Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے حقوقِ اقلیتاں بل 2025 کثرتِ رائے سے منظور

یہ ہمارے خمیر میں نہیں کہ کسی ایسی قانون سازی کو فروغ دیا جائے جو قادیانی فتنے کو تقویت دے۔وفاقی وزیر قانون
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے حقوقِ اقلیتاں بل 2025 کثرتِ رائے سے منظور

اسلام آباد : پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شدید شور شرابے اور اپوزیشن کے احتجاج کے درمیان قومی کمیشن برائے حقوقِ اقلیتاں بل 2025 کو کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔ بل کے حق میں 160 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 79 ارکان نے مخالفت کی۔ ایوان میں کشیدہ فضا، نعروں کی گونج اور احتجاج کے نتیجے میں اپوزیشن کے اراکین واک آؤٹ کر گئے۔ بعد ازاں اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔

اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کی۔ ایجنڈے کے مطابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل زیر غور لانے کی تحریک پیش کی، جس کے بعد ایوان میں گرما گرم بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بحث کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی، جس میں "ناموسِ رسالت زندہ باد”، "نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر” جیسے نعرے لگائے گئے، جس کے باعث ایوان کا نظم سخت متاثر ہوا۔ شور شرابے کی شدت کا عالم یہ تھا کہ اسپیکر اور وزیر قانون کو سماعت کیلئے ہیڈ فون کا سہارا لینا پڑا۔

سیاسی تقسیم

بل کی منظوری کے دوران مختلف جماعتوں کے موقف میں واضح اختلاف دکھائی دیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومتی مؤقف کی حمایت کی، تاہم پارٹی کے رہنما قادر پٹیل نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ اسی طرح سینیٹر عبدالقادر اور ایمل ولی خان نے بھی قانون سازی کی کھل کر مخالفت کی۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پاکستان تحریک انصاف دونوں نے بل کے بعض نکات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مذہبی حساس معاملات پر تشویش ظاہر کی۔ اپوزیشن ارکان مسلسل نعرے لگاتے رہے جس سے کارروائی متعدد بار متاثر ہوئی۔

شق 35: تنازع کی اصل وجہ

بحث کے دوران سب سے زیادہ تنازع شق 35 پر سامنے آیا جسے اپوزیشن جماعتوں نے اسلامی تشخص کے حوالے سے حساس قرار دیا۔ جے یو آئی (ف) کی جانب سے عالیہ کامران نے باقاعدہ ترمیم پیش کرتے ہوئے شق 35 حذف کرنے کی تجویز دی۔ بعد ازاں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے شق کو واپس لینے کا اعلان کیا اور ترمیم کو ایوان نے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔ اس طرح بل سے شق 35 کو نکال کر باقی شقوں کے ساتھ بل کی شق وار منظوری دی گئی۔

وزیر قانون کا مؤقف

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ قانون کسی مخصوص گروہ کے مفاد کیلئے نہیں بلکہ پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے تشکیل دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں سپریم کورٹ نے فیصلے کے ذریعے حکومت کو اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے خصوصی کمیشن قائم کرنے کی ہدایت دی تھی اور حکومت اب آئینی ذمہ داری پوری کر رہی ہے۔

وزیر قانون نے مزید کہا کہ اسلامی اصولوں کے خلاف کوئی بھی قانون سازی ممکن نہیں اور نہ ہی حکومت کا ایسا کوئی ارادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت قادیانی غیر مسلم ہیں اور ریاست کی سطح پر اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بل میں ایسی کوئی گنجائش نہیں رکھی جا رہی جس سے قادیانی مسئلہ یا ناموس رسالت کے حوالے سے آئینی مؤقف متاثر ہو۔

مزید گفتگو میں انہوں نے کہا”یہ ہمارے خمیر میں نہیں کہ کسی ایسی قانون سازی کو فروغ دیا جائے جو قادیانی فتنے کو تقویت دے۔”

انہوں نے بتایا کہ جے یو آئی کو مکمل یقین دہانی کرا دی گئی ہے اور شق 35 ہٹا کر تمام خدشات کو دور کر دیا گیا ہے۔

اپوزیشن کے اعتراضات

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایسے قانون متعارف کروائے جا رہے ہیں جن سے غلط فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، اور حکومت کو سوچنا چاہیے کہ غیر ضروری تنازع کی راہوں پر کیوں جایا جا رہا ہے۔

