Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

رجب بٹ اور سامعہ حجاب کی نامناسب گفتگو وائرل، سوشل میڈیا پر عوام کا شدید ردعمل

گفتگو کے دوران رجب بٹ نے سامعہ حجاب کے جسم کی کھل کر تعریف کی اور کہا کہ ان کا “باڈی شیپ بہت خوبصورت ہے
رجب بٹ اور سامعہ حجاب کی نامناسب گفتگو وائرل، سوشل میڈیا پر عوام کا شدید ردعمل

کراچی :ایک بار پھر تنازعات کے طوفان میں گھرے یوٹیوبروں رجب بٹ اور سامعہ حجاب کی مشترکہ ٹک ٹاک لائیو کلپ نے سوشل میڈیا کو آگ لگا دی ہے۔ کلپ میں دونوں کے درمیان ہونے والی انتہائی ذاتی اور نامناسب گفتگو نے صارفین کو حیران و پریشان کر دیا ہے، اور اب یہ ویڈیو ہر طرف وائرل ہو رہی ہے۔

کیا ہوا لائیو میں؟

تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں مقیم رجب بٹ اور دبئی میں رہائش پذیر سامعہ حجاب نے ٹک ٹاک پر ایک لائیو سیشن کیا۔ گفتگو کے دوران رجب بٹ نے سامعہ حجاب کے جسم کی کھل کر تعریف کی اور کہا کہ ان کا “باڈی شیپ بہت خوبصورت ہے”۔ جواب میں سامعہ نے ہنستے ہوئے کہا کہ ان کا پیٹ نکلا ہوا ہے اور وہ جم جا کر اسے کم کرنا چاہتی ہیں، کیونکہ وہ ٹائٹ کپڑے پہنتی ہیں اور “سب نے ان کا پیٹ دیکھ لیا ہے”۔

اس پر رجب بٹ نے فوراً کہا
“ہم پیٹ نہیں دیکھتے، باقی حصے دیکھتے ہیں۔”

یہ جملہ سنتے ہی لائیو میں دونوں ہنس پڑے، لیکن جیسے ہی یہ کلپ کاٹ کر سوشل میڈیا پر پھیلا، عوام نے اسے “انتہائی گھٹیا” اور “غیر اخلاقی” قرار دے دیا۔

دونوں کے متنازع پس منظر

رجب بٹ پاکستان میں درج متعدد مقدمات کے بعد کچھ عرصہ قبل برطانیہ منتقل ہو گئے تھے اور وہیں سے اپنا مواد بنا رہے ہیں۔ دوسری طرف سامعہ حجاب اس وقت شہ سرخیوں میں آئیں جب انہوں نے اپنے سابق منگیتر پر اغوا کا مقدمہ درج کروایا، پھر عدالت سے باہر تصفیہ کے بعد کیس واپس لے لیا، جس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

کچھ دن پہلے ہی سامعہ نے اپنے بولڈ لباس کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ “لوگوں کی چھوٹی سوچ کی وجہ سے میرے کپڑے بھی چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں”، اور رجب بٹ کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ عوام نے رجب کا بھی ساتھ نہیں دیا۔

سوشل میڈیا پر طوفان

کلپ وائرل ہوتے ہی ایکس اور فیس بک پر صارفین نے دونوں پر خوب تنقید کی:

  • ایک صارف نے لکھا: “یہ بے شرمی کی حد ہے۔ لڑکی کی باڈی پر اس طرح کھلے عام تبصرے؟ اور وہ خود بھی ہنس رہی ہے۔ شرم نام کی کوئی چیز نہیں رہی۔”

  • دوسرے نے کہا: “رجب بٹ کو اپنی بیوی اور بچوں کی کوئی پروا نہیں، برطانیہ بیٹھ کر مزے لوٹ رہا ہے۔ یہ سستا کانٹینٹ ہے، بس ویوز کے لیے کچھچڑی پکا رہے ہیں۔”

  • ایک خاتون صارف نے لکھا: “سامعہ حجاب خود کو فیمنسٹ کہتی ہیں، لیکن جسم پر تبصرے سن کر ہنستی ہیں۔ یہ کون سا فیمپیورمنٹ ہے؟”

  • کئی صارفین نے لکھا “یہ لوگ ہماری نوجوان نسل کو تباہ کر رہے ہیں۔ ان کے چینلز بلاک کیے جائیں۔”

رجب بٹ اور سامعہ حجاب کا یہ تازہ ترین ویڈیو کلپ دراصل انفلوئنسرز کے بڑھتے ہوئے “ویوز کے لیے کچھ بھی” رجحان کی ایک اور مثال ہے۔ جب مواد بنانے کی دوڑ میں اخلاقیات، شرم و حیا اور سماجی ذمہ داری کو بالکل نظر انداز کر دیا جائے تو یہی نتائج نکلتے ہیں۔دونوں شخصیات پہلے ہی سے متنازع رہی ہیں، اور اب یہ لائیو گفتگو ان کے کیریئر پر ایک اور داغ بن گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں عوام ان کی شدید مذمت کر رہی ہے، وہیں ان کے کچھ ڈائی ہارڈ فینز اسے “بولڈنس” اور “بے باکی” قرار دے رہے ہیں۔یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کنٹینٹ کی کوئی حد مقرر کی جائے یا نہیں؟ کیا ویوز اور پیسے کے لیے سماجی اقدار کو روندنا جائز ہے؟

آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا رجب بٹ اور سامعہ حجاب کی یہ گفتگو محض “انٹرٹینمنٹ” تھی یا سراسر بے حیائی؟ کیا ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے؟ کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں