امریکی میڈیکل سائنس کی دنیا سے ایک حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں ممتاز معالج اور فوکس نیوز کے سینئر میڈیکل اینالسٹ ڈاکٹر مارک سیگل نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر دوا کے ساتھ معجزے پر یقین رکھا جائے تو انسان نہ صرف صحت یاب ہوتا ہے بلکہ طویل، بھرپور اور بامقصد زندگی بھی گزار سکتا ہے۔
انہی مشاہدات کی بنیاد پر ڈاکٹر سیگل نے ایک اہم اور غیر معمولی کتاب "ہمارے ساتھ ہونے والے معجزات” (Miracles Happening to Us) تحریر کی ہے، جس میں انہوں نے طب کے میدان میں پیش آنے والے ایسے حقیقی واقعات جمع کیے ہیں جن کی سائنسی توجیہ ممکن نہیں، مگر وہ اپنی حقیقت اور اثر میں ناقابلِ تردید ہیں۔
کتاب میں شامل واقعات
تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر سیگل لکھتے ہیں کہ کتاب میں شامل تمام واقعات مصدقہ، حقیقی اور ذاتی مشاہدات پر مبنی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں ایسے لمحے بارہا آتے ہیں جب حالات سائنسی اصولوں کے بالکل برعکس رخ اختیار کرتے ہیں ۔ اسے وہ ’’زندگی کے پوشیدہ عوامل‘‘ کہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بعض مریض ایسے مرحلے سے لوٹ آتے ہیں جہاں سے واپسی کو سائنس ناممکن قرار دیتی ہے۔ کوما میں جانے والا مریض جاگ جاتا ہے، لاعلاج سمجھا جانے والا انسان صحت پاتا ہے، یا کوئی شخص موت کے منہ سے نکل کر پھر سے زندگی کی طرف پلٹ آتا ہے۔
100 سالہ والدین کی زندگی
ڈاکٹر سیگل نے اپنی کتاب میں اپنے والدین کی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد 102 سال اور والدہ 100 سال کی عمر تک زندہ رہیں۔
دونوں نہ صرف باہمی محبت میں جڑے رہے بلکہ معجزات پر گہرا یقین بھی رکھتے تھے، اور یہی یقین انہیں آخری سانس تک مضبوط اور مطمئن رکھتا رہا۔
یہ مثال ان کے مطابق اس بات کی تصدیق ہے کہ روحانی یقین اور مثبت ذہنی کیفیت انسانی عمر اور صحت پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔
جب سائنسی امکانات ختم ہوئے مگر ایمان اثر لے گیا
کتاب میں ایک انتہائی متاثر کن واقعہ بھی شامل ہے جس میں ایک نوزائیدہ بچے کے دل میں خطرناک مسئلہ پیدا ہوگیا۔
فوری آپریشن کے باوجود ڈاکٹرز نے جسمانی کمزوری کے سبب بچے کے زندہ رہنے کے امکانات انتہائی کم ظاہر کیے۔
لیکن بچے کے والدین نے روحانی یقین، دعاؤں اور معجزے کی امید کو چھوڑا نہیں۔
ڈاکٹر سیگل کے مطابق یہ انہی والدین کے غیر معمولی یقین کا نتیجہ تھا کہ وہ بچہ معجزانہ طور پر صحت مند ہو گیا ۔ ایسا واقعہ جو ڈاکٹروں کی ٹیم کے لیے آج تک ایک معمہ ہے۔
70 فیصد ڈاکٹرز بھی معجزات پر یقین رکھتے ہیں
ڈاکٹر سیگل کا ایک بڑا انکشاف یہ بھی ہے کہ 70 فیصد سے زائد ڈاکٹر معجزات، مذہبی یقین اور روحانی قوت پر یقین رکھتے ہیں۔
تاہم عملی طبی ماحول میں اس یقین کا اظہار کم نظر آتا ہے، کیونکہ سائنسی برادری عمومی طور پر ایسے واقعات کو اپنے دائرے سے باہر رکھتی ہے۔
ڈاکٹر سیگل چاہتے ہیں کہ ایسے روحانی عوامل کو صرف جذبات نہیں بلکہ انسانی صحت اور امید کا اہم جزو سمجھا جائے اور انہیں نظر انداز نہ کیا جائے۔
کتاب کا مقصد
ڈاکٹر سیگل کے مطابق اس کتاب کا مقصد محض کہانیاں سنانا نہیں بلکہ ایک بڑی عالمی حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے:
’’دنیا بے چینی، عدم برداشت، تقسیم اور ذہنی اضطراب سے بھری ہوئی ہے۔ ایسے دور میں لوگوں کو اپنے اردگرد ہونے والے چھوٹے بڑے معجزات کو دیکھنا اور پہچاننا سیکھنا چاہیے۔‘‘
وہ لکھتے ہیں کہ کبھی کبھار غیر متوقع رہنمائی، دل کی آواز یا مشکل حالات میں ایک عجیب سی روشنی انسان کو نئی زندگی بخش دیتی ہے ۔ اور یہی معجزہ ہے۔
ڈاکٹر سیگل کی کتاب طب اور روحانیت کے درمیان نئی بحث کو جنم دیتی ہے۔
اگرچہ سائنس ہر چیز کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتی ہے، مگر انسانی تجربات کا ایک وسیع دائرہ اب بھی سائنسی قوانین سے ماورا ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ذہنی کیفیت، امید، دعا اور مثبت سوچ بیماریوں کے علاج میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
دنیا بھر میں "placebo effect”، ’’mind-body connection‘‘ اور ’’spiritual healing‘‘ پر وسیع تحقیق ہو چکی ہے، مگر ڈاکٹر سیگل پہلی مرتبہ اسے معمول زندگی کے حقیقی واقعات سے جوڑ کر سامنے لائے ہیں۔
یہ کتاب شاید وہ دروازہ ہے جو سائنس کو انسان کے روحانی پہلو کے قریب لانے میں مدد دے — اور شاید یہی سب سے بڑی معجزہ ہے۔
عوامی رائے
◼ بہت سے پاکستانی اور بین الاقوامی صارفین نے اس انکشاف کو ’’روحانی دنیا کی سچائی‘‘ قرار دیا۔
◼ کچھ لوگوں نے کہا کہ ’’معجزہ اللہ کی قدرت ہے، سائنس کی حدود ہیں‘‘۔
◼ لبرل حلقوں نے اسے ’’سائنس اور عقیدے کے درمیان دلچسپ توازن‘‘ قرار دیا۔
◼ کئی ڈاکٹروں نے بھی سوشل میڈیا پر اس کتاب کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایمان مریض کی طاقت بن جاتا ہے‘‘۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا معجزے واقعی انسانی زندگی میں کردار ادا کرتے ہیں؟
کیا سائنس کو روحانی یقین کے اثرات کو اپنے دائرے میں شامل کرنا چاہیے؟
اپنی قیمتی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں!