جے یو آئی کے رہنما کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ان کی جماعت اقلیتوں کے حقوق کے خلاف نہیں کیونکہ وہ انہیں برابر کا شہری سمجھتے ہیں، تاہم قانون کی بعض دفعات ایسی تھیں جو قادیانیوں سے متعلق آئینی فیصلوں کو غیر مؤثر بنا سکتی تھیں۔ انہوں نے شق 35 کو ہٹانے پر زور دیا اور کہا کہ یہ قدم انتہائی ضروری تھا تاکہ کسی غلط تشریح کا دروازہ نہ کھلے۔

پی ٹی آئی کا مؤقف

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اقلیت ہمارے بھائی ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے، تاہم ایسی کوئی قانون سازی قابلِ قبول نہیں ہو سکتی جو اسلامی اصولوں کے منافی ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایجنڈے کے مطابق یکے بعد دیگرے کئی قوانین منظور کروانا چاہتی ہے، مگر حساس معاملات پر تمام جماعتوں کو مشاورت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔

ایوان میں شدید ماحول

بحث کے دوران ماحول اس قدر کشیدہ ہو گیا کہ بار بار کارروائی متاثر ہوتی رہی۔ علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ پاکستان کو دراصل انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا سامنا ہے اور عام شہریوں کے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر کی غیر موجودگی کو جمہوری عدم توازن قرار دیا اور قانون سازی کے جلد بازی میں ہونے پر سوال اٹھایا۔

مولانا فضل الرحمان نے اسے ماضی کی نہ ختم ہونے والی بحثوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے مترادف قرار دیا۔

مزید برآں، سینیٹر نور الحق قادری نے کہا کہ مذہبی طبقے کو اقلیتوں کے حقوق سے کوئی اختلاف نہیں، ہندو، سکھ اور عیسائی برادری مکمل احترام کی مستحق ہیں، البتہ قادیانی مسئلے پر تشویش بجا ہے کیونکہ یہ آئینی اور مذہبی حساسیت سے جڑا معاملہ ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما قادر پٹیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس مسئلے پر امتِ مسلمہ کا اجتماعی مؤقف موجود ہے اور وزیر قانون کو ایسے معاملات میں کسی قسم کی ابہام پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

دیگر قوانین کی منظوری

مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل کے علاوہ کئی دیگر اہم بل بھی کثرت رائے سے منظور کر لیے گئے، جن میں:

  • کنونشن برائے حیاتیاتی و زہریلے ہتھیار عمل درآمد بل 2024

  • پاکستان انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل 2023

  • نیشنل یونیورسٹی آف سیکیورٹی سائنسز اسلام آباد بل 2023

  • اخوت انسٹیٹیوٹ قصور بل 2023

  • گھرکی انسٹیٹیوٹ آف سائنس و ٹیکنالوجی بل 2025

مزید برآں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین ترمیمی بل 2025 بھی پیش کر کے شق وار منظور کر لیا گیا۔

قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025 کی منظوری ایک حساس آئینی توازن کی مثال بن کر سامنے آئی ہے، جہاں حکومت نے سپریم کورٹ کے 2014 کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے اقلیتی حقوق کے تحفظ کیلئے ایک اہم قدم اٹھایا، جبکہ دوسری طرف مذہبی طبقات کے تحفظات کے پیش نظر شق 35 حذف کر کے تشویش دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ قانون سازی ایک جانب اقلیتوں کے حقوق کیلئے ریاستی عزم کی علامت ہے تو دوسری جانب مذہبی و آئینی حساسیت کو برقرار رکھنے کی کوشش بھی نظر آتی ہے۔

اصل امتحان اب اس قانون کے عملی نفاذ میں ہو گا ۔ آیا کمیشن واقعی اقلیتی برادری کو انصاف دلانے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے یا یہ بھی محض ایک رسمی ادارہ ثابت ہوتا ہے۔

عوامی رائے

شہری حلقوں میں بل کی منظوری پر ملے جلے ردِعمل دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ کچھ افراد اسے اقلیتوں کے تحفظ کی جانب مثبت پیش رفت سمجھتے ہیں، جبکہ کئی حلقے مذہبی تشویش کے تناظر میں شق 35 کے مسئلے کو بروقت حل کیے جانے کو ضروری قدم قرار دے رہے ہیں۔ عوامی سطح پر یہ مطالبہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ قانون پر مکمل شفاف عملدرآمد ہو اور کسی طبقے کو غیر ضروری خدشات یا شکایات نہ ہوں۔

آپ کی رائے؟

کیا قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025 واقعی پاکستان میں اقلیتوں کے تحفظ کیلئے اہم موڑ ثابت ہوگا، یا یہ صرف ایک رسمی قانونی اقدام بن کر رہ جائے گا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں