دوحا:پاکستان شاہینز نے ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز کے انتہائی دلچسپ اور اعصاب شکن فائنل میں بنگلہ دیش اے کو سپر اوور میں شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
مقررہ 20 اوورز میں دونوں ٹیموں کا اسکور برابر رہنے کے بعد مقابلہ سپر اوور تک پہنچ گیا، جہاں پاکستانی نوجوانوں نے شاندار بیٹنگ اور نڈر بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے فیصلہ کن کامیابی حاصل کی۔
پاکستان کی بیٹنگ
دوحا میں کھیلے جانے والے فائنل میں بنگلہ دیش اے نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جس کا فائدہ انہیں فوری طور پر ملا۔
پاکستان شاہینز کی دونوں اوپنرز صرف دو رنز پر پویلین لوٹ گئے۔
یاسر خان اور محمد فائق بغیر کھاتہ کھولے آؤٹ ہوئے، جس سے ٹیم دباؤ میں آگئی۔
ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی دکھانے والے معاذ صداقت نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور 18 گیندوں پر 23 رنز بنائے، جن میں دو چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔
عرفات منہاس نے 25 رنز کی اننگز کھیلی، جبکہ کپتان عرفان خان نیازی صرف 9 رنز بنا سکے۔
اس مشکل صورتحال میں سعد مسعود نے بہترین فائٹنگ اسپرٹ دکھائی اور 26 گیندوں پر 38 رنز کی اننگز کھیل کر ٹیم کے اسکور کو سہارا دیا۔
پاکستان شاہینز نے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 125 رنز بنائے۔
بنگلہ دیش کی جانب سے ریپن منڈول نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں لیں جبکہ رکیب الحسن نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
بنگلہ دیش کی بیٹنگ
126 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بنگلہ دیش نے بھرپور مشکلات کا سامنا کیا۔
صرف 44 رنز پر چار وکٹیں گر جانے کے بعد پاکستان کی پوزیشن بہت مضبوط نظر آئی۔
اوپنر حبیب الرحمان سوہان نے 26 رنز بنائے جبکہ ایس ایم مہروب نے 19 اور رکیب الحسن نے 24 رنز کی اننگز کھیلی۔
ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان آسانی سے فائنل جیت جائے گا، مگر بنگلہ دیش کی آخری وکٹ نے میچ کو غیر معمولی موڑ دے دیا۔
عبدالغفار ثقلین اور ریپن منڈول نے بالترتیب 16 اور 11 رنز بنا کر پاکستان کے خلاف میچ کو برابر کر دیا۔
آخری اوور میں احمد دانیال کی اچھی بولنگ کے باوجود ثقلین نے دباؤ میں بہترین بیٹنگ کی اور اسکور کو برابر کرتے ہوئے مقابلہ سپر اوور میں پہنچا دیا۔
بنگلہ دیش نے 20 اوورز میں 9 وکٹوں پر 125 رنز بنائے۔
احمد دانیال کی تباہ کن بولنگ
سپر اوور میں بنگلہ دیش نے پہلے بیٹنگ کی اور صرف 6 رنز بنا سکی۔
احمد دانیال نے سپر اوور میں بھی شاندار بولنگ کی اور دو وکٹیں اپنے نام کیں۔
پاکستان کی جانب سے سعد مسعود اور معاذ صداقت نے بیٹنگ کی ذمہ داری سنبھالی۔
سعد نے جارحانہ انداز میں 5 رنز بنائے جبکہ معاذ نے ایک رن جوڑ کر ٹیم کو پانچویں گیند پر 8 رنز کا ہدف کامیابی سے حاصل کروا دیا۔
یوں پاکستان شاہینز نے تیسری بار ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز کا ٹائٹل جیت لیا۔
اس سے قبل پاکستان نے 2019 اور 2023 میں بھی یہ ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔
فائنل کے دوران اعلیٰ سطح کی موجودگی
پاکستان شاہینز اور بنگلہ دیش اے کے فائنل میچ کے دوران ایشین کرکٹ کونسل کے سربراہ اور پی سی بی چیئرمین محسن نقوی بھی اسٹیڈیم میں موجود تھے، جس سے اس مقابلے کی اہمیت اور بڑھ گئی۔
پاکستان شاہینز کا یہ ٹائٹل ثابت کرتا ہے کہ ملک میں نوجوان کرکٹرز کا ٹیلنٹ بے مثال ہے۔
ابتدائی دھچکوں کے باوجود ٹیم کا کم بیک اعتماد کا اظہار ہے جبکہ سپر اوور میں دانیال کی بولنگ اور سعد و معاذ کی جرات مندانہ بیٹنگ اس بات کی علامت ہے کہ یہ ٹیم بڑے دباؤ میں بھی بہترین کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ کامیابی پاکستان کے مستقبل کے لیے خوش آئند ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب قومی کرکٹ ٹیم دباؤ اور تبدیلی کے مراحل سے گزر رہی ہے۔
پاکستان شاہینز نے ثابت کر دیا کہ آنے والے برسوں میں یہی نوجوان قومی ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی بنیں گے۔
عوامی رائے
◼ شائقین کرکٹ نے سوشل میڈیا پر اس فتح کو ’’نوجوان شاہینوں کا کارنامہ‘‘ قرار دیا۔
◼ مداحوں نے احمد دانیال کو سپر اوور کا ’’ہیرو‘‘ اور سعد مسعود کو ’’خاموش فائٹر‘‘ کہا۔
◼ کچھ شائقین نے فائنل کے برابر ہونے کو ٹورنامنٹ کی تاریخ کا ’’سب سے دلچسپ لمحہ‘‘ قرار دیا۔
◼ کرکٹ ماہرین نے اسے پاکستان کی ڈیولپمنٹ کرکٹ کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان شاہینز کے یہ نوجوان مستقبل میں قومی ٹیم کو نئی بلندیوں تک لے جائے گے؟
فائنل کا سنسنی خیز اختتام کیسا لگا؟
اپنی رائے کمنٹ میں لازمی بتائیں!
