“ہم چاہتے ہیں کہ ایکس چین سے باہر وی چیٹ جیسی سپر ایپ کے طور پر ابھرے جہاں صارفین کو مختلف ایپس کے درمیان بھٹکنے کی ضرورت نہ پڑے۔

وی چیٹ کی مثال

ایلون مسک کے مطابق چین میں وی چیٹ محض ایک چیٹ ایپ نہیں بلکہ ایک مکمل ڈیجیٹل نظام ہے، جس پر:

  • چیٹنگ

  • سوشل میڈیا سرگرمیاں

  • آن لائن ادائیگیاں

  • بلوں کی ادائیگی

  • آن لائن ٹکٹ بکنگ اور کاروباری لین دین

تمام سہولیات یکجا کر دی گئی ہیں۔ وی چیٹ پر شہری اس حد تک انحصار کرتے ہیں کہ روزمرہ زندگی کے بیشتر کام وہ اسی ایک ایپ کے ذریعے انجام دیتے ہیں۔

مسک کا کہنا ہے کہ چین سے باہر اس نوعیت کی کوئی مکمل سپر ایپ موجود نہیں جو اس سطح پر خدمات فراہم کرے۔ یہی خلا وہ ایکس کے ذریعے پُر کرنا چاہتے ہیں۔

سپر ایپ کی جانب عملی قدم

ایلون مسک پہلے بھی متعدد مواقع پر اس خواہش کا اظہار کر چکے ہیں کہ ایکس کو ایک ایسی ایپ بنایا جائے جہاں صارفین کو تمام خدمات ایک ہی جگہ میسر ہوں۔ اب ڈیجیٹل والٹ، ادائیگیوں کے نظام، ویزا شراکت داری اور ممکنہ ڈیبٹ کارڈ جیسے اقدامات اُن کے اسی خواب کی عملی جھلک دکھاتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق اگر ایلون مسک اپنے منصوبے پر مکمل عملدرآمد میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایکس مغربی دنیا کی پہلی حقیقی سپر ایپ بن سکتی ہے، جو فیس بک، واٹس ایپ، بینکنگ ایپس اور ڈیجیٹل والٹس کا متبادل ثابت ہو۔

ماہرین کی نظر میں چیلنجز

اگرچہ مسک کا وژن پرکشش ہے مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک میں ڈیٹا پرائیویسی، مالی ریگولیشن اور صارفین کے اعتماد سے متعلق سخت قوانین ایسی کسی سپر ایپ کی راہ میں بڑی رکاوٹیں بن سکتے ہیں۔ چینی ماڈل میں ریاستی تعاون مرکزی کردار ادا کرتا ہے جبکہ امریکہ اور یورپ میں سخت ضوابط سپر ایپ کے قیام کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

ایلون مسک کی یہ حکمتِ عملی مستقبل کی ڈیجیٹل دنیا کا نقشہ بدل سکتی ہے۔ اگر ایکس واقعی وی چیٹ جیسی سپر ایپ میں تبدیل ہو جاتا ہے تو صارفین کیلئے زندگی انتہائی سہل ہو سکتی ہے، مگر اس کے ساتھ طاقت کا ارتکاز بھی ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہو جائے گا، جس سے پرائیویسی اور سیکیورٹی کے خطرات بھی جنم لے سکتے ہیں۔ کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہو گا کہ کمپنی کس طرح صارفین کے اعتماد، ڈیٹا تحفظ اور ریگولیٹری تقاضوں کے درمیان توازن قائم کرتی ہے۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا صارفین میں اس اعلان پر ملے جلے تاثرات سامنے آ رہے ہیں۔ بعض افراد اس خیال کو زبردست جدت اور سہولت کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ کئی صارفین چین کے ماڈل کی مثال دیتے ہوئے پرائیویسی سے متعلق خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔ عوام کی بڑی تعداد چاہتی ہے کہ اگر ایک سپر ایپ بنائی جائے تو صارفین کی ذاتی معلومات کا تحفظ سب سے بڑی ترجیح ہو۔

آپ کی رائے؟

کیا ایلون مسک کا ایکس کو وی چیٹ جیسی سپر ایپ بنانے کا منصوبہ واقعی ڈیجیٹل دنیا میں انقلاب لا سکتا ہے یا یہ محض ایک بڑا خواب ثابت ہوگا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں