Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

ٹرمپ نے سعودی عرب کے لیے تاریخ کے بڑے دفاعی پیکیج کی منظوری دے دی

ایف-35 طیاروں سے لے کر 300 جدید ٹینک تک دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات نئے دور میں داخل
ٹرمپ نے سعودی عرب کے لیے تاریخ کے بڑے دفاعی پیکیج کی منظوری دے دی

واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک تاریخی دفاعی معاہدے کی منظوری دے دی ہے، جو نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا بلکہ خطے کی سلامتی، اقتصادی ترقی، اور ٹیکنالوجیکل تعاون کو بھی فروغ دے گا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، اس بڑے دفاعی پیکج میں جدید ترین ایف-35 لڑاکا طیاروں کی فراہمی شامل ہے، جبکہ سعودی عرب تقریباً 300 جدید ٹینک بھی حاصل کرے گا۔ یہ معاہدہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حالیہ دورہٰ واشنگٹن کا نتیجہ ہے، جس نے دونوں ممالک کے درمیان ایک نئی شراکت داری کی بنیاد رکھی ہے۔

دفاعی پیکج کی تفصیلات

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بتایا کہ اس دفاعی معاہدے کا بنیادی مقصد سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے، جو خطے میں استحکام اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ایف-35 لڑاکا طیاروں کی فراہمی، جو دنیا کے جدید ترین جنگی طیاروں میں شمار ہوتے ہیں، سعودی فضائیہ کو ایک نئی جہت دے گی۔ یہ طیارے جدید سینسرز، اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، اور متعدد ہتھیاروں کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو سعودی عرب کو علاقائی خطرات سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

اس کے علاوہ، سعودی عرب تقریباً 300 جدید ٹینک حاصل کرے گا، جو امریکی M1 ایبرمز ٹینکوں کی اپ گریڈ شدہ ورژن ہوں گے۔ یہ ٹینک جدید فائر کنٹرول سسٹم، مضبوط بکتر، اور بہتر موبلٹی سے لیس ہوں گے، جو سعودی بری فوج کی طاقت کو دوگنا کر دیں گے۔ وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ یہ پیکج خطے کی سلامتی کو مضبوط کرنے کے لیے ایک اسٹریٹجک اقدام ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان دیرپا دوستی کی عکاسی کرتا ہے۔

سول نیوکلیئر اور AI میں تاریخی معاہدے

دفاعی پیکج کے علاوہ، امریکہ اور سعودی عرب نے مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے متعدد مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) پر دستخط کیے ہیں۔ ان میں سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا ایک تاریخی معاہدہ شامل ہے، جو سعودی عرب کو پرامن جوہری توانائی کے شعبے میں داخلے کی راہ ہموار کرے گا۔ یہ معاہدہ سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت توانائی کی تنوع کو فروغ دے گا، جس کا مقصد تیل پر انحصار کم کرنا ہے۔

اسی طرح، دونوں ممالک نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے شعبے میں ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جو خطے میں ٹیکنالوجیکل ترقی کی ایک نئی راہ کھولے گا۔ یہ معاہدہ AI کی تحقیق، تربیت، اور استعمال کے لیے مشترکہ منصوبوں پر توجہ مرکوز کرے گا، جو سعودی عرب کو ایک ٹیک ہب بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

سرمایہ کاری کی توسیع

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب کی امریکہ میں سرمایہ کاری کو سابقہ 600 ارب ڈالر سے بڑھا کر 1 کھرب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ سرمایہ کاری انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، اور توانائی کے شعبوں میں کی جائے گی، جو دونوں ممالک کی معیشتوں کو تقویت دے گی۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس موقع پر کہا کہ یہ معاہدے سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان ایک نئی شراکت داری کا آغاز ہیں۔

عالمی ردعمل

اس معاہدے نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔ ایک امریکی تجزیہ کار نے کہا، ’’یہ دفاعی پیکج سعودی عرب کو خطے میں ایک طاقتور فوجی قوت بنائے گا، جو ایران اور دیگر خطرات کے مقابلے میں مفید ہوگا۔‘‘ دوسری طرف، سعودی عرب کے ایک ماہر نے تبصرہ کیا، ’’سول نیوکلیئر معاہدہ سعودی عرب کی توانائی کی تنوع کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔‘‘

عوامی رائے

ایکس پر صارفین نے اس معاہدے پر مخلوط ردعمل دیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’ٹرمپ اور سعودی عرب کا یہ دفاعی معاہدہ خطے میں توازن لائے گا۔ ایف-35 طیارے سعودی فضائیہ کو جدید بنائیں گے۔‘‘ ایک اور صارف نے کہا، ’’سول نیوکلیئر اور AI میں تعاون خوش آئند ہے، لیکن انسانی حقوق کے مسائل پر بھی توجہ دی جائے۔‘‘

ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کو دفاعی پیکج کی منظوری ایک ایسا قدم ہے جو امریکی خارجہ پالیسی میں سعودی عرب کی اسٹریٹجک اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ ایف-35 طیاروں اور 300 جدید ٹینکوں کی فراہمی سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں کو نئی جہت دے گی، جو خطے میں ایران اور دیگر ممکنہ خطرات کے مقابلے میں ایک توازن پیدا کرے گی۔ یہ معاہدہ نہ صرف عسکری بلکہ اقتصادی اور ٹیکنالوجیکل سطح پر بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرے گا۔

سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا معاہدہ سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت تیل پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، جو سعودی عرب کو ایک جدید توانائی طاقت بنانے میں مدد دے گا۔ AI میں تعاون خطے میں ٹیکنالوجیکل انقلاب کی بنیاد رکھے گا، جو سعودی عرب کو ایک گلوبل ٹیک ہب بنانے کی طرف قدم بڑھائے گا۔ سرمایہ کاری کی توسیع سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوگا، لیکن اس کے ساتھ انسانی حقوق اور علاقائی استحکام جیسے مسائل پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا یہ دفاعی پیکج خطے کی سلامتی کو مضبوط کرے گا یا نئی کشیدگی پیدا کرے گا؟ کمنٹ میں بتائیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں