Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

سوشل میڈیا پر بیٹھے زیادہ تر لوگوں کی سوچ گندی ہوچکی ہے،مشی خان

متعدد صارفین نے انہیں بھارتی اور افغان میڈیا کی بے بنیاد افواہوں کو پھیلانے کا ذمہ دار قرار دے کر شدید تنقید کا نشانہ بنایا
سوشل میڈیا پر بیٹھے زیادہ تر لوگوں کی سوچ گندی ہوچکی ہے۔مشی خان

کراچی:معروف اداکارہ اور ٹی وی میزبان مشی خان نے سوشل میڈیا صارفین کے رویے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ آج سوشل میڈیا پر بیٹھے کئی افراد کی سوچ ’’انتہائی گندی‘‘ ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محض ایک ویڈیو پوسٹ کرنے پر انہیں بدترین زبان، تضحیک اور سخت ذاتی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

تفصیلات کے مطابق مشی خان نے گزشتہ روز ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں انہوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق گردش کرتی خبروں پر حکومت سے مصدقہ معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم یہ ویڈیو پوسٹ ہوتے ہی متعدد صارفین نے انہیں بھارتی اور افغان میڈیا کی بے بنیاد افواہوں کو پھیلانے کا ذمہ دار قرار دے کر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

میرے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی

جوابی ردعمل میں مشی خان نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ عمران خان کی صحت کی ویڈیوز پر میرے خلاف انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ معتبر اور بڑے اکاؤنٹس نے بھی ان کے بارے میں ’’گھٹیا‘‘ زبان استعمال کی، جو انتہائی افسوسناک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر لوگوں کو کم از کم انسانیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اور کسی کے احساسات یا جذبات کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے۔

’’جھوٹی خبروں پر جذباتی ہو کر ویڈیو لگائی‘‘

مشی خان نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جب انہوں نے صبح سوشل میڈیا کھولا تو ہر طرف یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ عمران خان ’’دنیا میں نہیں رہے‘‘۔
انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہ غلط اور بے بنیاد پروپیگنڈا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جذباتی کیفیت میں ویڈیو بنا کر پوسٹ کردی تھی، کیونکہ خبر انتہائی حساس تھی۔
تاہم اس کے بعد انہیں اس قدر توہین آمیز زبان کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ حیران رہ گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ صارفین نے کہا کہ وہ اوور ایکٹنگ کر رہی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دل کی کیفیت بیان کی، نہ کوئی ایکٹنگ کی اور نہ ہی کوئی سیاسی مقصد تھا۔

مشی خان کا ردعمل اس بات کی ایک بڑی مثال ہے کہ سوشل میڈیا آج کس حد تک زہریلا ماحول بنا چکا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ افواہیں، جذباتی ردِعمل اور غلط معلومات سوشل میڈیا کو پہلے ہی بدنظمی کا شکار بنا چکی ہیں، لیکن زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہاں اختلافِ رائے نہیں بلکہ ذاتی حملے اور تضحیک عام ہو چکے ہیں۔

مشی خان نے ایک انسانی ردِعمل دیا، مگر سوشل میڈیا کے ایک حصے نے اسے سیاسی رنگ دے کر شدید حملوں کا نشانہ بنایا۔
یہ رویہ نہ صرف معاشرتی زوال کی علامت ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ہم بحث و مکالمے کے بنیادی اصول بھی بھول چکے ہیں۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ مشی خان نے کیا کہا — اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر دوسروں کے جذبات، خوف اور خدشات کو سمجھنے میں ناکام ہوتے جا رہے ہیں۔

عوامی رائے

◼ کچھ صارفین نے مشی خان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف انسانی جذبات کے تحت ویڈیو بنائی تھی۔
◼ متعدد لوگوں نے سوشل میڈیا کے رویے کو ’’زہریلا‘‘ اور ’’غیر اخلاقی‘‘ قرار دیا۔
◼ کچھ افراد نے کہا کہ مشی خان کو ویڈیو پوسٹ کرنے سے پہلے خبر کی تصدیق کرنی چاہیے تھی۔
◼ جبکہ کچھ سیاسی کارکنوں نے انہیں ’’غیر ذمہ دار‘‘ کہہ کر تنقید جاری رکھی، جس پر صارفین کی دو رائے بنی ہوئی ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا مشی خان کے ساتھ زیادتی ہوئی؟
یا انہیں خبر کی تصدیق کیے بغیر بات نہیں کرنی چاہیے تھی؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں