Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

12 ہزار سال قدیم خاتون اور ہنس کا مجسمہ دریافت، ماہرینِ آثار قدیمہ دنگ رہ گئے

یہ مجسمہ نہ صرف اپنی عمر کے اعتبار سے نایاب ہے بلکہ انسانی تاریخ میں انسان اور جانور کا سب سے قدیم مشترکہ مجسمہ قرار دیا جا رہا ہے۔
12 ہزار سال قدیم خاتون اور ہنس کا مجسمہ دریافت، ماہرینِ آثار قدیمہ دنگ رہ گئے

سائنس کی دنیا میں ایک حیرت انگیز دریافت نے قبل از تاریخ انسانی زندگی، روحانی سوچ اور فنونِ لطیفہ کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ماہرینِ آثار قدیمہ کو 12 ہزار سال قدیم ایک منفرد مجسمہ ملا ہے جس میں ایک خاتون اپنے کمر پر ایک زندہ ہنس اٹھائے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔
یہ مجسمہ نہ صرف اپنی عمر کے اعتبار سے نایاب ہے بلکہ انسانی تاریخ میں انسان اور جانور کا سب سے قدیم مشترکہ مجسمہ قرار دیا جا رہا ہے۔

مجسمے کا مقام اور تاریخی پس منظر

تفصیلات کے مطابق یہ مٹی کا مجسمہ قدیم زمانے کے گاؤں ناطوفین میں دریافت ہوا، جو کبھی آج کے مقبوضہ فلسطین، شام اور اردن کے علاقوں پر مشتمل تھا۔
ناطوفین ثقافت دنیا کی ان اولین تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے جنہوں نے شکار اور کھیتی باڑی کے درمیان عبوری دور میں ایک نئی طرزِ زندگی اپنائی۔
یہ ثقافت اپنی روحانیت، علامتی فنون، اور انسان و جانور کے تعلق میں گہرے عقائد کی وجہ سے مشہور رہی ہے۔

دو انچ کا نازک شاہکار

دریافت ہونے والا یہ مجسمہ صرف دو انچ کا ہے لیکن اس میں ہزاروں سال پرانی تہذیبی کہانیاں اور روحانی فلسفے سمائے ہوئے ہیں۔
اس میں ایک خاتون دکھائی گئی ہے جس نے اپنی کمر پر ایک زندہ ہنس اٹھایا ہوا ہے۔
یہ منظر اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ یہ ہنس شکار کیا ہوا نہیں بلکہ مکمل طور پر زندہ اور متحرک تصور کیا گیا ہے۔

یہ طرزِ اظہار ظاہر کرتا ہے کہ ناطوفین دور میں ہنس نہ صرف غذا اور روزمرہ استعمال کا ذریعہ تھے بلکہ ان کی روحانی اہمیت بھی غیر معمولی تھی۔

ناطوفین تہذیب میں ہنس کی حیثیت

ماہرین کے مطابق ناطوفین ثقافت میں ہنس ایک انتہائی اہم جانور تھا۔
انہیں خوراک، ہڈیوں اور پروں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جو مختلف اشیا بنانے میں مدد دیتے تھے۔
تاہم اس مجسمے کی دریافت نے یہ نظریہ بھی مضبوط کیا ہے کہ اس دور میں ہنس کو مقدس یا علامتی حیثیت بھی حاصل تھی۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ نطوفیان کے ہاں انسان اور جانور کے درمیان روحانی تعلق کا تصور موجود تھا۔
خاتون اور زندہ ہنس کا یہ منظر شاید اسی عقیدے کی علامت تھا ۔ ایک ایسا تعلق جس میں زندگی، بقا اور روحانیت یکجا ہو جاتی ہے۔

یہ دریافت فقط ایک مجسمہ نہیں، بلکہ ایسی کھڑکی ہے جو 12 ہزار سال پرانی دنیا کی سوچ، عقائد اور روزمرہ زندگی کی جھلک دکھاتی ہے۔
خاتون اور زندہ ہنس کا مشترکہ مجسمہ بتاتا ہے کہ اُس دور کے انسان جانوروں کو محض شکار یا خوراک نہیں سمجھتے تھے، بلکہ انہیں ساتھی، علامت، اور فطری نظام کا حصہ مانتے تھے۔

یہ قدیم فن پارہ انسانی تاریخ کے اس دور کو اجاگر کرتا ہے جب روحانیت، فن اور زندگی ایک وحدت کی شکل میں موجود تھے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان نے فطرت کے ساتھ تعلق کو ہمیشہ اہم سمجھا ہے ۔ چاہے وقت، ٹیکنالوجی یا تہذیب کتنی ہی کیوں نہ بدل جائے۔

یہ دریافت آج کی دنیا میں بھی ایک معنی رکھتی ہے، جہاں انسان اور فطرت کا تعلق ٹوٹتا جا رہا ہے۔
شاید ناطوفین تہذیب کا یہ پیغام آج بھی اتنا ہی معتبر ہے کہ انسان فطرت سے جڑا رہے تو زندگی متوازن رہتی ہے۔

عوامی رائے

◼ آثارِ قدیمہ کے شائقین اس دریافت کو "تاریخ کی اہم ترین علامتی نشانی” قرار دے رہے ہیں۔
◼ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد بتاتے ہیں کہ قدیم انسان روحانیت میں آج سے زیادہ آگے تھے۔
◼ سماجی حلقوں میں بحث چل رہی ہے کہ کیا انسان—جانور روحانی تعلق کا تصور جدید ماحولیات کی بنیاد بن سکتا ہے؟
◼ کئی لوگوں نے اسے ’’فن اور فطرت کا حیرت انگیز ملاپ‘‘ قرار دیا ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا یہ قدیم مجسمہ واقعی انسان اور جانور کے درمیان روحانی وابستگی کی علامت ہے؟
کیا آج کے دور میں بھی ایسے تصور کی اہمیت باقی ہے؟

اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں