Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

تنقید، آنسو اور ہمت ،ٹک ٹاکر وردہ ملک کی کہانی سامنے آگئی

گالیاں پڑتی ہیں مگر رکوں گی نہیں 15 منٹ کی لائیو آمدن 1 لاکھ روپے سے زائد
تنقید، آنسو اور ہمت ،ٹک ٹاکر وردہ ملک کی کہانی سامنے آگئی

لاہور: ٹک ٹاک کی مقبول انفلوئنسر وردہ ملک ایک نجی پوڈ کاسٹ میں جذباتی ہو کر رو پڑیں جب ان سے ان کی ویڈیوز، معاشرتی تنقید اور خاندانی مخالفت کے بارے میں سوالات کیے گئے۔ ریحان طارق کے پوڈ کاسٹ میں کھل کر بات کرنے والی وردہ نے بتایا کہ معاشرہ اچھا کریں یا برا، گالیاں ہی دیتا ہے مگر وہ اپنا کام جاری رکھیں گی کیونکہ گھر کی مجبوریاں انہیں پیچھے مڑنے نہیں دیتیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ لائیو سیشن کے صرف 15 سے 20 منٹ میں وہ 1 لاکھ 20 ہزار روپے تک کما لیتی ہیں مگر اس کے ساتھ ہی فالوورز کی طرف سے بے ہودہ خواہشات اور گھٹیا کمنٹس کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

وردہ ملک نے بتایا کہ اگر وہ ٹک ٹاک نہ کرتیں تو بھائی کی شادی، گھر کا خرچ اور والد کا بائی پاس آپریشن کیسے ہوتا؟ ان کے پاس دو ہی راستے تھے یا کسی امیر مرد سے شادی کر کے اس کا ظلم سہتیں یا خود باہر نکل کر محنت سے پیسہ کماتیں۔ انہوں نے دوسرا راستہ چنا اور آج اسی کی بدولت گھر چل رہا ہے۔ اشکبار آنکھوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ایک شادی میں ان کے بارے میں جو جملے استعمال کیے گئے وہ ناقابل برداشت تھے مگر پھر بھی وہ ہمت نہیں ہاریں گی۔ خاندان والوں کی شدید مخالفت کے باوجود وہ کام جاری رکھیں گی کیونکہ ذمہ داریاں انہیں روکتی نہیں۔

انہوں نے کھل کر بتایا کہ لائیو کے دوران جو گفٹس ملتے ہیں ان کے پیچھے اکثر فالوورز کی گھٹیا خواہشات ہوتی ہیں مگر وہ اپنی حدود میں رہتے ہوئے کمائی کرتی ہیں۔ وردہ نے یہ بھی کہا کہ معاشرہ انہیں ہر وقت گالیاں دیتا ہے اور یہ بات کسی بھی باعزت انسان کو اچھی نہیں لگتی مگر وہ پھر بھی رک نہیں رہی کیونکہ گھر کی مجبوریاں اسے آگے بڑھنے پر مجبور کرتی ہیں۔

پوڈ کاسٹ کے نشر ہونے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر دو دھڑوں میں بحث چھڑ گئی۔ ایک گروپ نے وردہ ملک کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ خود ہی متنازع ویڈیوز بناتی ہیں تو گالیاں کیوں برداشت نہیں کرسکتیں جبکہ دوسرے گروپ نے اینکر ریحان طارق کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ ایک لڑکی کی مجبوریوں کو اس طرح کھنگالنا اور رُلانا غیر اخلاقی ہے۔

 وردہ ملک کا پوڈ کاسٹ اور معاشرتی تضادات کی عکاسی

یہ انٹرویو پاکستانی معاشرے کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے جہاں ایک طرف لڑکیوں کو گھر کی ذمہ داریاں نبھانے پر داد دی جاتی ہے مگر دوسری طرف وہی معاشرہ انہیں سوشل میڈیا پر کام کرنے کی وجہ سے گالیاں اور طعنے دیتا ہے۔ وردہ کی 15 منٹ میں 1 لاکھ 20 ہزار کی کمائی نے سب کو حیران کر دیا مگر ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا ہمارا معاشرہ عورت کی مالی خودمختاری کو قبول کرنے کو تیار ہے؟ ان کا رونا دراصل معاشرے کی بے حسی کا آئینہ ہے جو مجبوری میں کام کرنے والی لڑکی کو بھی نہیں بخشتا۔ پوڈ کاسٹ نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا ہم واقعی باعزت روزگار اور عورت کی محنت کا احترام کرنا جانتے ہیں یا صرف روایتی دائرے میں رہنے والی لڑکی کو ہی "اچھی” سمجھتے ہیں؟

عوامی رائے سوشل میڈیا پر شدید تقسیم کی شکار ہے۔ ایک بڑا گروپ وردہ کی ہمت اور گھر چلانے کی ذمہ داری کی داد دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ "وہ باعزت روزگار کر رہی ہے، گالیاں دینے والے شرم کریں” جبکہ دوسرا طبقہ ان کی ویڈیوز کو متنازع قرار دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ "خود ہی توجہ حاصل کرنے والی ویڈیوز بناتی ہیں تو گالیاں کیوں برداشت نہیں ہوتیں؟”۔ کچھ لوگ اینکر کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ ایک لڑکی کو اس طرح رُلانا غیر ضروری تھا۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا وردہ ملک کے آنسو محض جذباتی لمحہ تھے یا معاشرتی ظلم کی تصویر؟
کیا خواتین انفلوئنسرز کو اپنے کام کے لیے زیادہ احترام ملنا چاہیے؟
یا سوشل میڈیا پر آنے کا مطلب ہے کہ تنقید برداشت کرنا ناگزیر ہے؟

اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں