Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

اسرائیل نے نئے مسلم ملک ’صومالی لینڈ‘ کو تسلیم کر لیا، تاریخی پیش رفت

صومالی لینڈ نے طویل خانہ جنگی اور سیاسی عدم استحکام کے بعد 1991 میں صومالیہ سے علیحدگی اختیار کر کے خود کو ایک آزاد ریاست قرار دیا تھا
اسرائیل نئے مسلم ملک ’صومالی لینڈ‘ کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا

اسرائیل نے ایک اہم اور غیر معمولی سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے نئے مسلم اکثریتی خطے جمهوریۂ صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا ہے، یوں اسرائیل دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس سے قبل رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ صومالی لینڈ ان ممالک میں شامل ہے جو غزہ سے فلسطینیوں کی ممکنہ آبادکاری کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔

صومالی لینڈ نے طویل خانہ جنگی اور سیاسی عدم استحکام کے بعد 1991 میں صومالیہ سے علیحدگی اختیار کر کے خود کو ایک آزاد ریاست قرار دیا تھا۔ اس خطے میں اکثریت مسلمان آبادی پر مشتمل ہے اور عربی زبان کو بھی نمایاں حیثیت حاصل ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر خارجہ نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اعلامیے پر باضابطہ دستخط کیے، جبکہ صومالی لینڈ کے صدر عبد الرحمان محمد عبداللہی نے بھی اپنی حکومت کی جانب سے اس دستاویز کی توثیق کی۔

اس موقع پر وزیراعظم نیتن یاہو اور صومالی لینڈ کے صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیا۔ نیتن یاہو نے صومالی لینڈ کے صدر کو اسرائیل کے سرکاری دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی صومالی لینڈ کی ابراہیم معاہدوں میں شمولیت کی خواہش سے آگاہ کریں گے۔

صومالی لینڈ کے صدر عبد الرحمان محمد عبداللہی نے اسرائیل کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے آغاز کی بنیاد بنے گا۔ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور ابراہیم معاہدوں میں شامل ہونے کے لیے آمادگی کا اظہار بھی کیا۔

تاہم اسرائیل کے اس فیصلے پر اندرونِ ملک تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ اسرائیلی چینل 12 کے مطابق ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبردار کیا ہے کہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا فلسطینی ریاست کے حوالے سے اسرائیل کے دیرینہ مؤقف کو کمزور کر سکتا ہے، کیونکہ عالمی برادری اب بھی صومالی لینڈ کو صومالیہ کا حصہ تصور کرتی ہے۔

تاریخی پس منظر کے مطابق صومالی لینڈ نے 1960 میں مختصر مدت کے لیے آزادی حاصل کی تھی، جسے اسرائیل سمیت 35 ممالک نے تسلیم کیا تھا۔ بعد ازاں اس نے صومالیہ کے ساتھ اتحاد کر لیا، تاہم یہ اتحاد برقرار نہ رہ سکا اور طویل جنگوں کے بعد 1991 میں صومالی لینڈ نے ایک بار پھر خود کو علیحدہ ملک قرار دے دیا۔

اگرچہ اب تک کسی بھی ملک نے صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا تھا، تاہم برطانیہ، ایتھوپیا، ترکی، متحدہ عرب امارات، ڈنمارک، کینیا اور تائیوان جیسے ممالک وہاں اپنے رابطہ دفاتر قائم کر چکے ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کے بعد عالمی سطح پر اس فیصلے کے سیاسی، سفارتی اور جغرافیائی اثرات پر بحث شروع ہو گئی ہے، جس کے اثرات مستقبل میں خطے کی سیاست پر گہرے ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا محض ایک سفارتی اعلان نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی جیو پولیٹیکل حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل افریقہ کے اس حساس خطے میں اپنی موجودگی مضبوط کرنا چاہتا ہے جہاں بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن کے تجارتی راستے عالمی معیشت کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔

افریقی سیاست کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے سے اسرائیل کو ایک ایسا اتحادی مل سکتا ہے جو نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے اسٹریٹجک ہو بلکہ عرب اور مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات کے نئے دروازے بھی کھول سکتا ہے۔ تاہم ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ اس فیصلے سے صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

سفارتی ماہرین کے مطابق صومالی لینڈ کی ابراہیم معاہدوں میں ممکنہ شمولیت مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئی صف بندی کا سبب بن سکتی ہے۔ ان کے بقول یہ اقدام فلسطین کے مسئلے پر اسرائیل کے دیرینہ مؤقف کو مزید متنازع بنا سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب غزہ کی صورتحال پہلے ہی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنا عالمی سیاست میں ایک غیر معمولی پیش رفت ہے، جو افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ دونوں خطوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل نہ صرف خطے میں اپنے اتحادیوں کا دائرہ وسیع کرنا چاہتا ہے بلکہ عالمی سطح پر تنہائی کے تاثر کو بھی کم کرنے کی کوشش میں ہے۔

صومالی لینڈ اگرچہ عملی طور پر تین دہائیوں سے خود کو ایک الگ ریاست کے طور پر چلا رہا ہے، مگر اسے عالمی سطح پر باضابطہ تسلیم نہ کیے جانے کی وجہ سے سفارتی اور معاشی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے بعد صومالی لینڈ کو ممکنہ طور پر دیگر ممالک سے بھی سفارتی حمایت ملنے کی امید پیدا ہو سکتی ہے، تاہم یہ عمل آسان نہیں ہوگا کیونکہ افریقی یونین اور اقوامِ متحدہ اب بھی صومالیہ کی علاقائی وحدت کے اصول کی حمایت کرتے ہیں۔

اس اقدام کا ایک اہم پہلو فلسطینی مسئلہ بھی ہے۔ ناقدین کے مطابق صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے سے اسرائیل کا یہ مؤقف کمزور ہو سکتا ہے کہ یکطرفہ علیحدگیوں کو عالمی سطح پر قبول نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ صومالی لینڈ کی حیثیت بھی ابھی تک متنازع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے اندر سے بھی اس فیصلے پر تنقید سامنے آ رہی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے لیے یہ قدم بحیرۂ احمر اور افریقہ کے اس حصے میں اسٹریٹجک اثر و رسوخ بڑھانے کا ذریعہ بن سکتا ہے، جہاں چین، ترکی اور خلیجی ممالک پہلے ہی سرگرم ہیں۔ صومالی لینڈ کے ساتھ تعلقات اسرائیل کو سیکیورٹی، تجارت اور بحری راستوں کے تحفظ کے حوالے سے نئے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ فیصلہ عالمی سیاست میں ایک نیا باب کھول سکتا ہے، مگر اس کے نتائج فوری کے بجائے طویل المدت ہوں گے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا دیگر ممالک بھی اسرائیل کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے صومالی لینڈ کو تسلیم کرتے ہیں یا یہ فیصلہ ایک منفرد اور متنازع مثال بن کر رہ جاتا ہے۔

اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا عالمی سفارت کاری میں ایک نیا موڑ سمجھا جا رہا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کی سیاست میں نئی صف بندیاں سامنے آ سکتی ہیں۔
کیا یہ فیصلہ خطے میں استحکام لائے گا یا نئے تنازعات کو جنم دے گا؟

اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں