Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

ایشیائی ممالک میں تباہ کن طوفان، سیلاب ایک ہفتے میں 1100 سے زائد افراد ہلاک

ایشیائی ممالک میں تباہ کن طوفان، سیلاب ایک ہفتے میں 1100 سے زائد افراد ہلاک

اسلام آباد : ایشیائی خطے کے مختلف ممالک حالیہ دنوں میں قدرتی آفات کی سنگین لہر کی زد میں آ گئے ہیں جہاں سمندری طوفانوں، مسلسل موسلا دھار بارشوں، شدید سیلاب اور خطرناک لینڈ سلائیڈنگ نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق صرف ایک ہفتے کے عرصے میں 1100 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ لاکھوں شہری بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے  مطابق  تباہی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مختلف ممالک میں امدادی ادارے مسلسل ریسکیو سرگرمیوں میں مصروف ہیں جبکہ مزید بارشوں کی پیشنگوئی نے خطرے کا الارم بجا دیا ہے۔

مہلک اعدادوشمار: ملک وار ہلاکتیں

تاحال موصول ہونے والے مستند اعدادوشمار کے مطابق

  • انڈونیشیا میں ہلاکتوں کی تعداد 604 تک پہنچ چکی ہے

  • سری لنکا میں اب تک 366 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے

  • تھائی لینڈ میں قدرتی آفات کے دوران 176 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں

  • ملائیشیا میں 3 قیمتی جانوں کے ضیاع کی تصدیق ہوئی

ان اعدادوشمار میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ کئی متاثرہ علاقوں میں رابطے منقطع ہیں اور ریسکیو ٹیمیں ابھی تک مکمل نقصان کا اندازہ نہیں لگا سکی ہیں۔

سری لنکا میں ایمرجنسی نافذ

شدید تباہی کے بعد سری لنکا میں ملک گیر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ سری لنکن صدر انورا کمارا صورتحال کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ تباہی کے نقصانات 2004 کے بدترین سونامی سے بھی زیادہ سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں فوج اور پولیس کو ریسکیو، طعام رسانی اور نقل مکانی کے فرائض سونپ دیے گئے ہیں جبکہ عارضی کیمپ قائم کیے جا رہے ہیں۔

تعلیمی نظام شدید متاثر

عالمی فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن نے ایک تشویشناک رپورٹ میں بتایا ہے کہ انڈونیشیا اور تھائی لینڈ میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہزاروں بچے تعلیمی سرگرمیوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ جنوبی تھائی لینڈ میں صورتحال اس قدر خراب ہے کہ تقریباً 76 ہزار بچے اسکول نہیں جا پا رہے جبکہ انڈونیشیا میں ایک ہزار سے زائد تعلیمی ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔ کئی اسکول عمارتیں وقتی طور پر ایمرجنسی شیلٹرز میں تبدیل کر دی گئی ہیں جن میں بے گھر عوام کو پناہ دی جا رہی ہے۔

تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ متاثرہ بچوں کو نہ صرف تعلیم کی فوری بحالی کی ضرورت ہے بلکہ انہیں نفسیاتی، طبی اور حفاظتی امداد بھی ناگزیر ہے کیونکہ قدرتی آفات بچوں پر گہرے ذہنی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔

امدادی سرگرمیاں اور چیلنجز

ریسکیو ٹیمیں تباہ شدہ علاقوں میں:

  • ملبے سے افراد کو نکالنے

  • دارالحکومتوں سے غذائی امداد پہنچانے

  • سیلاب زدگان کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے

میں دن رات سرگرم ہیں۔ تاہم بارشوں کے مسلسل سلسلے کے باعث کئی مقامات پر امدادی کارروائیاں سست روی کا شکار ہیں۔ لینڈ سلائیڈنگ سے کچھ علاقوں کے زمینی راستے مکمل طور پر کٹ چکے ہیں جس کے نتیجے میں متاثرین تک پہنچنا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

بھارت میں بھی اثرات

اس موسمی شدت کے اثرات بھارت تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ بھارتی ریاست تامل ناڈو سمندری طوفان "دتوا” کی لپیٹ میں ہے جہاں شدید بارشوں کے باعث چنائی ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن معطل ہو گیا ہے اور شہری زندگی بری طرح متاثر ہے۔ موسمی اداروں نے مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے الرٹ جاری کر دیا ہے۔

عالمی خدشات اور موسمیاتی تناظر

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایشیا میں شدت اختیار کرتی قدرتی آفات عالمی موسمیاتی تبدیلی کی واضح علامت بنتی جا رہی ہیں۔ درجہ حرارت میں اضافہ، سمندری ہواؤں کی غیر معمولی شدت، مون سون پیٹرنز میں تبدیلی اور گلیشیئرز کی تیز رفتار پگھلاوہ ایسی آفات کے تسلسل کو جنم دے رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ سمیت کئی عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی سطح پر موسمی تبدیلی کے خلاف فوری عملی اقدامات نہ کئے گئے تو مستقبل میں قدرتی آفات کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے جس سے غریب ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

ایشیا میں حالیہ تباہی صرف موسمی حادثہ نہیں بلکہ موسمیاتی بحران کی براہِ راست تصویر ہے جس کے اثرات سب سے زیادہ بچوں، بزرگوں اور کمزور طبقات پر پڑ رہے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کے پاس نہ مکمل حفاظتی ڈھانچہ موجود ہے اور نہ ہی موثر ریسکیو نظام، یہی وجہ ہے کہ ہر طوفان ایک انسانی المیے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ بروقت پیشگی وارننگ سسٹمز، محفوظ انفراسٹرکچر اور عالمی امدادی تعاون کے بغیر ان قدرتی آفات پر قابو پانا ممکن نہیں۔

عوامی رائے

عوامی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہری یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا حکومتیں موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں یا نہیں۔ سوشل میڈیا پر لاکھوں صارفین متاثرین کیلئے دعاؤں اور امدادی سامان بھیجنے کی اپیلیں کر رہے ہیں، جبکہ کئی حلقے ترقی یافتہ ممالک سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کا ذمہ دار ہونے کے ناطے متاثرہ ممالک کی بھرپور مالی مدد کریں۔

آپ کی رائے؟

کیا دنیا موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے خطرے سے نمٹنے کیلئے بروقت اقدامات کر رہی ہے یا ہمیں ایسے مزید خوفناک مناظر دیکھنے پڑیں گے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں