ممبئی:بالی ووڈ کے عظیم اداکار، کروڑوں دلوں کے محبوب اور بھارتی فلم انڈسٹری کی تاریخ کا ایک سنہرا باب سمجھے جانے والے دھرمیندر دنیا فانی سے رخصت ہو گئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وہ طویل علالت کے بعد 24 نومبر 2025 کو 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
رپورٹس کے مطابق دھرمیندر کو کئی دنوں سے صحت کے شدید مسائل کا سامنا تھا، خاص طور پر سانس لینے میں دشواری کے باعث انہیں ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ان کی طبیعت مسلسل نازک ہوتی چلی گئی اور آخرکار وہ زندگی کی جنگ ہار گئے۔
یہ بھی یاد رہے کہ دو ہفتے قبل جب انہیں سانس کی تکلیف کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تو بھارتی میڈیا نے ان کے انتقال کی جعلی خبریں پھیلا دیں جس پر ان کے اہلِ خانہ نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔
خاندان کی جانب سے واضح اعلان کیا گیا تھا کہ دھرمیندر زندگی سے چمٹے ہوئے ہیں اور میڈیا غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ سے گریز کرے۔
فلمی سفر
دھرمیندر کا فلمی کیریئر 1960 میں فلم ’دل بھی تیرا ہم بھی تیرے‘ سے شروع ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے چھ دہائیوں سے زائد عرصے میں وہ کردار ادا کیے جو بالی ووڈ کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
ان کی فلموں میں شعلے، یادوں کی بارات، میرا گاؤں میرا دیش، پھول اور پتھر سمیت درجنوں سپر ہٹ فلمیں شامل ہیں، جنہوں نے انہیں ’’ہی مین آف انڈیا‘‘ کا خطاب بھی دلوایا۔
دھرمیندر کا آخری فلمی ظہور آنے والی فلم ’اکیس‘ میں تھا، جو 25 دسمبر کو ریلیز کے لیے تیار ہے۔ ان کی وفات نے اس فلم کے چاہنے والوں کو گہرے دکھ میں مبتلا کر دیا ہے۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں 2012 میں حکومتِ ہند نے انہیں پدم بھوشن ایوارڈ سے نوازا، جو بھارتی سینما کے لیے ان کی اہمیت اور عظمت کا بڑا ثبوت ہے۔
دو شادیاں اور محبت سے بھرپور سفر
پنجاب کے ضلع لدھیانہ میں کیول کرشن دیول کے نام سے پیدا ہونے والے دھرمیندر نے 19 برس کی عمر میں پرکاش کور سے شادی کی۔
بعد ازاں وہ اپنی ہم عصر اور مقبول اداکارہ ہیما مالنی کے ساتھ ازدواجی زندگی میں منسلک ہوئے، جو خود بھی بھارتی فلم انڈسٹری کی صفِ اول کی اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر فعال، سادگی اور مثبت سوچ کے علمبردار
زندگی کے آخری برسوں میں بھی دھرمیندر نے اپنے مداحوں سے رابطہ کم نہیں ہونے دیا۔
وہ مختلف ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے کاشتکاری، فٹنس، صحت مند زندگی اور مثبت طرزِ فکر کے بارے میں مشورے دیتے رہتے تھے، جنہیں سوشل میڈیا پر بے پناہ محبت ملتی تھی۔
دھرمیندر کی موت صرف ایک اداکار کا انتقال نہیں، بلکہ ایک عہد کا اختتام ہے۔ وہ ایسے فنکار تھے جنہوں نے بھارتی سینما کو نہ صرف نئی بلندیوں تک پہنچایا بلکہ کردارنگاری میں جو تہذیب، وقار، شائستگی اور خلوص وہ لائے، وہ آج کے نئے دور میں کم کم دکھائی دیتا ہے۔
ان کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے دو نسلوں کو اپنی اداکاری، سادگی اور حقیقت سے قریب کرداروں سے متاثر کیا۔
بالخصوص شعلے اور میرا گاؤں میرا دیش جیسے کردار آج بھی ثقافتی یادداشت کا حصہ ہیں۔
ان کا اس دنیا سے چلا جانا بھارتی فلم انڈسٹری کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے اور یہ خلا شاید کبھی پورا نہ ہو سکے۔
عوامی رائے
◼ مداحوں نے سوشل میڈیا پر دھرمیندر کی تصاویر اور ڈائیلاگز شیئر کرتے ہوئے انہیں شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
◼ فلمی ناقدین نے ان کی موت کو ’’بھارت کے کلاسیکی سینما کا جنازہ‘‘ قرار دیا۔
◼ کئی پرستاروں نے کہا کہ وہ نہ صرف بہترین اداکار تھے بلکہ بہترین انسان بھی تھے، جو سادگی اور مثبتیت کا درس دیتے تھے۔
◼ کچھ لوگوں نے بھارتی میڈیا کی جھوٹی خبریں پھیلانے کی روش کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ ایسے اداروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا دھرمیندر واقعی بھارتی سینما کے سب سے بڑے اسٹارز میں سے ایک تھے؟
کیا ان کی وفات فلمی دنیا کے لیے ایک ایسا نقصان ہے جو کبھی پورا نہیں ہو سکتا؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں!
