Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

عدالت کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنائیں، 27ویں آئینی ترمیم پڑھ کر آئیں ؛جسٹس حسن رضوی کے سخت ریمارکس

وفاقی آئینی عدالت کا یوٹیلیٹی اسٹورز برطرفی کیس میں سخت ریمارکس، سماعت ملتوی
عدالت کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنائیں، 27ویں آئینی ترمیم پڑھ کر آئیں ؛جسٹس حسن رضوی کے سخت ریمارکس

اسلام آباد وفاقی آئینی عدالت نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے برطرف سیلزمین مزمل رفیق کی درخواست پر سماعت کے دوران غیر معمولی سخت ریمارکس دیتے ہوئے کیس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔ جسٹس حسن رضوی نے درخواست گزار کو 27ویں آئینی ترمیم پڑھنے اور کسی سینئر وکیل سے مشورہ کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ “وفاقی آئینی عدالت کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنایا جائے”۔

سماعت کے اہم لمحات

تفصیلات کے مطابق درخواست گزار مزمل رفیق نے موقف اختیار کیا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز سے 12 ہزار ملازمین کو فارغ کر دیا گیا اور لاہور ہائیکورٹ سے انٹرا کورٹ اپیل واپس لینے کی “ایڈوائس” انہیں عدالت کی طرف سے دی گئی تھی۔جسٹس حسن رضوی نے فوری طور پر ٹوکتے ہوئے فرمایا“آپ 12 ہزار ملازمین کی بات نہ کریں، صرف اپنی بات کریں۔ آپ نے لاہور ہائیکورٹ سے انٹرا کورٹ اپیل خود واپس لی، اب وفاقی آئینی عدالت براہ راست کیسے آ گئے؟ کسی اچھے وکیل سے مشورہ کر لیں۔”جج صاحب نے مزید ریمارکس دیے“27ویں آئینی ترمیم پڑھ کر آئیں، اگلی سماعت پر اس کا جواب دیں۔ یوٹیلیٹی اسٹورز سے کروڑوں اربوں روپے کا نقصان ہوا، کتنی خوردبرد پکڑی گئی؟ عوام کو سستا سامان دینے کا ادارہ تھا، لیکن اسٹاف نے ہی مزے لوٹ لیے۔ کیا یہ حکومت کا کام ہے؟”

درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے انہیں تیاری کے لیے وقت دیتے ہوئے کیس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا۔

پس منظر

یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کو گزشتہ چند ماہ میں مالی بدحالی اور مبینہ کرپشن کے الزامات کے بعد بڑے پیمانے پر ملازمین کی برطرفی کا سامنا ہے۔ متعدد ملازمین نے عدالتیں میں ریلیف مانگا، لیکن 27ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ کار میں تبدیلی نے کیسز کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

عوامی رائے

ایکس پر اس سماعت نے خوب چرچا بٹورا:

  • ایک صارف نے لکھا: “جسٹس حسن رضوی نے ٹھیک کہا، یوٹیلیٹی اسٹورز عوام کے لیے نہیں بلکہ ملازمین کی جاگیر بن گئے تھے۔ اب برطرفی پر رونا؟”

  • دوسرے نے تبصرہ کیا: “12 ہزار خاندان بے روزگار، لیکن عدالت بھی حقائق دیکھ رہی ہے۔ کرپشن تو ثابت شدہ ہے نا!”

  • کچھ صارفین نے تنقید کی: “ملازم کو براہ راست آئینی عدالت آنے کا حق ہے یا نہیں؟ جج صاحب نے بہت سخت رویہ اپنایا۔”

جسٹس حسن رضوی کے ریمارکس اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ عدلیہ اب محض قانونی دفعات تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ اداروں کی کارکردگی اور عوامی مفاد کو بھی سامنے رکھ رہی ہے۔ یوٹیلیٹی اسٹورز کا اصل مقصد غریب عوام کو سستی اشیاء فراہم کرنا تھا، لیکن برسوں سے یہ ادارہ کرپشن اور نااہلی کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ 27ویں آئینی ترمیم نے آئینی عدالتوں کے دائرہ کار کو واضح کیا، اور اب کوئی بھی شہری براہ راست وفاقی سطح پر درخواست لے کر نہیں آ سکتا جب تک نچلی عدالتی راستے مکمل نہ ہوں۔

یہ کیس ایک طرف تو ملازمین کے حقوق کا سوال ہے، دوسری طرف ادارہ جاتی اصلاحات اور احتساب کا معاملہ بھی ہے۔ اگر عدالت نے مزمل رفیق کی درخواست مسترد کر دی تو یہ دیگر برطرف ملازمین کے لیے بڑا دھچکا ہوگا۔ البتہ عدالت کے ریمارکس سے لگتا ہے کہ اب عدلیہ “سیاسی دباؤ” یا “ہمدردی کی اپیلوں” سے بالاتر ہو کر حقائق اور قانون کی روشنی میں فیصلہ کرے گی۔

آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا یوٹیلیٹی اسٹورز کے برطرف ملازمین کو بحال ہونا چاہیے یا ادارے کی کرپشن اور نقصانات کی وجہ سے برطرفی درست تھی؟ جسٹس حسن رضوی کے ریمارکس آپ کو کیسے لگے؟ کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں